ہر سال ستمبر میں ہفتے کی ایک رات لندن کا رائل البرٹ ہال (Royal Albert Hall) لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے، جو جھنڈے لہراتے ہوئے آرکسٹرا کے ساتھ Land of Hope and Glory گا رہے ہوتے ہیں۔ اس "دوسرے قومی ترانے" کی دھن سو سال سے بھی پہلے ووسٹر (Worcester) کے ایک موسیقار کے مارچ (فوجی طرز کی دھن) کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ وہ موسیقار کون تھا؟
یہ باب ہینڈ بک کے باب 4 کے حصے "فنون اور ثقافت" (Arts and culture) کے مطابق چلتا ہے۔ کسی اور حصے میں اتنے زیادہ نام اور تخلیقات اکٹھے نہیں: موسیقار، ڈرامے، مصور، عمارتیں، ڈیزائنرز، ادیب اور شاعر۔ امتحان کے سوال اکثر پوچھتے ہیں کہ کس نے کیا لکھا یا بنایا، اس لیے نیچے زیادہ تر حصوں میں ناموں، شعبوں اور مشہور ترین تخلیقات کا ایک فوری جدول دیا گیا ہے۔ فلم اور برطانوی مزاح "تفریح" (Leisure) والے حصے میں آتے ہیں، اس لیے وہ آپ کو تفریح اور دیکھنے کی جگہیں میں ملیں گے۔
موسیقی: پرومز سے بیٹلز تک
برطانیہ میں موسیقی کا دائرہ بہت وسیع ہے، کلاسیکی سے لے کر جدید پاپ تک، اور پورے ملک میں کنسرٹ کی جگہیں اور موسیقی کے پروگرام ہوتے ہیں۔
کلاسیکی موسیقی کا سب سے مشہور پروگرام پرومز (The Proms) ہے: ہر گرمیوں میں آٹھ ہفتے تک کئی جگہوں پر آرکسٹرا کے کنسرٹ ہوتے ہیں، جن میں سے ایک لندن کا رائل البرٹ ہال (Royal Albert Hall) ہے۔ 1927 سے یہ سیزن بی بی سی (BBC) منعقد کرتا ہے۔ آخری کنسرٹ، یعنی "پرومز کی آخری رات" (Last Night of the Proms)، سب سے مشہور ہے، اور باقی کنسرٹوں کی طرح یہ بھی ٹیلی وژن پر دکھایا جاتا ہے۔
"پرومز" دراصل "پرومینیڈ کنسرٹس" (promenade concerts) کا مختصر نام ہے، اور promenade کا مطلب ہے ٹہلنا۔ جب 1895 میں یہ کنسرٹ شروع ہوئے تو ہال کے بیچ کی کرسیاں ہٹا دی گئیں، تاکہ لوگ سستا ٹکٹ خرید کر کھڑے ہو کر یا ٹہلتے ہوئے موسیقی سن سکیں۔ آج بھی رائل البرٹ ہال کا درمیانی حصہ کھڑے ہونے والے ٹکٹ رکھنے والے "پرومرز" (Prommers) کے لیے رکھا جاتا ہے۔
کلاسیکی موسیقار ایک نظر میں
ہمارے شروع والے سوال کا جواب ایلگر (Elgar) ہے۔ سات موسیقاروں کو جاننا ضروری ہے، اور سب سے عام سوال یہ ہوتا ہے کہ کون سی دھن کس کی ہے:
ہنری پرسل (Henry Purcell) 1659 تا 1695
ویسٹ منسٹر ایبی (Westminster Abbey) میں آرگن بجانے والے (آرگنسٹ)۔ ان کے کام میں چرچ کی موسیقی اور اوپیرا شامل تھے، اور انہوں نے ایسی آواز پیدا کی جو صاف طور پر برطانوی تھی اور یورپ کی باقی موسیقی سے مختلف تھی۔ برطانوی موسیقاروں پر ان کا اثر آج بھی سنا جا سکتا ہے۔
جارج فریڈرک ہینڈل (George Frederick Handel) 1685 تا 1759
جرمنی میں پیدا ہوئے، برطانیہ کو اپنا گھر بنایا اور 1727 میں برطانوی شہری بن گئے۔ جارج اول (George I) کے لیے انہوں نے Water Music (پانی کی موسیقی) لکھی، اور جارج اول کے بیٹے جارج دوم (George II) کے لیے Music for the Royal Fireworks (شاہی آتش بازی کی موسیقی)۔ کوائر (گانے والوں کی ٹولیاں) ان کا اوراٹوریو (کوائر اور آرکسٹرا کے لیے ایک لمبی تخلیق) Messiah اکثر پیش کرتے ہیں، خاص طور پر ایسٹر کے آس پاس۔
گستاف ہولسٹ (Gustav Holst) 1874 تا 1934
The Planets (سیارے) لکھی، جس کا ہر حصہ نظامِ شمسی کے ایک سیارے کے بارے میں ہے۔ انہوں نے اس کے ایک حصے Jupiter (مشتری) کو I vow to thee my country کی دھن بنا دیا، جو برطانوی گرجا گھروں میں اکثر گایا جانے والا ایک مذہبی گیت (ہِم) ہے۔
سر ایڈورڈ ایلگر (Sir Edward Elgar) 1857 تا 1934
انگلینڈ کے شہر ووسٹر (Worcester) میں پیدا ہوئے۔ وہ سب سے زیادہ Pomp and Circumstance Marches کے لیے مشہور ہیں۔ مارچ نمبر 1، جسے Land of Hope and Glory کہا جاتا ہے، عام طور پر پرومز کی آخری رات بجایا جاتا ہے۔
رالف وان ولیمز (Ralph Vaughan Williams) 1872 تا 1958
آرکسٹرا اور کوائر کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ ان کی موسیقی پر روایتی انگریزی لوک گیتوں کا گہرا اثر ہے۔
سر ولیم والٹن (Sir William Walton) 1902 تا 1983
ان کا کام فلموں کی موسیقی سے لے کر اوپیرا تک پھیلا ہوا ہے، اور انہوں نے جارج ششم اور الزبتھ دوم کی تاج پوشی کے لیے مارچ لکھے۔ ان کی مشہور ترین تخلیقات Façade ہے، جو بعد میں بیلے بنی، اور Belshazzar's Feast، جو ایک بڑے کوائر کے لیے لکھی گئی۔
بینجمن برٹن (Benjamin Britten) 1913 تا 1976
سب سے بڑھ کر اپنے اوپیرا کے لیے مشہور ہیں، جیسے Peter Grimes اور Billy Budd۔ ان کی تخلیق A Young Person's Guide to the Orchestra (نوجوانوں کے لیے آرکسٹرا کا تعارف) پرسل کی ایک دھن لے کر اس کے ذریعے آرکسٹرا کے ہر حصے کو باری باری نمایاں کرتی ہے۔ انہوں نے سفک (Suffolk) میں آلڈبرا فیسٹیول (Aldeburgh festival) بھی شروع کیا، جو آج بھی ایک بڑا بین الاقوامی پروگرام ہے۔
ہینڈل کی شاہی موسیقی شروع ہی سے بہت مقبول ہوئی۔ 1717 کی گرمیوں کی ایک شام جارج اول شاہی کشتی میں دریائے ٹیمز پر سفر کر رہے تھے، اور ایک دوسری کشتی پر تقریباً 50 موسیقار ہینڈل کی Water Music بجا رہے تھے؛ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کو یہ اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے کم از کم تین بار بجوایا۔ 1749 میں جب Royal Fireworks کی موسیقی کی عوامی ریہرسل ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ دس ہزار سے زیادہ لوگ آئے، اور لندن برج (London Bridge) پر گھوڑا گاڑیاں تین گھنٹے پھنسی رہیں۔
کوئز
Since 1927, which organisation has run the Proms, the summer season of orchestral concerts?
