اٹھارویں صدی تا 1833

غلاموں کی تجارت اور اسے ختم کرنے کی جدوجہد

کہانی 8 میں سے 8

برطانیہ کی تجارتی ترقی اور دولت کا ایک حصہ غلاموں کی تجارت پر کھڑا تھا۔ خود برطانیہ کے اندر غلامی غیر قانونی تھی، لیکن اٹھارویں صدی تک بیرونِ ملک غلاموں کی تجارت ایک جمی جمائی صنعت بن چکی تھی، جسے زیادہ تر برطانیہ اور شمالی امریکہ میں اس کی نوآبادیاں چلاتی تھیں۔

غلام بنائے گئے زیادہ تر لوگ مغربی افریقہ سے آتے تھے۔ انہیں برطانوی جہازوں میں ٹھونس کر انتہائی ہولناک حالات میں امریکہ اور کیریبین لے جایا جاتا تھا، جہاں ان سے تمباکو اور گنے کے بڑے بڑے فارموں (plantations) پر زبردستی کام لیا جاتا تھا۔ ان کے رہنے اور کام کرنے کے حالات بہت برے تھے۔ بہت سے لوگوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، اور کچھ نے اپنے مالکوں کے خلاف بغاوت کی۔

ولیم ولبرفورس کی آئل پینٹنگ: سرمئی بال، گہرے رنگ کا کوٹ اور کریم رنگ کی واسکٹ
ولیم ولبرفورس (William Wilberforce)، جس نے پارلیمنٹ میں غلامی کے خلاف مہم کی قیادت کی، تقریباً 1794 کی ایک تصویر میں۔ اس نے غلاموں کی تجارت ختم کروانے کے لیے تقریباً 20 سال جدوجہد کی۔ جولائی 1833 میں اسے خبر ملی کہ غلامی ختم کرنے کا قانون یقینی طور پر منظور ہو جائے گا، اور اس کے تین دن بعد وہ فوت ہو گیا۔ پینٹنگ: Karl Anton Hickel، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

اٹھارویں صدی کے آخر میں کویکرز (Quakers) نے غلامی کے خلاف پہلے باقاعدہ گروہ بنائے اور پارلیمنٹ سے اس پر پابندی لگانے کی درخواست کی۔ ولیم ولبرفورس (William Wilberforce)، جو ایک ایوینجلیکل (evangelical) عیسائی اور رکنِ پارلیمنٹ تھا، نے غلامی ختم کرنے کی مہم چلانے والے دوسرے لوگوں (abolitionists) کے ساتھ مل کر کام کیا، اور غلاموں کی تجارت کے بارے میں عوام کی سوچ بدلنے میں مدد دی۔

1833 کے بعد برطانیہ نے آزاد ہونے والے غلاموں کی جگہ لینے کے لیے ہندوستان اور چین سے 2 ملین مزدور منگوائے۔ انہیں کیریبین میں گنے کے فارموں پر کام کرنے، جنوبی افریقہ کی کانوں میں کام کرنے، مشرقی افریقہ میں ریلوے بنانے، اور کینیا میں فوج میں خدمات انجام دینے کے لیے بھیجا گیا۔

کوئز

In which year did the Emancipation Act abolish slavery throughout the British Empire?

سوال اردو میںایمنسیپیشن ایکٹ (Emancipation Act) نے کس سال پوری برطانوی سلطنت میں غلامی ختم کی؟

دور کی فہرست: 1700 تا 1800