1914
پہلی عالمی جنگ کا آغاز: ایک گولی اور دو حریف گروہ
ایک گولی جس نے یورپ کو آگ لگا دی
بیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ کا پُراعتماد دور جلد ہی اچانک ختم ہو گیا۔ 28 جون 1914 کو آسٹریا ہنگری (Austria-Hungary) کے تخت کے وارث آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ (Archduke Franz Ferdinand) کو سرائیوو (Sarajevo) میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ جیسے ڈومینو کی پہلی گوٹ گرنے سے باقی بھی گرتی چلی جاتی ہیں، ویسے ہی اس قتل نے قدم بہ قدم پہلی عالمی جنگ کو جنم دیا۔
یہ قتل تقریباً ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ اسی صبح سازشی ایک بار ناکام ہو چکے تھے: آرچ ڈیوک کی گاڑی پر پھینکا گیا ایک بم نشانے پر نہیں لگا۔ دوپہر کو اس نے بم سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کے لیے اپنا پروگرام بدل لیا، لیکن کسی نے اس کے ڈرائیور کو نہیں بتایا۔ ڈرائیور نے غلط موڑ لے لیا، اور جب وہ گاڑی پیچھے کرنے کے لیے رکا تو گاڑی ٹھیک گاوریلو پرنسپ (Gavrilo Princip) کے سامنے جا کر رکی، جو اس گروہ کا 19 سالہ رکن تھا۔ آپ انٹرنیٹ پر اکثر پڑھیں گے کہ اس وقت پرنسپ قریب کی ایک دکان میں سینڈوچ کھا رہا تھا، لیکن 1914 کا کوئی ریکارڈ اس کی تصدیق نہیں کرتا؛ یہ ایک داستان لگتی ہے جو بعد میں جوڑی گئی۔
لیکن یہ قتل صرف ایک چنگاری تھا۔ کئی اور قوتیں برسوں سے زور پکڑ رہی تھیں اور انہوں نے جنگ کا امکان بڑھا دیا تھا:
اپنی قوم کو سب سے آگے رکھنا
بڑی بڑی فوجیں اور بحری بیڑے بنانا
سلطنتوں اور نوآبادیوں کے لیے مقابلہ
یورپ کی بڑی طاقتیں دو اتحادوں میں بٹ گئیں
دونوں فریق
زیادہ تر لڑائی یورپ میں ہوئی، لیکن اس جنگ نے پوری دنیا کے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ برطانیہ کا فریق اتحادی (Allies) کہلاتا تھا، اور دوسرا فریق مرکزی طاقتیں (Central Powers)۔