سوال اردو میں1927 سے کون سا ادارہ پرومز چلا رہا ہے، یعنی گرمیوں میں آرکسٹرا کے کنسرٹوں کا سیزن؟
بی بی سی 1927 سے پرومز منعقد کر رہا ہے، اسی لیے یہ کنسرٹ ٹی وی پر آتے ہیں۔ نیشنل ٹرسٹ (National Trust) تاریخی عمارتوں اور دیہی علاقوں کی دیکھ بھال کرتا ہے؛ اس سے آپ اگلے باب میں ملیں گے۔
کوئز
Which TWO pieces of music were written by George Frederick Handel?
سوال اردو میںجارج فریڈرک ہینڈل نے موسیقی کی کون سی دو تخلیقات لکھیں؟
ہینڈل نے Water Music جارج اول کے لیے اور Music for the Royal Fireworks جارج دوم کے لیے لکھی۔ The Planets ہولسٹ کی ہے، اور Pomp and Circumstance Marches ایلگر کے ہیں۔ یاد رکھنے کا طریقہ: ہینڈل کی دونوں تخلیقات کسی بادشاہ کے لیے بنیں، ایک پانی پر اور ایک آتش بازی کے ساتھ۔
کوئز
Which composer wrote the opera Peter Grimes and started the Aldeburgh festival in Suffolk?
سوال اردو میںکس موسیقار نے اوپیرا Peter Grimes لکھا اور سفک میں آلڈبرا فیسٹیول شروع کیا؟
برٹن اپنے اوپیرا کے لیے مشہور ہیں، خاص طور پر Peter Grimes اور Billy Budd، اور انہوں نے آلڈبرا فیسٹیول کی بنیاد رکھی۔ ان کی Young Person's Guide to the Orchestra پرسل کی موسیقی پر بنی ہے، اس لیے یہ دونوں نام اکثر ایک ہی سوال میں آ جاتے ہیں۔
پاپ موسیقی، کنسرٹ کی جگہیں اور فیسٹیول
20ویں صدی سے برطانیہ میں لوک (فوک)، جاز، پاپ اور راک موسیقی خوب پھلی پھولی ہے۔ اس کی تین وجوہات ہیں کہ برطانوی پاپ نے باقی دنیا پر اتنا بڑا اثر کیوں ڈالا: انگریزی دنیا بھر میں بولی جاتی ہے، برطانیہ کے بہت سے ملکوں سے ثقافتی رشتے ہیں، اور برطانوی لوگ تخلیقی اور اختراع پسند ہیں۔
1960 کی دہائی سے پاپ موسیقی عالمی ثقافت کو برطانیہ کے اہم ترین تحفوں میں سے ایک رہی ہے۔ بیٹلز (The Beatles) اور رولنگ اسٹونز (The Rolling Stones) آج بھی ملک کے اندر اور باہر موسیقی پر اثر ڈالتے ہیں (دیکھیں 1945 کے بعد کا برطانیہ)۔ بعد میں 1970 کی دہائی کے آخر میں پنک (Punk) تحریک آئی، اور 1990 کی دہائی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے بینڈ (بوائے بینڈز اور گرل بینڈز)۔
بڑی جگہیں: لندن میں ویمبلے اسٹیڈیم (Wembley Stadium) اور دی او ٹو (The O2)، جو شہر کے جنوب مشرق میں گرینچ (Greenwich) میں ہے؛ گلاسگو (Glasgow) میں ایس ای سی سینٹر (SEC Centre)۔
گرمیوں کے فیسٹیول ہر سال پورے برطانیہ میں ہوتے ہیں۔ گلاسٹنبری (Glastonbury) سب سے مشہور ہے؛ دوسرے ہیں آئل آف وائٹ فیسٹیول (Isle of Wight Festival) اور ڈانس میوزک کا فیسٹیول کریم فیلڈز (Creamfields)۔ بڑے نامور بینڈ نئے فنکاروں کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر آتے ہیں۔
ویلز کا نیشنل آئسٹیڈفوڈ (National Eisteddfod of Wales): موسیقی، رقص، فن اور نئی پرفارمنسز کا ایک سالانہ ثقافتی میلہ، جو زیادہ تر ویلش زبان میں ہوتا ہے۔ اس میں ویلش زبان کی شاعری کے کئی اہم مقابلے ہوتے ہیں۔
مرکری پرائز (Mercury Prize): ہر سال ستمبر میں برطانیہ اور آئرلینڈ کے بہترین البم کو دیا جاتا ہے۔
برٹ ایوارڈز (Brit Awards): ایک سالانہ ایوارڈ شو جس میں کئی زمرے ہوتے ہیں، مثلاً بہترین برطانوی سولو گلوکار اور بہترین برطانوی گروپ۔
تھیٹر: ویسٹ اینڈ، دی ماؤس ٹریپ اور پینٹومائم
برطانیہ کے زیادہ تر قصبوں اور شہروں میں تھیٹر ہے، بڑے تھیٹروں سے لے کر چھوٹے اسٹوڈیوز تک۔ تھیٹر مقامی زندگی کا اہم حصہ ہیں، جہاں پیشہ ور اور شوقیہ دونوں طرح کی کمپنیاں ڈرامے پیش کرتی ہیں۔ لندن کا ویسٹ اینڈ (West End)، جسے "تھیٹر لینڈ" (Theatreland) بھی کہتے ہیں، خاص طور پر مشہور ہے۔ ڈیم اگاتھا کرسٹی (Dame Agatha Christie) کا قتل کی گتھی والا ڈراما The Mousetrap (چوہے دان) 1952 سے ویسٹ اینڈ میں اسٹیج پر چل رہا ہے۔ تاریخ میں کسی اور شو کا پہلا مسلسل دور اتنا لمبا نہیں رہا۔
The Mousetrap کے ہر شو کے آخر میں اداکار ناظرین سے درخواست کرتے ہیں کہ قاتل کا نام راز رکھیں۔ 1974 میں یہ ڈراما ایمبیسیڈرز تھیٹر (Ambassadors Theatre) سے ساتھ والے سینٹ مارٹنز تھیٹر (St Martin's Theatre) میں منتقل ہوا؛ چونکہ بیچ میں کوئی وقفہ نہیں آیا، اس لیے اسے اب بھی وہی مسلسل دور مانا جاتا ہے۔
میوزیکل: گلبرٹ اور سلیوان سے لائیڈ ویبر تک
برطانیہ میں موسیقی والے تھیٹر (میوزیکل) کی مضبوط روایت ہے۔ 19ویں صدی میں گلبرٹ اور سلیوان (Gilbert and Sullivan) نے بہت سے مزاحیہ اوپیرا لکھے جن میں اپنے زمانے کی مقبول ثقافت اور سیاست کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ مثالیں ہیں HMS Pinafore، The Pirates of Penzance اور The Mikado۔ پیشہ ور اور شوقیہ گروپ آج بھی انہیں پیش کرتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر اوپیرا پہلی بار لندن کے سیوائے تھیٹر (Savoy Theatre) میں پیش ہوئے، جو 1881 میں کھلا اور دنیا کی پہلی عوامی عمارت تھی جو مکمل طور پر بجلی کی روشنی سے روشن تھی۔
ایک زیادہ حالیہ نام موسیقار اینڈریو لائیڈ ویبر (Andrew Lloyd Webber) کا ہے، جن کے میوزیکل پوری دنیا میں کامیاب ہوئے۔ گیت نگار ٹم رائس (Tim Rice) کے ساتھ مل کر انہوں نے Jesus Christ Superstar اور Evita لکھے، اور ان کے دوسرے شوز میں Cats اور The Phantom of the Opera شامل ہیں۔
گلبرٹ اور سلیوان کے The Mikado کا 1885 کا ایک پوسٹر، جس میں کہانی کی تین بہنیں دکھائی گئی ہیں۔
National Library of Scotland، Weir Collection، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
پینٹومائم اور ایڈنبرا فرنج
ایک بہت ہی برطانوی روایت پینٹومائم (pantomime) ہے۔ کرسمس پر بہت سے تھیٹر "پینٹو" پیش کرتے ہیں: گانوں والا ایک ہلکا پھلکا مزاحیہ ڈراما، جو کسی پریوں کی کہانی پر مبنی ہوتا ہے اور پورے خاندان کے لیے ہوتا ہے۔ ایک روایتی کردار "ڈیم" (the Dame) ہے، یعنی ایک بوڑھی عورت جس کا کردار ایک مرد ادا کرتا ہے۔ اکثر ایک پینٹومائم گھوڑا یا گائے بھی ہوتی ہے، جسے دو اداکار ایک ہی لباس میں مل کر ادا کرتے ہیں۔ پینٹومائم میں ناظرین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ زور زور سے حصہ لیں: جب ولن چپکے سے ہیرو کے پیچھے آتا ہے تو سب چلاتے ہیں: "He's behind you!" (وہ تمہارے پیچھے ہے!)
