تقریباً 843 تا 1066
شمال میں کینتھ، جنوب میں کنوٹ
نویں صدی میں صرف انگلینڈ ہی وائکنگز (Vikings) کے ہاتھوں پریشان نہیں تھا۔ شمال میں وائکنگز کے خطرے نے لوگوں کو ایک ہی بادشاہ کے گرد اکٹھا کر دیا: کینتھ میک ایلپن (Kenneth MacAlpin)، جسے کینتھ اول (Kenneth I) بھی کہا جاتا ہے۔ اسی زمانے سے لوگ اس ملک کو اسکاٹ لینڈ (Scotland) کہنے لگے۔
کینتھ اول کا شاہی خاندان اپنے آبا و اجداد کا سلسلہ سینٹ کولمبا (St Columba) کے جزیرے آئونا (Iona) کے آس پاس کے علاقے سے جوڑتا تھا، اس لیے بعد میں آئونا اسکاٹش بادشاہوں کی تدفین کی جگہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے قبرستان میں ابتدائی دور کے درجنوں اسکاٹش بادشاہ دفن ہیں۔
کوئز
Fear of Viking raids led the people of the north to unite behind a single king. Who was he?
سوال اردو میں
وائکنگ حملوں کے خوف نے شمال کے لوگوں کو ایک ہی بادشاہ کے گرد متحد کر دیا۔ وہ بادشاہ کون تھا؟وہ کینتھ میک ایلپن (کینتھ اول) تھا۔ رابرٹ دی بروس (Robert the Bruce) 1314 میں بینک برن کی جنگ (Battle of Bannockburn) کے وقت اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ تھا، یعنی قرونِ وسطیٰ کی ایک شخصیت۔
کنوٹ: وہ ڈینش بادشاہ جس نے لہروں کو رکنے کا حکم دیا
اب واپس جنوب میں: وائکنگز کو شکست دینے والے الفریڈ اعظم (Alfred the Great) کے بعد اینگلو سیکسن بادشاہ آج کے انگلینڈ پر حکومت کرتے رہے، سوائے ایک مختصر عرصے کے جب ڈینش بادشاہ تخت پر بیٹھے۔ ان میں سے پہلا کنوٹ (Cnut) تھا، جسے کینیوٹ (Canute) بھی کہتے ہیں۔ انگلینڈ میں کنوٹ نام کا بھی ایک ہی بادشاہ ہوا، اس لیے اس کے نام کے بعد بھی کوئی نمبر نہیں؛ اسے اکثر کنوٹ اعظم (Cnut the Great) کہا جاتا ہے۔
کنوٹ 1016 میں انگلینڈ کا بادشاہ بنا۔ بعد میں وہ ڈنمارک اور ناروے کا بادشاہ بھی بنا، اور 1035 میں اپنی موت تک بحیرۂ شمال کے گرد ایک بڑی سلطنت پر حکومت کرتا رہا۔
کنوٹ کو سب سے زیادہ سمندر کی ایک کہانی کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس نے اپنا تخت سمندر کے کنارے رکھوایا اور چڑھتے ہوئے جوار کو رکنے کا حکم دیا، لیکن سمندر پھر بھی آگے بڑھا اور اس کے پاؤں بھیگ گئے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کہانی اس کے غرور کا مذاق اڑاتی ہے، لیکن اصل میں اس کا مطلب اس کے الٹ تھا: وہ اپنی خوشامد کرنے والے درباریوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ بادشاہ کی طاقت کی بھی حدود ہیں، اور صرف خدا ہی سمندر کو حکم دے سکتا ہے۔ یہ کہانی پہلی بار کنوٹ کی موت کے تقریباً سو سال بعد بارہویں صدی کے مؤرخ ہنری آف ہنٹنگڈن (Henry of Huntingdon) کی تحریر میں ملتی ہے، اس لیے یہ ایک روایت ہے۔
کنوٹ اور اس کے بیٹوں کی موت کے بعد تخت دوبارہ اینگلو سیکسنز کے پاس آ گیا اور ایڈورڈ دی کنفیسر (Edward the Confessor) کو ملا۔ جب جنوری 1066 میں ایڈورڈ بے اولاد فوت ہوا تو تین آدمی تاج پر دعویٰ کرنے کو لپکے۔ اگلے دور کی کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE? Cnut, also called Canute, was the first of the Danish kings who ruled England for a short period.
سوال اردو میں
کیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: کنوٹ، جسے کینیوٹ بھی کہا جاتا ہے، ان ڈینش بادشاہوں میں سے پہلا تھا جنہوں نے ایک مختصر عرصے تک انگلینڈ پر حکومت کی۔درست (TRUE)۔ ٹیسٹ میں اکثر Cnut اور Canute کو ایسے لکھا جاتا ہے جیسے یہ دو الگ لوگ ہوں، لیکن یہ ایک ہی شخص ہے۔
اہم نکات
| جیوٹ، اینگل، سیکسن | رومیوں کے جانے کے بعد شمالی یورپ سے آ کر حملہ آور ہوئے؛ ان کی زبانیں جدید انگریزی کی بنیاد ہیں |
|---|---|
| 600 عیسوی تک | اینگلو سیکسن ریاستیں قائم ہوئیں، خاص طور پر آج کے انگلینڈ میں؛ ویلز کا زیادہ تر حصہ اور اسکاٹ لینڈ ان کی حکومت سے باہر رہے |
| سٹن ہو (Sutton Hoo) | سفوک؛ ایک اینگلو سیکسن بادشاہ جو خزانے اور زرہ بکتر کے ساتھ ایک جہاز میں دفن کیا گیا |
| سینٹ پیٹرک / سینٹ کولمبا | آئرلینڈ سے آئے اور شمال میں کام کیا؛ پیٹرک آئرلینڈ کا سرپرست سینٹ ہے، کولمبا نے آئونا پر خانقاہ قائم کی |
| سینٹ آگسٹین (St Augustine) | روم سے آیا اور جنوب میں کام کیا؛ کینٹربری کا پہلا آرچ بشپ |
| 789 عیسوی: وائکنگز | ڈنمارک، ناروے اور سویڈن سے؛ پہلی بار 789 میں ساحلی قصبوں پر چھاپے مارنے آئے |
| الفریڈ اعظم (Alfred the Great) | اینگلو سیکسن ریاستوں کو متحد کیا اور وائکنگز کو شکست دی |
| ڈین لا (Danelaw) | انگلینڈ کا مشرق اور شمال؛ گرمزبی اور اسکنتھورپ جیسے نام وائکنگ زبانوں سے آئے |
| کینتھ میک ایلپن (Kenneth MacAlpin) | کینتھ اول؛ شمال اس کے تحت متحد ہوا اور اسکاٹ لینڈ کا نام رائج ہوا |
| کنوٹ / کینیوٹ (Cnut / Canute) | انگلینڈ پر حکومت کرنے والا پہلا ڈینش بادشاہ |