نسلی تنوع: ایک صدی پہلے سے کہیں زیادہ ملا جلا
سو سال پہلے کے مقابلے میں آج کا برطانیہ کہیں زیادہ متنوع ہے، لوگوں کے نسلی پس منظر میں بھی اور ان کے مذاہب میں بھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کی ہجرت کی وجہ سے تقریباً 10 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے ماں باپ یا دادا دادی/نانا نانی میں سے کم از کم ایک بیرونِ ملک پیدا ہوا تھا۔ برطانیہ ایک کثیر القومی اور کثیر النسلی (multinational, multiracial) معاشرہ ہے جس کی ثقافت بھرپور اور رنگا رنگ ہے۔
برطانیہ کے لوگوں کی خاندانی جڑیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں، اور یہ ملاپ تیزی سے بدل رہا ہے، خاص طور پر لندن جیسے بڑے شہروں میں۔ اس وجہ سے ٹھیک ٹھیک اعداد و شمار طے کرنا مشکل ہے۔ سروے میں سب سے زیادہ لوگ جس گروہ کا انتخاب کرتے ہیں وہ سفید فام (white) ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے خاندان یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا یا نیوزی لینڈ سے آئے۔ دوسرے بڑے گروہ ایشیائی (Asian)، سیاہ فام (black) اور مخلوط (mixed) نسل کے لوگ ہیں۔
اس ملی جلی آبادی کی کہانی کا بڑا حصہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے برسوں سے شروع ہوتا ہے۔ 1948 میں ایمپائر ونڈرش (Empire Windrush) نامی جہاز کیریبین سے آنے والوں کا پہلا بڑا گروہ لایا، اور بعد میں بہت سے لوگ ہندوستان، پاکستان اور دوسرے ملکوں سے آئے (دیکھیں 1945 کے بعد کا برطانیہ)۔ ان "تقریباً 10%" لوگوں کے پیچھے، جن کے ماں باپ یا دادا دادی/نانا نانی میں سے کوئی بیرونِ ملک پیدا ہوا، یہی کہانی ہے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE? As a result of immigration after the Second World War, almost one in ten people in the UK has a parent or grandparent who was born abroad.
سوال اردو میں
کیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: دوسری عالمی جنگ کے بعد کی ہجرت کے نتیجے میں برطانیہ میں تقریباً ہر دس میں سے ایک شخص ایسا ہے جس کے ماں باپ یا دادا دادی/نانا نانی میں سے کوئی بیرونِ ملک پیدا ہوا تھا۔درست (TRUE)۔ "تقریباً 10 فیصد" کا مطلب ہے موٹے طور پر ہر دس میں سے ایک شخص۔