ہر گرمیوں میں اسکاٹ لینڈ کا دارالحکومت ایڈنبرا فیسٹیول (Edinburgh Festival) کی میزبانی کرتا ہے، جو دراصل فنون اور ثقافت کے کئی میلوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں سب سے بڑا اور مشہور ایڈنبرا فیسٹیول فرنج (Edinburgh Festival Fringe)، یا صرف "فرنج"، ہے۔ اس میں زیادہ تر تھیٹر اور مزاح (کامیڈی) ہوتا ہے، اور بہت سے شوز تجرباتی ہوتے ہیں۔ برطانوی مزاح اور ٹی وی کامیڈی کی تاریخ کے لیے دیکھیں تفریح اور دیکھنے کی جگہیں۔
فرنج بغیر دعوت کے شروع ہوا۔ جب 1947 میں پہلی بار ایڈنبرا انٹرنیشنل فیسٹیول (Edinburgh International Festival) ہوا تو آٹھ تھیٹر گروپ، جنہیں دعوت نہیں دی گئی تھی، پھر بھی آ گئے اور فیسٹیول کے "فرنج"، یعنی کنارے، پر اپنے شو پیش کیے۔ اصطلاح "فرنج تھیٹر" (fringe theatre)، یعنی چھوٹا تجرباتی تھیٹر، بھی یہیں سے آئی۔
تھیٹر کے سب سے بڑے انعامات لارنس اولیویئر ایوارڈز (Laurence Olivier Awards) ہیں، جو ہر سال لندن میں دیے جاتے ہیں، اور ان میں بہترین ہدایت کار، بہترین اداکار اور بہترین اداکارہ جیسے زمرے ہوتے ہیں۔ یہ ایوارڈز سر لارنس اولیویئر (بعد میں لارڈ اولیویئر) کے نام پر ہیں، جو ایک برطانوی اداکار تھے اور سب سے بڑھ کر شیکسپیئر (Shakespeare) کے ڈراموں میں اپنے بہت سے کرداروں کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Agatha Christie's play The Mousetrap opened in the West End in 1952, and no show in history has had a longer first run.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: اگاتھا کرسٹی کا ڈراما The Mousetrap 1952 میں ویسٹ اینڈ میں شروع ہوا، اور تاریخ میں کسی شو کا پہلا مسلسل دور اس سے لمبا نہیں رہا۔
درست (TRUE)۔ The Mousetrap 1952 سے چل رہا ہے، اور یہ کسی بھی شو کا سب سے لمبا پہلا دور ہے۔ تین باتیں یاد رکھیں: کرسٹی، ویسٹ اینڈ، 1952۔
کوئز
Which TWO of these were written by Gilbert and Sullivan?
سوال اردو میںان میں سے کون سی دو تخلیقات گلبرٹ اور سلیوان نے لکھیں؟
HMS Pinafore اور The Mikado گلبرٹ اور سلیوان کے 19ویں صدی کے مزاحیہ اوپیرا ہیں۔ Cats اور Evita اینڈریو لائیڈ ویبر کے 20ویں صدی کے میوزیکل ہیں۔ انہیں الگ کرنے کا آسان طریقہ: پرانے والے گلبرٹ اور سلیوان کے ہیں، نئے والے لائیڈ ویبر کے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
The Edinburgh Festival Fringe takes place every summer, and most of its shows are theatre and comedy.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: ایڈنبرا فیسٹیول فرنج (Edinburgh Festival Fringe) ہر سال گرمیوں میں ہوتا ہے، اور اس کے زیادہ تر شو تھیٹر اور مزاح کے ہوتے ہیں۔
درست (TRUE): فرنج (the Fringe) ایڈنبرا فیسٹیول کا سب سے بڑا اور سب سے مشہور حصہ ہے، جو ہر سال گرمیوں میں اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت میں ہوتا ہے۔ اس کے زیادہ تر شو تھیٹر اور مزاح کے ہوتے ہیں، اور ان میں سے بہت سے تجرباتی ہوتے ہیں۔
فن: شاہی پورٹریٹ سے ٹرنر پرائز تک
قرونِ وسطیٰ میں زیادہ تر فن کا موضوع مذہبی تھا: گرجا گھروں کی دیواروں پر بنی تصویریں، اور مذہبی کتابوں میں تصویریں۔ اس کا بڑا حصہ اصلاحِ مذہب (Reformation) کے بعد تباہ ہو گیا، لیکن پھر امیر خاندانوں نے دوسری طرح کی پینٹنگز اور مجسمے جمع کرنا شروع کیے۔
16ویں اور 17ویں صدی میں برطانیہ میں کام کرنے والے بہت سے مصور دوسرے ملکوں سے آئے تھے۔ مثالیں ہیں ہانس ہولبین (Hans Holbein)، جنہوں نے ہنری ہشتم (Henry VIII) کی تصویر بنائی (دیکھیں ٹیوڈر خاندان)، اور سر انتھونی وین ڈائیک (Sir Anthony Van Dyck)، جنہوں نے چارلس اول (Charles I) کی تصویر بنائی (دیکھیں اسٹورٹ خاندان)۔ صرف 18ویں صدی سے برطانیہ کے اپنے فنکار، خاص طور پر پورٹریٹ (کسی شخص کی تصویر) اور قدرتی مناظر (لینڈ اسکیپ) کے مصور، مشہور ہونے لگے۔
برطانوی اور بین الاقوامی فنکاروں کا کام آپ ملک بھر کی گیلریوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ لندن میں نیشنل گیلری (The National Gallery)، ٹیٹ ماڈرن (Tate Modern) اور ٹیٹ برٹن (Tate Britain) ہیں؛ کارڈف میں نیشنل میوزیم (National Museum) ہے؛ اور ایڈنبرا میں اسکاٹش نیشنل گیلری (Scottish National Gallery) ہے۔
