کڑھائی کے انداز کی تصویر: بائیں طرف لکڑی کا ایک جلتا ہوا مکان، درمیان میں گنبد والا سینٹ پال کیتھیڈرل، اور دائیں طرف بلوط کا ایک درخت جس کی شاخوں میں ایک تاج چھپا ہوا ہے
ہینڈ بک
باب 3: تاریخ
دور
1603 تا 1714
مطالعہ
تقریباً 18 منٹ
کوئز
17 سوال

اسٹورٹ خاندان: خانہ جنگی، لندن کی بڑی آگ اور شاندار انقلاب

ایک بادشاہ پر اس کی اپنی پارلیمنٹ مقدمہ چلاتی ہے اور اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔ گیارہ سال بعد اس کے بیٹے کو واپس بلا کر بادشاہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے تیس سال سے بھی کم عرصے بعد پارلیمنٹ باہر سے ایک میاں بیوی کو بادشاہ اور ملکہ بنانے کے لیے لے آتی ہے، مگر ایک شرط پر: آج کے بعد بادشاہ کو پارلیمنٹ کی بات ماننی ہوگی۔

اسٹورٹ خاندان (the Stuarts) کے تقریباً سو سالوں میں برطانیہ "بادشاہ فیصلہ کرتا ہے" سے "پارلیمنٹ فیصلہ کرتی ہے" تک پہنچ گیا۔ اس سفر میں ایک طاعون آیا، ایک ایسی آگ لگی جس نے آدھا لندن جلا دیا، اور نیوٹن کا کششِ ثقل کا نظریہ سامنے آیا۔

  1. 1603اسکاٹ لینڈ کا جیمز ششم (James VI) انگلینڈ کا جیمز اول (James I) بھی بن جاتا ہے
  2. 1611بائبل کا کنگ جیمز ورژن (King James Version) شائع ہوتا ہے
  3. 1642انگلش خانہ جنگی (English Civil War) شروع ہوتی ہے: کیولیئرز بمقابلہ راؤنڈ ہیڈز
  4. 1649چارلس اول (Charles I) کو سزائے موت دی جاتی ہے اور انگلینڈ جمہوریہ بن جاتا ہے
  5. 1660بادشاہت کی بحالی (Restoration): چارلس دوم (Charles II) وطن واپس آ کر بادشاہ بنتا ہے
  6. 1665 تا 1666عظیم طاعون اور لندن کی بڑی آگ
  7. 1679ہیبیس کارپس ایکٹ (Habeas Corpus Act)
  8. 1688شاندار انقلاب (Glorious Revolution): ولیم آف اورنج، جیمز دوم کی جگہ لیتا ہے
  9. 1689بل آف رائٹس (Bill of Rights)، آئینی بادشاہت کا آغاز
  10. 1707ایکٹ آف یونین (Act of Union) سے مملکتِ برطانیہ عظمیٰ (Kingdom of Great Britain) وجود میں آتی ہے
  11. 1714ملکہ این فوت ہو جاتی ہے اور اسٹورٹ دور ختم ہو جاتا ہے
اسٹورٹ خاندان کا شجرہ: جیمز اول، چارلس اول، 1649 سے 1660 تک کوئی بادشاہ نہیں، پھر چارلس دوم، جیمز دوم، میری دوم اور ولیم سوم، اور ملکہ این۔ ایک اور شاخ جیمز اول کی بیٹی الزبتھ سے اس کی بیٹی صوفیہ تک اور پھر 1714 میں جارج اول تک جاتی ہے
اسٹورٹ خاندان کا شجرہ۔ سرخ نمبر بتاتے ہیں کہ کس نے کس ترتیب سے حکومت کی، اور درمیان میں گہری سرخ پٹی ان 11 سالوں کو ظاہر کرتی ہے جب کوئی بادشاہ نہیں تھا۔

1603: ایک بادشاہ، دو تاج

الزبتھ اول (Elizabeth I) نے کبھی شادی نہیں کی، اور جب 1603 میں وہ فوت ہوئی تو اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ تخت اس کے ایک رشتے دار کو ملا: اسکاٹس کی ملکہ میری (Mary, Queen of Scots) کا بیٹا، جو پہلے ہی اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ جیمز ششم (James VI) تھا۔ اسی وقت اسے انگلینڈ، ویلز اور آئرلینڈ کے تاج بھی مل گئے، جہاں وہ جیمز اول (James I) کہلایا۔

اس کے بعد سے انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ ایک ہی تھا، لیکن اسکاٹ لینڈ پھر بھی ایک الگ ملک تھا، جس کی اپنی پارلیمنٹ اور اپنے قوانین تھے۔ اپنی ماں کے برعکس جیمز اول پروٹسٹنٹ (Protestant) تھا۔

