1215 اور اس کے بعد

میگنا کارٹا: بادشاہ کو بھی قانون ماننا ہوگا

کہانی 5 میں سے 2

قرونِ وسطیٰ کے جاگیرداری نظام میں لارڈز بادشاہ کو سپاہی دیتے تھے، لیکن وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ بادشاہ ان کے حقوق کا احترام کرے۔ یہ خیال پہلی بار کب لکھا گیا؟ اس کا جواب 1215 سے شروع ہوتا ہے۔ اس سال بادشاہ جان (King John) کا اپنے امرا سے سخت جھگڑا ہو گیا۔ (جان نام کا بادشاہ آج تک صرف ایک ہی ہوا ہے، اسی لیے اس کے نام کے بعد کوئی نمبر نہیں ہے۔) وہ بار بار ٹیکس بڑھاتا اور جنگیں ہارتا رہا، اور آخرکار امرا کا صبر جواب دے گیا۔ لندن کے مغرب میں دریائے ٹیمز (River Thames) کے کنارے ایک سبزہ زار رنی میڈ (Runnymede) میں انہوں نے اسے میگنا کارٹا (Magna Carta) نام کی ایک دستاویز قبول کرنے پر مجبور کیا۔ یہ لاطینی نام ہے جس کا مطلب ہے "عظیم منشور" (Great Charter)۔ اس وقت تک بادشاہ کے اختیار پر تقریباً کوئی سرکاری پابندی نہیں تھی۔

اس کے پیچھے بڑا خیال سادہ تھا: بادشاہ کو بھی قانون کی پابندی کرنی ہوگی۔ اس نے امرا کے حقوق کی حفاظت کی اور بادشاہ کو اپنی مرضی سے ٹیکس بڑھانے، یا قانون بنانے اور بدلنے سے روک دیا۔

1215 کے میگنا کارٹا کی ایک اصل نقل: چرمی کاغذ کی ایک بڑی شیٹ پر گنجان لاطینی تحریر
1215 کا ایک اصل میگنا کارٹا، جو برٹش لائبریری (British Library) میں محفوظ ہے۔ پوری عبارت لاطینی میں ہے اور پارچمنٹ (parchment) کی ایک ہی شیٹ پر لکھی گئی ہے، یعنی جانور کی کھال جسے لکھنے کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ British Library، Cotton MS Augustus II.106، CC0، بذریعہ Wikimedia Commons

عملی طور پر میگنا کارٹا صرف تقریباً دس ہفتے چلا۔ اسی سال اگست میں پوپ (Pope) نے اسے کالعدم قرار دے دیا، اور بادشاہ اور امرا جلد ہی پھر سے جنگ میں الجھ گئے؛ بعد کے بادشاہوں نے اس کے کئی نئے نسخے جاری کیے، اور آہستہ آہستہ ہی یہ انگریزی قانون کی بنیادوں میں سے ایک بنا۔ بادشاہ جان نے اس پر کبھی دستخط بھی نہیں کیے، اس کے بجائے اس پر شاہی مہر لگائی گئی۔ 1215 کی صرف چار نقلیں باقی بچی ہیں: دو برٹش لائبریری میں ہیں، اور باقی دو لنکن (Lincoln) اور سالسبری (Salisbury) کے کیتھیڈرلز (بڑے گرجا گھروں) کی ملکیت ہیں۔

پارلیمنٹ کی پیدائش

بادشاہوں کے پاس ہمیشہ مشیروں کا ایک حلقہ ہوتا تھا، جس میں طاقتور امرا اور چرچ کے رہنما شامل تھے۔ جب بھی بادشاہ کو پیسوں کی ضرورت ہوتی، وہ انہیں ایک اجلاس کے لیے اکٹھا کرتا۔ یہیں سے پارلیمنٹ (Parliament) کی شروعات ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہ دو حصوں میں بٹ گئی، جنہیں "ایوان" (Houses) کہتے ہیں:

دارالامرا (House of Lords)
امرا، بڑے زمیندار اور بشپ (چرچ کے بڑے عہدیدار)
دارالعوام (House of Commons)
نائٹ (عام طور پر چھوٹے زمیندار) اور قصبوں کے امیر لوگ

لیکن دارالعوام کے ارکان کو ووٹ دینے کا حق بہت ہی کم لوگوں کے پاس تھا۔ اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ تین گروہوں پر مشتمل تھی، جنہیں اسٹیٹس (Estates) کہا جاتا تھا: لارڈز، عوام (commons) اور پادری طبقہ (clergy)، یعنی چرچ کے رہنما۔

اسی دور میں یہ خیال بھی شکل لینے لگا کہ جج حکومت سے آزاد ہونے چاہییں۔ انگلینڈ میں جج پہلے کے فیصلوں اور پرانی روایات کو دیکھ کر مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے، اور اسی سے رفتہ رفتہ کامن لا (common law) بنا۔ اسکاٹ لینڈ میں قانون کو "مدوّن" (codified) کیا گیا، یعنی اسے قواعد کے ایک مجموعے کی صورت میں لکھ دیا گیا۔

کوئز

What did the Magna Carta establish in 1215?

سوال اردو میں1215 میں میگنا کارٹا نے کیا اصول قائم کیا؟
A: کہ بادشاہ بھی قانون کے تابع ہے
B: کہ تمام بالغ افراد ووٹ دے سکتے ہیں
C: کہ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی ایک ہی مشترکہ پارلیمنٹ ہوگی
D: کہ چرچ آف انگلینڈ روم سے آزاد ہے

کوئز

In the Middle Ages, who sat in the House of Commons?

سوال اردو میںقرونِ وسطیٰ میں دارالعوام (House of Commons) میں کون بیٹھتا تھا؟
A: بشپ اور بڑے زمیندار
B: صرف شاہی خاندان کے افراد
C: نائٹ اور قصبوں اور شہروں کے امیر لوگ
D: انگلینڈ کے تمام کسان

دور کی فہرست: 1200 تا 1400