ٹرنر پرائز (Turner Prize) 1984 میں عصری فن (یعنی آج کے دور میں بنایا جانے والا فن) کو سراہنے کے لیے شروع ہوا۔ اس کا نام مصور جوزف ٹرنر (Joseph Turner) کے نام پر ہے۔ ہر سال چار تخلیقات مختصر فہرست میں آتی ہیں اور ٹیٹ برٹن میں نمائش کے لیے رکھی جاتی ہیں، پھر فاتح کا اعلان ہوتا ہے۔ اسے بصری فن کے سب سے معتبر انعامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ماضی کے فاتحین میں ڈیمین ہرسٹ (Damien Hirst) اور رچرڈ رائٹ (Richard Wright) شامل ہیں۔ خود ٹرنر بھی بینک آف انگلینڈ (Bank of England) کے £20 کے پلاسٹک نوٹ پر، جو 2020 سے جاری ہوا، اپنی ایک پینٹنگ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
مصور اور مجسمہ ساز ایک نظر میں
تھامس گینزبرو (Thomas Gainsborough) 1727 تا 1788
پورٹریٹ بنانے والے مصور، جو اکثر اپنے کرداروں کو دیہی یا باغ کے مناظر میں دکھاتے تھے۔
ڈیوڈ ایلن (David Allan) 1744 تا 1796
اسکاٹ لینڈ کے مصور، جو سب سے زیادہ پورٹریٹ کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی ایک مشہور تصویر The Origin of Painting (مصوری کا آغاز) ہے۔
جوزف ٹرنر (Joseph Turner) 1775 تا 1851
جدید انداز رکھنے والے بہت بااثر قدرتی مناظر کے مصور۔ انہیں قدرتی مناظر کی مصوری کو زیادہ عزت دلانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔
جان کانسٹیبل (John Constable) 1776 تا 1837
قدرتی مناظر کے مصور، جو انگلینڈ کے مشرق میں سفک اور ایسیکس (Essex) کی سرحد پر واقع ڈیڈم ویل (Dedham Vale) کے مناظر کے لیے مشہور ہیں۔
پری رافیلائٹس (The Pre-Raphaelites)
19ویں صدی کے دوسرے نصف کی ایک اہم فنی تحریک۔ اس کے مصور مذہبی یا ادبی موضوعات چنتے اور انہیں باریک تفصیل اور شوخ رنگوں میں بناتے تھے۔ اس کے نمایاں ارکان دانتے گیبریل روزیٹی (Dante Gabriel Rossetti)، ہولمین ہنٹ (Holman Hunt) اور سر جان ملے (Sir John Millais) تھے۔
سر جان لیوری (Sir John Lavery) 1856 تا 1941
شمالی آئرلینڈ کے ایک بہت کامیاب پورٹریٹ مصور۔ جن لوگوں کی انہوں نے تصویریں بنائیں ان میں شاہی خاندان بھی شامل تھا۔
ہنری مور (Henry Moore) 1898 تا 1986
انگلینڈ کے مجسمہ ساز، جو کانسی کے بڑے تجریدی مجسموں کے لیے مشہور ہیں۔
جان پیٹس (John Petts) 1914 تا 1991
ویلز کے فنکار، جو کندہ کاری (اینگریونگ) اور رنگین شیشے کے کام کے لیے مشہور ہیں۔ جب 1963 میں امریکہ کے شہر برمنگھم، الاباما (Birmingham, Alabama) میں ایک چرچ پر بم حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے لیے رنگین شیشے کی ایک کھڑکی ڈیزائن کی، جس کی رقم ویلز کے ہزاروں لوگوں کے چندے سے جمع ہوئی۔
لوسیان فرائیڈ (Lucian Freud) 1922 تا 2011
جرمنی میں پیدا ہونے والے برطانوی مصور، جو زیادہ تر پورٹریٹ کے لیے مشہور ہیں۔
ڈیوڈ ہاکنی (David Hockney) پیدائش 1937
1960 کی دہائی کی پاپ آرٹ (pop art) تحریک کی ایک اہم شخصیت، اور آج بھی بااثر۔
کانسٹیبل کی The Hay Wain (1821) سفک میں دریائے اسٹور (River Stour) پر فلیٹفورڈ مل (Flatford Mill) کے آس پاس کا علاقہ دکھاتی ہے، جو ڈیڈم ویل کے قریب ہے۔ یہ لندن کی نیشنل گیلری میں آویزاں ہے۔
John Constable، public domain، بذریعہ Wikimedia Commonsپری رافیلائٹ مصور ملے کی Ophelia (1851 تا 1852)۔ اس کا موضوع شیکسپیئر کے Hamlet سے لیا گیا ہے، اور یہ پینٹنگ ٹیٹ برٹن میں ہے۔ دیکھیں کہ ہر پتا کتنی احتیاط سے بنایا گیا ہے، اور رنگ کتنے شوخ ہیں۔ یہ تصویر بنانے کے لیے ملے نے اپنی ماڈل الزبتھ سڈال (Elizabeth Siddal) کو کئی دن تک پورے کپڑوں میں پانی سے بھرے باتھ ٹب میں لٹائے رکھا۔ انہیں شدید سردی لگ گئی، اور ان کے والد نے ملے کو خط لکھ کر ڈاکٹر کی فیس کے لیے £50 مانگے۔
John Everett Millais، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
کوئز
Which painter is best known for his landscapes of Dedham Vale, on the border of Suffolk and Essex?
سوال اردو میںکون سا مصور سفک اور ایسیکس کی سرحد پر واقع ڈیڈم ویل کے قدرتی مناظر کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے؟
ڈیڈم ویل کا مطلب ہے کانسٹیبل۔ ٹرنر نے بھی قدرتی مناظر بنائے، لیکن وہ اپنے جدید انداز اور قدرتی مناظر کی مصوری کا درجہ بلند کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ گینزبرو پورٹریٹ کے لیے اور ہاکنی پاپ آرٹ کے لیے مشہور ہیں۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Lucian Freud was a Scottish painter who is best known for his landscapes.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: لوسیان فرائیڈ اسکاٹ لینڈ کے ایک مصور تھے جو سب سے زیادہ اپنے قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہیں۔
غلط (FALSE)۔ فرائیڈ جرمنی میں پیدا ہونے والے برطانوی مصور تھے، اور وہ پورٹریٹ کے لیے مشہور ہیں۔ یاد رکھنے والے اسکاٹ لینڈ کے پورٹریٹ مصور ڈیوڈ ایلن ہیں۔
کوئز
What kind of work does the Turner Prize celebrate?