اسی لیے ایک ہی شخص کے دو نمبر ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں جیمز نام کے پانچ بادشاہ پہلے گزر چکے تھے، لیکن انگلینڈ میں اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہوا تھا، اس لیے وہ اسکاٹ لینڈ میں "ششم" تھا اور انگلینڈ میں "اول"۔ آگے چل کر ایسا چند بار اور ہوتا ہے، اور امتحان میں اس کے بارے میں سوال اکثر پوچھا جاتا ہے۔

کنگ جیمز بائبل

جیمز اول کے دورِ حکومت کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک بائبل کا نیا انگریزی ترجمہ تھا۔ یہ کنگ جیمز ورژن (King James Version) ہے، جسے آتھرائزڈ ورژن (Authorised Version) بھی کہتے ہیں، اور یہ 1611 میں شائع ہوا۔ یہ انگریزی میں بائبل کا پہلا ترجمہ نہیں تھا، لیکن بہت سے پروٹسٹنٹ چرچ آج بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔

اس کی چھپائی ہمیشہ ٹھیک نہیں رہی۔ 1631 میں لندن کے ایک چھاپہ خانے نے اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا، لیکن دس احکام (Ten Commandments) میں سے ایک میں لفظ "not" (نہیں) چھوٹ گیا، اور اب اس میں لکھا تھا: "Thou shalt commit adultery"، یعنی "تم زنا کرو" (اپنے شوہر یا بیوی سے بے وفائی کرو)۔ یہ ایڈیشن "وکڈ بائبل" (Wicked Bible)، یعنی "بدکار بائبل"، کے نام سے مشہور ہو گیا۔ چھاپنے والوں پر بھاری جرمانہ ہوا، زیادہ تر نسخے تلف کر دیے گئے، اور آج صرف گنتی کے چند نسخے باقی ہیں۔

بارود کی سازش (Gunpowder Plot) اور یونین فلیگ

1605 میں کیتھولک (Catholic) لوگوں کے ایک گروہ نے منصوبہ بنایا کہ پارلیمنٹ کی عمارت (Houses of Parliament) کو بارود سے اڑا دیا جائے اور پروٹسٹنٹ بادشاہ جیمز اول کو قتل کر دیا جائے۔ یہ منصوبہ ناکام رہا، اور گائی فاکس (Guy Fawkes)، جو بارود کی نگرانی کر رہا تھا، موقع پر ہی پکڑا گیا۔ برطانیہ کے لوگ آج بھی ہر سال 5 نومبر کو بون فائر نائٹ (Bonfire Night) پر آتش بازی کر کے اس واقعے کو یاد کرتے ہیں۔

1606 میں انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے جھنڈوں کو ملا کر پہلا یونین فلیگ (Union Flag) بنایا گیا۔ اس پر ویلز کا سرخ اژدہا نہیں ہے، کیونکہ اس وقت تک ہنری ہشتم (Henry VIII) کے قوانین کے ذریعے ویلز پہلے ہی انگلینڈ کے ساتھ ملایا جا چکا تھا۔ ان قوانین کا ذکر آپ پچھلے باب میں پڑھ چکے ہیں۔

کوئز

After Elizabeth I's death in 1603, which ruler inherited her throne and was known in England as James I?

سوال اردو میں1603 میں الزبتھ اول کی وفات کے بعد کس حکمران کو اس کا تخت ورثے میں ملا اور وہ انگلینڈ میں جیمز اول کہلایا؟

کوئز

Which of the following statements is correct?

سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟
A: کنگ جیمز ورژن بائبل کا انگریزی ترجمہ ہے جو آج بھی بہت سے پروٹسٹنٹ چرچوں میں استعمال ہوتا ہے۔
B: کنگ جیمز ورژن بائبل کا انگریزی میں سب سے پہلا ترجمہ تھا۔

آئرلینڈ: السٹر کی آبادکاریاں

جیمز اول کی تین بادشاہتوں میں سے ایک آئرلینڈ تھی، جہاں زیادہ تر لوگ اب بھی کیتھولک تھے، اور ٹیوڈر حکمرانوں (Tudors) کی زبردستی پروٹسٹنٹ مذہب نافذ کرنے کی کوششوں نے وہاں گہرا غصہ پیدا کر دیا تھا۔ الزبتھ اول اور جیمز اول کے دور میں بہت سے آئرش لوگوں نے انگلینڈ کی پروٹسٹنٹ حکومت کی حکمرانی کی مخالفت کی، اور کئی بغاوتیں ہوئیں۔ انگریز حکومت کا جواب یہ تھا کہ اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے پروٹسٹنٹ لوگوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ آئرلینڈ کے شمال میں السٹر (Ulster) جا کر بسیں، اور وہ زمین سنبھال لیں جو کیتھولک زمینداروں کی تھی۔

ان نئی بستیوں کو پلانٹیشنز (plantations) کہا جاتا تھا۔ نئے آنے والوں میں سے بہت سے اسکاٹ لینڈ کے جنوب مغرب سے تھے، اور کچھ زمین لندن کی کمپنیوں کو دے دی گئی۔ بعد میں جیمز اول نے آئرلینڈ کے دوسرے حصوں میں بھی اسی طرح کی پلانٹیشنز قائم کیں۔ ان پلانٹیشنز نے انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے لیے ایسے گہرے مسائل پیدا کیے جو صدیوں تک چلتے رہے۔

