1603 تا 1640

بادشاہ بمقابلہ پارلیمنٹ: بادشاہوں کا الٰہی حق

کہانی 10 میں سے 2

سترہویں صدی کے اوائل میں انگلینڈ میں ایک بڑی کشمکش زور پکڑ رہی تھی: اصل طاقت کس کے پاس ہے، بادشاہ کے پاس یا پارلیمنٹ کے پاس؟ الزبتھ اول پارلیمنٹ کو سنبھالنے میں بہت ماہر تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اپنی خواہشات، دارالامرا (House of Lords) کی خواہشات اور دارالعوام (House of Commons) کی خواہشات کے درمیان کیسے راستہ نکالنا ہے، جبکہ دارالعوام زیادہ سے زیادہ پروٹسٹنٹ ہوتا جا رہا تھا۔

جیمز اول اور اس کا بیٹا چارلس اول (Charles I) اتنے ماہر نہیں تھے۔ دونوں بادشاہوں کے الٰہی حق (Divine Right of Kings) پر یقین رکھتے تھے: یعنی یہ خیال کہ بادشاہ کو خود خدا چنتا ہے، اس لیے بادشاہ کو اپنے کسی بھی کام کے لیے پارلیمنٹ کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

چارلس اول، جو انگلینڈ، ویلز، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ بنا، بالکل اسی طرح حکومت کرتا تھا۔ جب پارلیمنٹ نے اس کی مذہبی اور خارجہ پالیسیوں سے اختلاف کیا تو اس نے اسے بلانا ہی بند کر دیا۔ 11 سال تک اس نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر پیسہ اکٹھا کرنے کا ہر ممکن طریقہ آزمایا، یہاں تک کہ اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والی مشکلات نے اسے پارلیمنٹ دوبارہ بلانے پر مجبور کر دیا۔

وین ڈائک کی بنائی ہوئی چارلس اول کی تہری تصویر: ایک ہی پینٹنگ میں ایک ہی چہرہ بائیں طرف سے، سامنے سے اور دائیں طرف سے
انتھونی وین ڈائک (Anthony van Dyck) کی بنائی ہوئی چارلس اول کی تہری تصویر، 1635 تا 1636۔ یہ روم بھیجی گئی تاکہ مجسمہ ساز برنینی (Bernini) اسے دیکھ کر بادشاہ کا سنگِ مرمر کا نیم قد مجسمہ تراش سکے۔ پینٹنگ: Anthony van Dyck، Royal Collection، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

کوئز

James I and Charles I shared a belief that led Charles I to try to govern without Parliament. What was it called?

سوال اردو میںجیمز اول اور چارلس اول دونوں ایک ہی عقیدہ رکھتے تھے، جس کی وجہ سے چارلس اول نے پارلیمنٹ کے بغیر حکومت کرنے کی کوشش کی۔ اس عقیدے کا نام کیا تھا؟
A: قانون کی حکمرانی
B: ہیبیس کارپس
C: بادشاہوں کا الٰہی حق
D: آئینی بادشاہت

دور کی فہرست: 1600 تا 1700