سوال اردو میںٹرنر پرائز (Turner Prize) کس قسم کے کام کو سراہتا ہے؟ A: عصری فن B: دولتِ مشترکہ کے کسی ادیب کا بہترین ناول C: لندن میں تھیٹر کی پرفارمنس D: کلاسیکی موسیقی
ٹرنر پرائز 1984 میں شروع ہوا اور اس کا نام مصور جوزف ٹرنر (Joseph Turner) کے نام پر رکھا گیا؛ یہ عصری فن کے لیے ہے۔ ناولوں کا انعام مین بکر پرائز فار فکشن (Man Booker Prize for Fiction) ہے، اور لندن میں تھیٹر کے انعامات لارنس اولیویئر ایوارڈز (Laurence Olivier Awards) ہیں۔
فنِ تعمیر: نارمن قلعوں سے گوتھک احیا تک
برطانیہ کی عمارتیں بہت متنوع اور شاندار ہیں۔ یہ تصویر ہر دور کا بنیادی انداز دکھاتی ہے:
برطانیہ کے تعمیراتی انداز، تاریخ کی ترتیب سے۔ ہر تصویر کے نیچے وہ معمار اور عمارتیں ہیں جو امتحان میں آ سکتی ہیں۔
قرونِ وسطیٰ: بہت سے کیتھیڈرل اور گرجا گھر بنے، اور ان میں سے بہت سے آج بھی کھڑے ہیں، مثلاً ڈرہم (Durham)، لنکن (Lincoln)، کینٹربری (Canterbury) اور سالزبری (Salisbury) کے کیتھیڈرل۔ ٹاور آف لندن (Tower of London) کا وائٹ ٹاور (White Tower) نارمن قلعے کے مرکزی برج (keep، یعنی ایک مضبوط مرکزی مینار) کی اچھی مثال ہے؛ اسے ولیم فاتح (ولیم اول) نے بنوایا تھا۔
دیہی محل (کنٹری ہاؤسز): جب دیہات زیادہ پُرامن ہوئے اور زمیندار زیادہ امیر ہوئے تو ان کے گھر بھی زیادہ شاندار ہوتے گئے۔ ڈربی شائر (Derbyshire) میں ہارڈوک ہال (Hardwick Hall) جیسے بڑے دیہی محل بنے، اور تعمیر کا ایک برطانوی انداز پروان چڑھنے لگا۔ ہارڈوک ہال 1590 کی دہائی میں بنا، جب شیشہ ایک عیاشی کی چیز تھا، پھر بھی اس میں بے شمار کھڑکیاں ہیں۔ مقامی لوگوں نے اس پر ایک تک بندی بنائی: "Hardwick Hall, more glass than wall" (ہارڈوک ہال: دیوار کم، شیشہ زیادہ)۔
17ویں صدی: انیگو جونز (Inigo Jones) نے گرینچ میں کوئینز ہاؤس (Queen's House) اور لندن کے وائٹ ہال (Whitehall) میں بینکوئٹنگ ہاؤس (Banqueting House) ڈیزائن کرتے وقت کلاسیکی فنِ تعمیر (قدیم یونان اور روم کی عمارتوں) سے رہنمائی لی۔ اسی صدی کے آخر میں سر کرسٹوفر رین (Sir Christopher Wren) نے یورپ میں رائج بھرپور آرائشی انداز کی ایک برطانوی شکل بنائی؛ اس کی سب سے مشہور مثال نیا سینٹ پال کیتھیڈرل (St Paul's Cathedral) ہے (دیکھیں اسٹورٹ خاندان)۔ بینکوئٹنگ ہاؤس صرف دعوتوں کے لیے نہیں تھا: 1649 میں چارلس اول کو اس کے بالکل باہر سزائے موت دی گئی۔
18ویں صدی: سادہ ڈیزائن فیشن میں آئے۔ اسکاٹ لینڈ کے معمار رابرٹ ایڈم (Robert Adam) نے برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں تعمیر کے انداز پر اثر ڈالا۔ وہ عمارتوں کے باہر کے ساتھ ساتھ ان کا اندرونی حصہ بھی ڈیزائن کرتے تھے، جیسے اسکاٹ لینڈ میں ڈمفریز ہاؤس (Dumfries House)۔ ان کے خیالات نے دوسری جگہوں کے علاوہ باتھ (Bath) کے معماروں کو بھی متاثر کیا؛ وہاں کا رائل کریسنٹ (Royal Crescent) اس کی اچھی مثال ہے۔ لیکن رائل کریسنٹ دراصل جان ووڈ دی ینگر (John Wood the Younger) نے ڈیزائن کیا تھا۔ ایڈم کے خیالات نے صرف باتھ کے معماروں کو متاثر کیا، اس لیے یہ نہ سمجھیں کہ اسے ایڈم نے بنایا۔
19ویں صدی: قرونِ وسطیٰ کا گوتھک (gothic) انداز پھر سے فیشن میں آ گیا۔ جیسے جیسے شہر بڑھے، اس انداز میں بہت سی بڑی سرکاری عمارتیں بنیں، جیسے پارلیمنٹ کی عمارت (Houses of Parliament)، سینٹ پینکراس اسٹیشن (St Pancras Station)، اور مانچسٹر اور شیفیلڈ جیسے شہروں کے ٹاؤن ہال۔
20ویں صدی: سر ایڈون لٹینز (Sir Edwin Lutyens) کا اثر پوری برطانوی سلطنت میں تھا۔ انہوں نے ہندوستان کی حکومت کے مرکز کے طور پر نئی دہلی (New Delhi) ڈیزائن کی۔ پہلی عالمی جنگ ختم ہونے پر انہوں نے دنیا کے کئی حصوں میں جنگی یادگاریں ڈیزائن کیں، جن میں وائٹ ہال کا سینوٹاف (Cenotaph) بھی شامل ہے۔ ہر سال یومِ یادگار (Remembrance Day) کی قومی تقریب وہیں ہوتی ہے، جس میں ملکہ، سیاست دان اور غیر ملکی سفیر شریک ہوتے ہیں (دیکھیں رسوم و روایات)۔
آج: جدید برطانوی معماروں کی قائم کی ہوئی فرمیں برطانیہ اور دنیا بھر میں بڑے منصوبوں پر کام کرتی ہیں۔ ان میں سے تین نام جاننے چاہییں: سر نارمن فوسٹر (Sir Norman Foster، پیدائش 1935)، لارڈ رچرڈ راجرز (Lord Richard Rogers، پیدائش 1933) اور ڈیم زہا حدید (Dame Zaha Hadid، 1950 تا 2016)۔ حدید کی وفات کے بعد بھی ان کی فرم ان کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہو سکتا ہے آپ نے ان کا کام دیکھا ہو: فوسٹر نے نیا ویمبلے اسٹیڈیم ڈیزائن کرنے میں حصہ لیا (دیکھیں کھیل)، راجرز نے ملینیم ڈوم (Millennium Dome) ڈیزائن کیا، جو اب دی او ٹو کہلاتا ہے، اور حدید نے لندن 2012 اولمپکس کے لیے ایکواٹکس سینٹر (Aquatics Centre)، یعنی تیراکی کا مرکز، ڈیزائن کیا۔
سینٹ پینکراس اسٹیشن اور سابق مڈلینڈ گرینڈ ہوٹل (Midland Grand Hotel) کا سرخ اینٹوں والا گوتھک سامنے کا حصہ: 19ویں صدی کے گوتھک احیا کی ایک کلاسیکی مثال۔ یہ اسٹیشن 1960 کی دہائی میں گرائے جانے کے قریب تھا، لیکن شاعر جان بیچمن (John Betjeman) سمیت کئی لوگوں کی مہم نے اسے بچا لیا۔ اب اسٹیشن کے اندر ان کا کانسی کا مجسمہ ہے، اور وہ اس باب کے آخر میں آنے والے شاعروں میں سے بھی ایک ہیں۔
تصویر: mgaylard (www.mgaylard.co.uk)، CC BY 2.0، بذریعہ Wikimedia Commons
باغ اور لینڈ اسکیپ ڈیزائن
برطانیہ میں باغوں اور لینڈ اسکیپ ڈیزائن (زمین کی آرائش) کی بھی اہمیت ہے۔ 18ویں صدی میں لانسلوٹ "کیپیبلٹی" براؤن (Lancelot 'Capability' Brown) نے دیہی محلوں کے گرد کی زمین کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ وہ قدرتی لگے، گھاس، درختوں اور جھیلوں کے ساتھ۔ وہ مالکوں سے کہا کرتے تھے کہ ان کی زمین میں بڑی "کیپیبلٹیز" (capabilities)، یعنی امکانات، ہیں، اور اسی سے ان کا یہ لقب پڑا۔ بعد میں گرٹروڈ جیکل (Gertrude Jekyll) نے اکثر لٹینز کے ساتھ مل کر کام کیا اور ان کے ڈیزائن کیے ہوئے گھروں کے گرد رنگا رنگ باغ بنائے۔
باغ آج بھی برطانوی گھروں کا اہم حصہ ہیں۔ ہر سال چیلسی فلاور شو (Chelsea Flower Show) میں برطانیہ اور باقی دنیا کے باغوں کے ڈیزائن دکھائے جاتے ہیں۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: سر کرسٹوفر رین نے پہلی عالمی جنگ کے بعد وائٹ ہال میں سینوٹاف ڈیزائن کیا۔ B: سر ایڈون لٹینز نے پہلی عالمی جنگ کے بعد وائٹ ہال میں سینوٹاف ڈیزائن کیا۔
سینوٹاف 20ویں صدی میں لٹینز نے ڈیزائن کیا، جنہوں نے نئی دہلی بھی ڈیزائن کی۔ رین 17ویں صدی کے معمار تھے، جو پہلی عالمی جنگ سے 200 سال سے بھی زیادہ پہلے کام کر رہے تھے؛ ان کی سب سے مشہور عمارت سینٹ پال کیتھیڈرل ہے۔
کوئز
Which TWO of these buildings were built in the 19th-century revival of the gothic style?
