1899 تا 1907
سلطنت کا مستقبل: بوئر جنگ اور کپلنگ
برطانوی سلطنت 1920 کی دہائی تک بڑھتی رہی، لیکن انیسویں صدی کے آخر میں ہی لوگ اس بحث میں پڑ گئے تھے کہ اسے آگے کس سمت جانا چاہیے۔ توسیع کے حامیوں کا کہنا تھا کہ سلطنت سے تجارت اور کاروبار بڑھتا ہے۔ دوسروں کا خیال تھا کہ یہ بہت زیادہ پھیل چکی ہے: ہندوستان کی شمال مغربی سرحد (North West Frontier) اور جنوبی افریقہ جیسی جگہوں پر مسلسل لڑائی ہو رہی تھی، جس پر بہت سے وسائل خرچ ہوتے تھے۔ پھر بھی زیادہ تر برطانوی لوگوں کا ماننا تھا کہ سلطنت دنیا میں "بھلائی کی طاقت" (force for good) ہے۔
1899 سے 1902 تک کی بوئر جنگ (Boer War) نے اس بحث کو اور زیادہ سنگین بنا دیا۔ جنوبی افریقہ میں برطانیہ نے بوئرز (Boers) سے جنگ لڑی، جو نیدرلینڈز (ہالینڈ) سے آنے والے آبادکاروں کی اولاد تھے۔ بوئرز نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور جنگ تین سال سے زیادہ چلی۔ بہت سے فوجی لڑائی میں مارے گئے، اور اس سے بھی زیادہ بیماری سے مرے۔ برطانیہ میں کچھ لوگوں کو بوئرز سے ہمدردی ہونے لگی اور وہ سوچنے لگے کہ کیا سلطنت قائم رہ سکے گی۔ جیسے جیسے سلطنت کے مختلف حصے ترقی کرتے گئے، انہیں برطانیہ سے زیادہ آزادی اور خود مختاری بھی ملتی گئی۔
اس ہمدردی کی ایک وجہ کیمپ بھی تھے۔ بوئر جنگ کے دوران برطانوی فوج نے کھیت جلائے اور بوئر عورتوں اور بچوں کو، اور سیاہ فام افریقیوں کو بھی، حراستی کیمپوں (concentration camps) میں رکھا۔ کیمپوں کے حالات بہت خراب تھے، اور وہاں 20,000 سے زیادہ بوئر عورتیں اور بچے مر گئے۔ جب یہ خبر برطانیہ پہنچی تو بہت غصہ پھیلا۔
کپلنگ: ایک ادیب جو سلطنت پر یقین رکھتا تھا
رڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling، 1865 تا 1936) ہندوستان میں پیدا ہوا۔ بعد میں وہ ہندوستان، برطانیہ اور امریکہ میں رہا۔ اس کی کتابوں اور نظموں کی کہانیاں ہندوستان اور برطانیہ میں ہوتی ہیں، اور ان سے اس کا یہ یقین جھلکتا ہے کہ سلطنت دنیا میں بھلائی کر رہی ہے۔ اسے 1907 میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ اس کی Just So Stories اور The Jungle Book آج بھی مقبول ہیں، اور جب برطانوی لوگ اپنی پسندیدہ نظموں کے لیے ووٹ دیتے ہیں تو اس کی نظم If اکثر سب سے اوپر والی نظموں میں آتی ہے۔
انعام ملتے وقت کپلنگ کی عمر صرف 41 سال تھی، اور وہ آج بھی ادب کا نوبیل انعام پانے والا سب سے کم عمر شخص ہے؛ وہ یہ انعام جیتنے والا انگریزی کا پہلا ادیب بھی تھا۔ لیکن اس نے نائٹ کا خطاب (knighthood) لینے سے انکار کر دیا، اور شاہی شاعر (Poet Laureate) بننے سے بھی۔ ڈزنی (Disney) کے کارٹون کا لڑکا موگلی (Mowgli) اور ریچھ بالو (Baloo) دونوں اس کی کتاب The Jungle Book سے آئے ہیں۔
