مصور اور مجسمہ ساز ایک نظر میں
| تھامس گینزبرو (Thomas Gainsborough) 1727 تا 1788 | پورٹریٹ بنانے والے مصور، جو اکثر اپنے کرداروں کو دیہی یا باغ کے مناظر میں دکھاتے تھے۔ |
|---|---|
| ڈیوڈ ایلن (David Allan) 1744 تا 1796 | اسکاٹ لینڈ کے مصور، جو سب سے زیادہ پورٹریٹ کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی ایک مشہور تصویر The Origin of Painting (مصوری کا آغاز) ہے۔ |
| جوزف ٹرنر (Joseph Turner) 1775 تا 1851 | جدید انداز رکھنے والے بہت بااثر قدرتی مناظر کے مصور۔ انہیں قدرتی مناظر کی مصوری کو زیادہ عزت دلانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ |
| جان کانسٹیبل (John Constable) 1776 تا 1837 | قدرتی مناظر کے مصور، جو انگلینڈ کے مشرق میں سفک اور ایسیکس (Essex) کی سرحد پر واقع ڈیڈم ویل (Dedham Vale) کے مناظر کے لیے مشہور ہیں۔ |
| پری رافیلائٹس (The Pre-Raphaelites) | 19ویں صدی کے دوسرے نصف کی ایک اہم فنی تحریک۔ اس کے مصور مذہبی یا ادبی موضوعات چنتے اور انہیں باریک تفصیل اور شوخ رنگوں میں بناتے تھے۔ اس کے نمایاں ارکان دانتے گیبریل روزیٹی (Dante Gabriel Rossetti)، ہولمین ہنٹ (Holman Hunt) اور سر جان ملے (Sir John Millais) تھے۔ |
| سر جان لیوری (Sir John Lavery) 1856 تا 1941 | شمالی آئرلینڈ کے ایک بہت کامیاب پورٹریٹ مصور۔ جن لوگوں کی انہوں نے تصویریں بنائیں ان میں شاہی خاندان بھی شامل تھا۔ |
| ہنری مور (Henry Moore) 1898 تا 1986 | انگلینڈ کے مجسمہ ساز، جو کانسی کے بڑے تجریدی مجسموں کے لیے مشہور ہیں۔ |
| جان پیٹس (John Petts) 1914 تا 1991 | ویلز کے فنکار، جو کندہ کاری (اینگریونگ) اور رنگین شیشے کے کام کے لیے مشہور ہیں۔ جب 1963 میں امریکہ کے شہر برمنگھم، الاباما (Birmingham, Alabama) میں ایک چرچ پر بم حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے لیے رنگین شیشے کی ایک کھڑکی ڈیزائن کی، جس کی رقم ویلز کے ہزاروں لوگوں کے چندے سے جمع ہوئی۔ |
| لوسیان فرائیڈ (Lucian Freud) 1922 تا 2011 | جرمنی میں پیدا ہونے والے برطانوی مصور، جو زیادہ تر پورٹریٹ کے لیے مشہور ہیں۔ |
| ڈیوڈ ہاکنی (David Hockney) پیدائش 1937 | 1960 کی دہائی کی پاپ آرٹ (pop art) تحریک کی ایک اہم شخصیت، اور آج بھی بااثر۔ |