سوال اردو میںان میں سے کون سی دو عمارتیں 19ویں صدی میں گوتھک انداز کے احیا کے دوران بنیں؟
پارلیمنٹ کی عمارت اور سینٹ پینکراس اسٹیشن دونوں 19ویں صدی کی گوتھک عمارتیں ہیں۔ کوئینز ہاؤس انیگو جونز کے 17ویں صدی کے کلاسیکی انداز میں ہے، اور باتھ کا رائل کریسنٹ 18ویں صدی کے سادہ ڈیزائنوں سے تعلق رکھتا ہے۔
ڈیزائن اور فیشن: فرنیچر سے منی اسکرٹ تک
برطانیہ نے بہت سے عظیم ڈیزائنر پیدا کیے ہیں۔ مختلف شعبوں سے تین ڈیزائنرز نمایاں ہیں، اور ساتھ تین حالیہ فیشن ڈیزائنرز بھی:
تھامس چپنڈیل (Thomas Chippendale)
18ویں صدی کے فرنیچر ڈیزائنر۔
کلیریس کلف (Clarice Cliff)
آرٹ ڈیکو (Art Deco) انداز میں مٹی کے برتن (سرامکس) ڈیزائن کیے۔
سر ٹیرنس کونران (Sir Terence Conran)
20ویں صدی کے اندرونی آرائش (انٹیریئر) کے ڈیزائنر۔
فیشن
مشہور حالیہ فیشن ڈیزائنرز: میری کوانٹ (Mary Quant)، الیگزینڈر میک کوئین (Alexander McQueen) اور ویوین ویسٹ ووڈ (Vivienne Westwood)۔
ان میں سے ہر نام کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ میری کوانٹ کو اکثر "منی اسکرٹ کی ماں" کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے 1960 کی دہائی کے لندن میں اسے فیشن بنایا، اگرچہ اسے اصل میں کس نے ایجاد کیا، اس پر اختلاف ہے۔ ویسٹ ووڈ 1970 کی دہائی میں پنک کو فیشن میں لائیں، جس کا تعلق اوپر موسیقی والے حصے کی پنک تحریک سے ہے۔ اور کونران نے 1964 میں ہیبیٹیٹ (Habitat) نام کی دکان کھولی، جس نے جدید ڈیزائن کو عام گھروں تک پہنچایا۔
کوئز
Clarice Cliff is remembered as a designer of what?
سوال اردو میںکلیریس کلف (Clarice Cliff) کو کس چیز کی ڈیزائنر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے؟ A: 18ویں صدی کا فرنیچر B: 20ویں صدی کی اندرونی آرائش (انٹیریئر) C: رنگین شیشے کی کھڑکیاں D: آرٹ ڈیکو انداز کے مٹی کے برتن (سرامکس)
کلیریس کلف نے آرٹ ڈیکو (Art Deco) انداز میں مٹی کے برتن (سرامکس) ڈیزائن کیے۔ 18ویں صدی کا فرنیچر تھامس چپنڈیل (Thomas Chippendale) نے ڈیزائن کیا، سر ٹیرنس کونران (Sir Terence Conran) 20ویں صدی کے انٹیریئر ڈیزائنر تھے، اور جان پیٹس (John Petts) ویلز کے فنکار تھے جو رنگین شیشے کے کام کے لیے مشہور ہیں۔
ادب: نوبیل انعام، شرلاک ہومز اور ہیری پوٹر
برطانیہ کے ادب کی تاریخ لمبی اور بہت معتبر ہے۔ کئی برطانوی ادیبوں نے ادب کا نوبیل انعام جیتا ہے، جن میں ناول نگار سر ولیم گولڈنگ (Sir William Golding)، شاعر شیمس ہینی (Seamus Heaney) اور ڈراما نگار ہیرالڈ پنٹر (Harold Pinter)۔
دوسرے ادیب مقبول کہانیوں کی وجہ سے پسند کیے جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے لوگ اگاتھا کرسٹی کی جاسوسی کہانیاں پڑھتے ہیں، اور آئن فلیمنگ (Ian Fleming) نے اپنے ناولوں میں جیمز بانڈ (James Bond) کا کردار تخلیق کیا۔ 2003 میں جے آر آر ٹولکین (JRR Tolkien) کے ناول The Lord of the Rings کو ملک کا پسندیدہ ترین ناول چنا گیا۔
مین بکر پرائز فار فکشن (Man Booker Prize for Fiction) 1968 سے ہر سالدولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ)، آئرلینڈ یا زمبابوے کے کسی ادیب کے بہترین ناول کو دیا جاتا ہے۔ فاتحین میں آئن میک ایوان (Ian McEwan)، ہلری مینٹل (Hilary Mantel) اور جولین بارنز (Julian Barnes) شامل ہیں۔
ادیب ایک نظر میں
جین آسٹن (Jane Austen) 1775 تا 1817
انگریز ناول نگار: Pride and Prejudice، Sense and Sensibility۔ انہوں نے شادی اور خاندانی زندگی کے بارے میں لکھا، اور ان کی بہت سی کتابوں پر ٹی وی سیریز یا فلمیں بن چکی ہیں۔
چارلس ڈکنز (Charles Dickens) 1812 تا 1870
Oliver Twist، Great Expectations۔ لوگ آج بھی روزمرہ بات چیت میں ان کے کرداروں کے نام استعمال کرتے ہیں: اسکروج (Scrooge) کنجوس آدمی کو کہتے ہیں، اور مسٹر میکابر (Mr Micawber) اس شخص کو جو ہمیشہ پُرامید رہتا ہے۔
رابرٹ لوئی اسٹیونسن (Robert Louis Stevenson) 1850 تا 1894
بڑے اور بچے آج بھی ان کی کتابیں پڑھتے ہیں: Treasure Island، Kidnapped، Dr Jekyll and Mr Hyde۔
تھامس ہارڈی (Thomas Hardy) 1840 تا 1928
ناول نگار اور شاعر۔ ان کے مشہور ترین ناول دیہی زندگی کے بارے میں ہیں: Far from the Madding Crowd، Jude the Obscure۔
سر آرتھر کونن ڈوئل (Sir Arthur Conan Doyle) 1859 تا 1930
اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر اور ادیب، جو شرلاک ہومز (Sherlock Holmes) کی کہانیوں کے لیے مشہور ہیں۔ شرلاک ہومز کہانیوں کی دنیا کے ابتدائی ترین جاسوسوں میں سے ایک ہے۔
ایولن وا (Evelyn Waugh) 1903 تا 1966
طنزیہ ناول لکھے (ایسے ناول جو معاشرے کا مذاق اڑاتے ہیں)، جیسے Decline and Fall اور Scoop۔ ان کی سب سے مشہور کتاب شاید Brideshead Revisited ہے۔
سر کنگسلے ایمس (Sir Kingsley Amis) 1922 تا 1995
انگریز ناول نگار اور شاعر جنہوں نے 20 سے زیادہ ناول لکھے۔ سب سے مشہور Lucky Jim ہے۔
گراہم گرین (Graham Greene) 1904 تا 1991
ان کے ناولوں پر اکثر ان کے مذہبی عقیدے کی چھاپ ہوتی تھی: Brighton Rock، The Heart of the Matter، Our Man in Havana اور The Honorary Consul۔
جے کے رولنگ (J K Rowling) پیدائش 1965
بچوں کے لیے ان کی Harry Potter کتابیں دنیا بھر میں بے حد مقبول ہوئیں۔ اب وہ بڑوں کے لیے بھی ناول لکھتی ہیں۔
ان میں سے کچھ ادیبوں کے ساتھ دلچسپ کہانیاں جڑی ہیں۔ اسکروج ڈکنز کی کتاب A Christmas Carol کا مرکزی کردار ہے، اور مسٹر میکابر David Copperfield سے ہیں، جہاں وہ بار بار کہتے رہتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ "سامنے آ جائے گا" (turn up)۔ کونن ڈوئل نے ایڈنبرا میں طب پڑھی، اور کہا جاتا ہے کہ شرلاک ہومز کی تیز مشاہدے کی صلاحیت ان کے ایک استاد، ڈاکٹر جوزف بیل (Dr Joseph Bell)، پر مبنی ہے۔ اور ایولن وا مرد تھے؛ بات کو اور الجھانے کے لیے، ان کی پہلی بیوی کا نام بھی ایولن تھا، اور ان کے دوست انہیں "ہی ایولن" (He-Evelyn) اور "شی ایولن" (She-Evelyn) کہتے تھے۔
کوئز
Which author created the characters Scrooge and Mr Micawber?
