چودھویں تا پندرھویں صدی

انگریزی کی واپسی: چاسر اور کیکسٹن

کہانی 5 میں سے 5

1066 کی نارمن فتح (Norman Conquest) کے بعد انگلینڈ کے امرا فرانسیسی بولتے تھے جبکہ کسان قدیم انگریزی (Old English) بولتے تھے۔ تین سو سال بعد صورتِ حال پلٹ چکی تھی۔ 1400 تک انگلینڈ میں سرکاری کاغذات انگریزی میں لکھے جانے لگے تھے، اور شاہی دربار اور پارلیمنٹ اب فرانسیسی کے بجائے انگریزی کو ترجیح دیتے تھے۔

یہ کایا کیوں پلٹی؟ اس کی ایک اہم وجہ سو سالہ جنگ تھی۔ ایک صدی سے زیادہ فرانس سے لڑتے رہنے کے بعد فرانسیسی رفتہ رفتہ "دشمن کی زبان" بن گئی، اور انگلینڈ کے امرا خود کو فرانسیسی کے بجائے زیادہ سے زیادہ انگریز سمجھنے لگے۔

اس زمانے کا سب سے مشہور ادیب جیفری چاسر (Geoffrey Chaucer) تھا۔ اس نے انگریزی میں نظموں کا ایک مجموعہ لکھا جس کا نام The Canterbury Tales (کینٹربری کی کہانیاں) ہے۔ اس میں زائرین (یعنی مذہبی سفر پر جانے والے لوگوں) کا ایک گروہ ایک ساتھ کینٹربری (Canterbury) جا رہا ہے، اور راستے میں وقت گزارنے کے لیے وہ باری باری کہانیاں سناتے ہیں۔

شاعری چاسر کی اصل نوکری نہیں تھی۔ وہ ایک شاہی افسر تھا جو بادشاہ کے تعمیراتی کاموں کا نگران تھا، اور 1400 میں جب وہ فوت ہوا تو اسی عہدے کی وجہ سے اسے ویسٹ منسٹر ایبی (Westminster Abbey) میں قبر ملی۔ بعد میں زیادہ سے زیادہ شاعر اس کے قریب دفن ہوتے گئے، اور ایبی کا وہ حصہ مشہور "پوئٹس کارنر" (Poets' Corner) یعنی شاعروں کا گوشہ بن گیا۔

ایلزمیئر نسخے سے گھوڑے پر سوار چاسر کی تصویر
پندرھویں صدی کے اوائل کے ایلزمیئر نسخے (Ellesmere manuscript) میں چاسر، جو بالکل اپنے زائرین کی طرح گھوڑے پر سوار ہے۔ نامعلوم مصور، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

بعد میں ولیم کیکسٹن (William Caxton) انگلینڈ میں چھاپہ خانے (printing press) سے کتابیں چھاپنے والا پہلا شخص بنا، اور The Canterbury Tales اس کی چھاپی ہوئی بالکل ابتدائی کتابوں میں سے ایک تھی۔ اس سے پہلے ہر کتاب کو ہاتھ سے، لفظ بہ لفظ نقل کرنا پڑتا تھا۔ چھاپہ خانے کی بدولت آخرکار انگریزی کتابیں بڑی تعداد میں تیار ہو سکتی تھیں۔

کیکسٹن کی چھاپی ہوئی The Canterbury Tales کا ایک صفحہ
The Canterbury Tales کے اس ایڈیشن کا ایک صفحہ جو کیکسٹن نے لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر (Westminster) میں چھاپا (تقریباً 1477)۔ Beinecke Library، Yale University، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

اسکاٹ لینڈ میں بہت سے لوگ اب بھی گیلک (Gaelic) بولتے تھے، جبکہ اسکاٹس (Scots) زبان بھی پروان چڑھ رہی تھی۔ شاعر جان باربر (John Barbour) نے اسکاٹس زبان میں ایک طویل نظم The Bruce لکھی، جو بینک برن کی جنگ کی کہانی سناتی ہے۔

قلعے، بڑے گرجا گھر اور بیرونِ ملک سے آئے ہنرمند

قرونِ وسطیٰ میں بہت سے قلعے بنے، اور ان میں سے کچھ آج بھی استعمال ہو رہے ہیں، جیسے ونڈسر (Windsor) اور ایڈنبرا (Edinburgh)۔ بڑے بڑے کیتھیڈرل (بڑے گرجا گھر) بھی بنے، جیسے لنکن (Lincoln)۔ ان کی کھڑکیاں اکثر رنگین شیشے (stained glass) کی ہوتی تھیں، جن پر بائبل کی اور سینٹس (مقدس ہستیوں) کی کہانیاں دکھائی جاتی تھیں۔ یارک منسٹر (York Minster) اس کی ایک مشہور مثال ہے۔

انگلینڈ نے بیرونِ ملک اون بیچ کر بہت پیسہ کمایا۔ اس نے دوسرے ملکوں سے ہنرمند کاریگر بھی اپنی طرف کھینچے: فرانس سے جولاہے، جرمنی سے انجینئر، اٹلی سے شیشہ بنانے والے، اور ہالینڈ (Holland) سے ایسے لوگ جو نہریں بنانا جانتے تھے۔

کوئز

Who wrote The Canterbury Tales, a collection of poems about pilgrims travelling to Canterbury?

سوال اردو میںکینٹربری جانے والے زائرین کے بارے میں نظموں کا مجموعہ The Canterbury Tales کس نے لکھا؟

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? In England, the first person to produce books on a printing press was William Caxton.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: انگلینڈ میں چھاپہ خانے پر کتابیں تیار کرنے والا پہلا شخص ولیم کیکسٹن تھا۔

دور کی فہرست: 1200 تا 1400