بیسویں صدی کے آغاز پر سلطنت پہلے سے کہیں زیادہ بڑی تھی۔ لیکن چند ہی برسوں میں اسے اب تک کی سب سے کڑی آزمائش کا سامنا کرنا تھا: ایک عالمی جنگ۔
اہم نکات
| 1714 جارج اول | ملکہ این کا سب سے قریبی پروٹسٹنٹ رشتہ دار، جرمنی سے |
|---|---|
| 1721 تا 1742 والپول | برطانیہ کا پہلا وزیرِ اعظم |
| 1746 کلوڈن | بونی پرنس چارلی کو جارج دوم کی فوج نے شکست دی؛ اس کے بعد ہائی لینڈ کلیئرنسز ہوئیں |
| روشن خیالی (Enlightenment) | ایڈم اسمتھ (معاشیات)، ہیوم (فلسفہ)، واٹ (بھاپ) |
| صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) | برطانیہ میں سب سے پہلے صنعت کاری ہوئی؛ بیسیمر طریقہ، نہریں، آرک رائٹ کے کارخانے، بچوں سے مزدوری |
| 1810 دین محمد | لندن میں برطانیہ کا پہلا کری ہاؤس کھولا اور شیمپوئنگ متعارف کروائی |
| 1807 اور 1833 | 1807: غلاموں کی تجارت پر پابندی؛ 1833: ایمنسیپیشن ایکٹ نے سلطنت میں غلامی ختم کی؛ کویکرز، ولبرفورس |
| 1776 اور 1783 | 1776: شمالی امریکہ کی 13 نوآبادیوں نے آزادی کا اعلان کیا؛ 1783: برطانیہ نے اسے تسلیم کیا |
| 1805 ٹرافالگر | نیلسن جیتا مگر مارا گیا؛ اس کا کالم ٹرافالگر اسکوائر میں ہے اور HMS Victory پورٹس متھ میں |
| 1815 واٹر لو | "آہنی ڈیوک" ویلنگٹن نے نپولین کو ہرایا اور بعد میں وزیرِ اعظم بنا |
| 1801 یونین فلیگ | سینٹ جارج + سینٹ اینڈریو + سینٹ پیٹرک؛ ویلز کا ڈریگن نہیں |
| 1837 تا 1901 وکٹوریہ | 18 سال کی عمر میں ملکہ بنی، تقریباً 64 سال حکومت کی؛ 400 ملین سے زیادہ لوگوں کی سلطنت |
| 1846 اور 1847 | 1846: کارن لاز منسوخ (آزاد تجارت)؛ 1847: عورتوں اور بچوں کے کام کی حد دن میں 10 گھنٹے |
| 1851 عظیم نمائش | ہائیڈ پارک کے کرسٹل پیلس میں ہوئی |
| برونیل | پورٹس متھ میں پیدا ہوا؛ گریٹ ویسٹرن ریلوے (پیڈنگٹن اسٹیشن)؛ اس کے بہت سے پل آج بھی استعمال میں ہیں |
| 1853 تا 1856 کریمیا | روس کے خلاف جنگ؛ پہلی جنگ جس کی میڈیا نے بڑے پیمانے پر خبریں دیں؛ وکٹوریہ کراس؛ فلورنس نائٹنگیل |
| آئرلینڈ کا قحط | 1 ملین مرے اور 1.5 ملین ملک چھوڑ گئے؛ فینینز آزادی چاہتے تھے، پارنیل ہوم رول |
| 1832 اور 1867 کی اصلاحات | پاکٹ اور روٹن بوروز ختم؛ چارٹسٹوں نے مزدور طبقے کے ووٹ کے لیے مہم چلائی |
| سفریجیٹس (Suffragettes) | پینکھرسٹ نے 1903 میں WSPU قائم کرنے میں مدد دی؛ 1918 میں 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو ووٹ کا حق ملا، اور 1928 میں 21 سال کی عمر میں |
| 1899 تا 1902 بوئر جنگ | جنوبی افریقہ میں ڈچ آبادکاروں کی اولاد کے خلاف لڑی گئی؛ کپلنگ کو 1907 میں نوبیل انعام ملا |