سوال اردو میںکس مصنف نے اسکروج اور مسٹر میکابر کے کردار تخلیق کیے؟
یہ دونوں ڈکنز کے کردار ہیں۔ کسی کو اسکروج کہنے کا مطلب ہے کہ وہ پیسے کے معاملے میں کنجوس ہے، اور میکابر وہ شخص ہے جو یہ امید کبھی نہیں چھوڑتا کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: 2003 میں جے کے رولنگ کی Harry Potter کو قوم کا پسندیدہ ترین ناول چنا گیا۔ B: 2003 میں جے آر آر ٹولکین کی The Lord of the Rings کو قوم کا پسندیدہ ترین ناول چنا گیا۔
2003 میں قوم کے پسندیدہ ناول کے انتخاب میں ٹولکین کی The Lord of the Rings سب سے اوپر رہی۔ رولنگ کی Harry Potter کتابیں بچوں کی ایسی کتابیں ہیں جو پوری دنیا میں مقبول ہوئیں۔
کوئز
What kind of work wins the Man Booker Prize for Fiction?
سوال اردو میںمین بکر پرائز فار فکشن (Man Booker Prize for Fiction) کس قسم کے کام کو دیا جاتا ہے؟
مین بکر پرائز فار فکشن ہر سال دولتِ مشترکہ (Commonwealth)، آئرلینڈ یا زمبابوے کے کسی ادیب کے بہترین ناول کو دیا جاتا ہے؛ فاتحین میں آئن میک ایوان، ہلری مینٹل اور جولین بارنز شامل ہیں۔ عصری فن کے لیے ٹرنر پرائز ہے، تھیٹر کے لیے لارنس اولیویئر ایوارڈز، اور فلم کے لیے BAFTA کے ایوارڈز۔
کوئز
Which writer created the detective Sherlock Holmes?
سوال اردو میںجاسوس شرلاک ہومز (Sherlock Holmes) کا کردار کس مصنف نے تخلیق کیا؟
شرلاک ہومز، جو افسانوی ادب کے پہلے جاسوسوں میں سے ایک ہے، سر آرتھر کونن ڈوئل (Sir Arthur Conan Doyle) نے تخلیق کیا، جو اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر اور ادیب تھے۔ اگاتھا کرسٹی (Agatha Christie) بھی جاسوسی کہانیوں کے لیے مشہور ہیں، اس لیے الجھن ہو سکتی ہے، مگر ہومز کونن ڈوئل کا کردار ہے۔ آئن فلیمنگ (Ian Fleming) نے جیمز بانڈ بنایا، اور تھامس ہارڈی (Thomas Hardy) نے دیہی زندگی کے بارے میں لکھا۔
برطانوی شاعر: بیوولف سے پوئٹس کارنر تک
برطانوی شاعری دنیا کی سب سے مالا مال شاعری میں سے ہے۔ یہ رہی دور بہ دور:
اینگلو سیکسن دور: لمبی نظم Beowulf (بیوولف) ایک ہیرو کی کہانی ہے جو عفریتوں (دیوؤں) سے لڑتا ہے۔ لوگ آج بھی اس کا جدید انگریزی میں ترجمہ کر رہے ہیں۔
قرونِ وسطیٰ: اس دور سے بچ جانے والی نظموں میں چاسر (Chaucer) کی Canterbury Tales (دیکھیں قرونِ وسطیٰ) اور Sir Gawain and the Green Knight شامل ہیں، جو بادشاہ آرتھر (King Arthur) کے دربار کے ایک نائٹ کے بارے میں ہے۔
شیکسپیئر: ڈراموں کے علاوہ انہوں نے بہت سی سانیٹ (sonnet) لکھیں، یعنی ایسی نظمیں جن میں ٹھیک 14 مصرعے ہونے ضروری ہیں، اور کچھ لمبی نظمیں بھی (دیکھیں ٹیوڈر خاندان)۔
پروٹسٹنٹ خیالات پھیلنے کے بعد: کچھ شاعروں نے مذہب سے تحریک لی، جیسے جان ملٹن (John Milton)، جنہوں نے Paradise Lost (کھوئی ہوئی جنت) لکھی۔ جب ملٹن نے یہ نظم لکھی تو وہ نابینا ہو چکے تھے؛ وہ پوری نظم بول کر لکھواتے رہے اور دوسرے لوگ اسے لکھتے رہے۔
فطرت سے متاثر: ولیم ورڈز ورتھ (William Wordsworth) جیسے شاعر۔ سر والٹر اسکاٹ (Sir Walter Scott) نے اپنی نظموں کی بنیاد اسکاٹ لینڈ پر، اور اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کی سرحد کے علاقوں کی پرانی کہانیوں اور گیتوں پر رکھی۔ انہوں نے ناول بھی لکھے، جن میں سے بہت سوں کی کہانی اسکاٹ لینڈ میں ہوتی ہے۔
19ویں صدی، جب شاعری بے حد مقبول تھی: ولیم بلیک (William Blake) اور جان کیٹس (John Keats)؛ لارڈ بائرن (Lord Byron) اور پرسی شیلی (Percy Shelley)؛ الفریڈ لارڈ ٹینیسن (Alfred Lord Tennyson)؛ اور میاں بیوی رابرٹ اور الزبتھ براؤننگ (Robert and Elizabeth Browning)۔
پہلی عالمی جنگ: بہت سے شاعروں نے جنگ میں جو دیکھا اور محسوس کیا اس کے بارے میں لکھا، مثلاً ولفریڈ اوون (Wilfred Owen) اور سیگفریڈ سیسون (Siegfried Sassoon)۔
زیادہ حالیہ دور: مقبول شاعروں میں ٹیڈ ہیوز (Ted Hughes)، جان میسفیلڈ (John Masefield)، سر جان بیچمن (Sir John Betjeman) اور سر والٹر ڈی لا میئر (Sir Walter de la Mare) شامل ہیں۔
بہت سے مشہور ترین شاعر ویسٹ منسٹر ایبی کے پوئٹس کارنر (Poets' Corner)، یعنی شاعروں کے گوشے، میں دفن ہیں یا وہاں ان کی یادگار ہے۔
Beowulf کی واحد بچی ہوئی نقل کا پہلا صفحہ، جو تقریباً سن 1000 میں لکھی گئی۔ کناروں پر جلنے کے نشان 1731 میں لندن کی ایک لائبریری میں لگنے والی آگ کے ہیں۔ یہ اب برٹش لائبریری (British Library) میں رکھی ہے۔ بعد میں جن لوگوں نے اس کا جدید انگریزی میں ترجمہ کیا ان میں اوپر ذکر کیے گئے نوبیل انعام یافتہ شیمس ہینی بھی تھے؛ ان کا ترجمہ 1999 میں شائع ہوا اور بیسٹ سیلر بن گیا۔
