1086
ڈومز ڈے بک: بادشاہ کا بڑا حساب کتاب
1066 میں نارمنڈی کے ڈیوک ولیم نے ہیسٹنگز کی جنگ (Battle of Hastings) جیتی اور انگلینڈ کا بادشاہ ولیم اول بن گیا، لیکن اس جیت سے لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ کئی سال تک ولیم بغاوتیں کچلتا رہا، سب سے زیادہ سختی سے شمال میں، اور قابو رکھنے کے لیے اس نے پورے ملک میں قلعے بنوائے۔ جب انگلینڈ پوری طرح اس کے ہاتھ میں آ گیا تو ولیم اول ٹھیک ٹھیک جاننا چاہتا تھا کہ اب اس کی ملکیت میں کیا کچھ ہے۔ اس نے پورے ملک میں سرکاری اہلکار بھیجے تاکہ وہ ہر قصبے اور گاؤں کے بارے میں چار چیزیں درج کریں:
اس سارے کام کا نتیجہ ڈومز ڈے بک (Domesday Book) کی صورت میں نکلا۔ یہ آج تک محفوظ ہے، اور ہمیں نارمن فتح (Norman Conquest) کے فوراً بعد کے انگلینڈ کے معاشرے کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔ اس کا نام "doomsday" سے آیا ہے، یعنی قیامت کا دن (یومِ حساب)۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ جیسے قیامت کے دن کا فیصلہ آخری ہوگا، ویسے ہی اس کتاب میں جو کچھ درج ہو گیا وہ بھی آخری تھا: نہ اس کے خلاف اپیل ہو سکتی تھی، نہ اسے بدلا جا سکتا تھا۔
کوئز
What is the Domesday Book?
سوال اردو میں
ڈومز ڈے بک کیا ہے؟A: کینٹربری جانے والے زائرین کے بارے میں نظموں کا مجموعہ
B: ایک منشور جس نے بادشاہ کے اختیارات محدود کیے
C: نارمن فتح کے بعد انگلینڈ کے قصبوں، دیہات، لوگوں، زمین اور جانوروں کا ریکارڈ
D: انگلینڈ میں چھپنے والی پہلی کتاب
A میں چاسر (Chaucer) کی کتاب The Canterbury Tales کا ذکر ہے، B سے مراد 1215 کا میگنا کارٹا (Magna Carta) ہے، اور D کا تعلق ولیم کیکسٹن (William Caxton) کے چھاپہ خانے سے ہے۔ یہ تینوں بعد کی صدیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