British Library، Cotton MS Vitellius A XV، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
پہچاننے والی پانچ نظمیں
پانچ نظموں کو پہچاننا ضروری ہے، اور کسی سوال میں آپ کو ایک مصرع دے کر پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ کس نے لکھا۔ آپ کو بس یہ پہچاننا ہے کہ ہر نظم کیسے شروع ہوتی ہے اور شاعر کون ہے:
"Oh, to be in England"
رابرٹ براؤننگ (Robert Browning، 1812 تا 1889)، Home Thoughts from Abroad: گھر سے دور شاعر اپریل کے انگلینڈ کو یاد کرتا ہے، جب ایلم (elm) کے درختوں پر نئے پتے کھل رہے ہوتے ہیں اور باغ میں چافنچ (chaffinch) چڑیا گا رہی ہوتی ہے۔
"She walks in beauty, like the night"
لارڈ بائرن (Lord Byron، 1788 تا 1824)، She Walks in Beauty: ایک عورت کی تعریف جو بادلوں سے خالی، ستاروں بھری رات جیسی ہے، اور جس کے چہرے اور آنکھوں میں اندھیرے اور روشنی کے سب سے حسین پہلو اکٹھے ہیں۔
"I wandered lonely as a cloud"
ولیم ورڈز ورتھ (William Wordsworth، 1770 تا 1850)، The Daffodils: بادل کی طرح اکیلا بھٹکتے ہوئے شاعر اچانک سنہرے ڈیفوڈل (نرگس) کے پھولوں کے ایک بڑے جھنڈ کے سامنے آ جاتا ہے۔
"Tyger! Tyger! burning bright"
ولیم بلیک (William Blake، 1757 تا 1827)، The Tyger: شاعر اندھیرے جنگل میں دہکتے ہوئے شیر سے مخاطب ہو کر پوچھتا ہے کہ کیسے ہاتھ نے ایسی چیز بنائی ہوگی جو اتنی خوفناک بھی ہے اور جس کی بناوٹ اتنی مکمل بھی۔
"What passing-bells for these…"
ولفریڈ اوون (Wilfred Owen، 1893 تا 1918)، Anthem for Doomed Youth: میدانِ جنگ میں جانوروں کی طرح مارے جانے والے سپاہیوں کے جنازوں پر چرچ کی گھنٹیاں نہیں بجتیں، صرف توپوں کا غضب ناک شور ہوتا ہے۔
ان میں سے دو نظمیں حقیقی لمحوں سے جڑی ہیں۔ ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اصلی تھے: 1802 میں انہوں نے اور ان کی بہن ڈوروتھی (Dorothy) نے لیک ڈسٹرکٹ (Lake District) میں السواٹر (Ullswater) جھیل کے کنارے ان پھولوں کا ایک بہت بڑا پھیلاؤ دیکھا۔ اوون 4 نومبر 1918 کو مارے گئے، پہلی عالمی جنگ ختم ہونے سے ایک ہفتہ پہلے، اور ان کی والدہ کو ان کی موت کا تار یومِ جنگ بندی (Armistice Day) کو ملا، جب امن کی خوشی میں چرچ کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔
کوئز
Which poet wrote the line 'I wandered lonely as a cloud'?
سوال اردو میںکس شاعر نے یہ مصرع لکھا: 'I wandered lonely as a cloud' (میں بادل کی طرح اکیلا بھٹکتا رہا)؟
یہ ورڈز ورتھ کی The Daffodils ہے۔ وہ فطرت کے شاعر تھے، اور بادل اور ڈیفوڈل دونوں فطرت کا حصہ ہیں۔ بائرن نے She Walks in Beauty لکھی، بلیک نے The Tyger، اور اوون نے پہلی عالمی جنگ کے بارے میں لکھا۔
دہرائی: کون کس کے زمانے میں تھا؟
اس باب کے موسیقاروں، مصوروں اور ادیبوں کو ایک ہی ٹائم لائن پر رکھنے سے انہیں یاد رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جین آسٹن، ٹرنر اور کانسٹیبل ایک دوسرے سے تقریباً ایک سال کے فرق سے پیدا ہوئے، اور ایلگر، ہولسٹ اور کونن ڈوئل تینوں 1930 کی دہائی تک زندہ رہے۔
ہر پٹی ایک شخص کی زندگی دکھاتی ہے، اور ساتھ ان کی ایک مشہور تخلیق۔ پس منظر کو اسٹورٹ، جارجیائی (Georgian) اور وکٹورین (Victorian) ادوار اور 1901 کے بعد کے برسوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہینڈل کی پٹی ان کے سالِ پیدائش، 1685، سے شروع ہوتی ہے۔ تیر کے نشان کا مطلب ہے کہ ہینڈ بک شائع ہوتے وقت وہ شخص زندہ تھا۔
باب کا خلاصہ
پرومز (The Proms)
گرمیوں میں آٹھ ہفتے کا آرکسٹرا موسیقی کا سیزن؛ 1927 سے بی بی سی کے زیرِ انتظام؛ آخری رات رائل البرٹ ہال میں ہوتی ہے اور ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے
پرسل (Purcell)
ویسٹ منسٹر ایبی کے آرگنسٹ؛ ایک الگ برطانوی انداز
ہینڈل (Handel)
جرمنی میں پیدا ہوئے، 1727 میں برطانوی شہری؛ Water Music (جارج اول)، Music for the Royal Fireworks (جارج دوم)، Messiah
ہولسٹ / ایلگر (Holst / Elgar)
ہولسٹ: The Planets اور Jupiter؛ ایلگر: ووسٹر میں پیدا ہوئے، Pomp and Circumstance، Land of Hope and Glory
وان ولیمز / والٹن (Vaughan Williams / Walton)
وان ولیمز: انگریزی لوک موسیقی؛ والٹن: تاج پوشی کے مارچ، Façade، Belshazzar's Feast
برٹن (Britten)
اوپیرا Peter Grimes اور Billy Budd؛ A Young Person's Guide to the Orchestra؛ آلڈبرا فیسٹیول (سفک)
1960 کی دہائی سے پاپ
بیٹلز، رولنگ اسٹونز؛ 1970 کی دہائی کے آخر میں پنک؛ 1990 کی دہائی میں بوائے بینڈز اور گرل بینڈز
جگہیں / فیسٹیول
ویمبلے، دی او ٹو (گرینچ)، ایس ای سی سینٹر (گلاسگو)؛ گلاسٹنبری، آئل آف وائٹ، کریم فیلڈز