سٹی آف لندن (City of London) کی تجارتی انجمنوں (گلڈز) نے پلانٹیشنز کے لیے پیسہ دیا تھا، اس لیے 1613 میں آئرلینڈ کے شمال میں ڈیری (Derry) شہر کا نام بدل کر "لندن ڈیری" (Londonderry) رکھ دیا گیا۔ آج بھی کوئی شخص کون سا نام استعمال کرتا ہے، اس سے اکثر اس کی سیاسی سوچ ظاہر ہو جاتی ہے، اور یہ پلانٹیشنز آج کے شمالی آئرلینڈ میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک لوگوں کے درمیان تقسیم کی جڑوں میں سے ایک ہیں۔

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? Under Elizabeth I and James I, Protestant settlers from Scotland and England were encouraged to settle in Ulster, taking land from Catholic landholders.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: الزبتھ اول اور جیمز اول کے دور میں اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے پروٹسٹنٹ آبادکاروں کو السٹر میں بسنے کی ترغیب دی گئی، اور انہوں نے کیتھولک زمینداروں کی زمین لے لی۔

بادشاہ بمقابلہ پارلیمنٹ: بادشاہوں کا الٰہی حق

ادھر انگلینڈ میں اس سے بھی بڑی کشمکش زور پکڑ رہی تھی: اصل طاقت کس کے پاس ہے، بادشاہ کے پاس یا پارلیمنٹ کے پاس؟ الزبتھ اول پارلیمنٹ کو سنبھالنے میں بہت ماہر تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اپنی خواہشات، دارالامرا (House of Lords) کی خواہشات اور دارالعوام (House of Commons) کی خواہشات کے درمیان کیسے راستہ نکالنا ہے، جبکہ دارالعوام زیادہ سے زیادہ پروٹسٹنٹ ہوتا جا رہا تھا۔

اس کے بعد آنے والے بادشاہ اتنے ماہر نہیں تھے۔ جیمز اول اور اس کا بیٹا چارلس اول (Charles I) دونوں بادشاہوں کے الٰہی حق (Divine Right of Kings) پر یقین رکھتے تھے: یعنی یہ خیال کہ بادشاہ کو خود خدا چنتا ہے، اس لیے بادشاہ کو اپنے کسی بھی کام کے لیے پارلیمنٹ کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

چارلس اول، جو انگلینڈ، ویلز، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ بنا، بالکل اسی طرح حکومت کرتا تھا۔ جب پارلیمنٹ نے اس کی مذہبی اور خارجہ پالیسیوں سے اختلاف کیا تو اس نے اسے بلانا ہی بند کر دیا۔ 11 سال تک اس نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر پیسہ اکٹھا کرنے کا ہر ممکن طریقہ آزمایا، یہاں تک کہ اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والی مشکلات نے اسے پارلیمنٹ دوبارہ بلانے پر مجبور کر دیا۔

وین ڈائک کی بنائی ہوئی چارلس اول کی تہری تصویر: ایک ہی پینٹنگ میں ایک ہی چہرہ بائیں طرف سے، سامنے سے اور دائیں طرف سے
انتھونی وین ڈائک (Anthony van Dyck) کی بنائی ہوئی چارلس اول کی تہری تصویر، 1635 تا 1636۔ یہ روم بھیجی گئی تاکہ مجسمہ ساز برنینی (Bernini) اسے دیکھ کر بادشاہ کا سنگِ مرمر کا نیم قد مجسمہ تراش سکے۔ پینٹنگ: Anthony van Dyck، Royal Collection، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

کوئز

James I and Charles I shared a belief that led Charles I to try to govern without Parliament. What was it called?

سوال اردو میںجیمز اول اور چارلس اول دونوں ایک ہی عقیدہ رکھتے تھے، جس کی وجہ سے چارلس اول نے پارلیمنٹ کے بغیر حکومت کرنے کی کوشش کی۔ اس عقیدے کا نام کیا تھا؟
A: قانون کی حکمرانی
B: ہیبیس کارپس
C: بادشاہوں کا الٰہی حق
D: آئینی بادشاہت

انگلش خانہ جنگی

اس جنگ کی چنگاری ایک دعاؤں کی کتاب بنی۔ چارلس اول چاہتا تھا کہ چرچ آف انگلینڈ (Church of England) کی عبادت میں زیادہ رسمیں ہوں، اس لیے اس نے دعاؤں کی ایک نظرثانی شدہ کتاب (Prayer Book) جاری کی۔ اس نے اسکاٹ لینڈ کے پریسبیٹیرین (Presbyterian) چرچ کو بھی اسے استعمال کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ اسکاٹ لوگ سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے ایک فوج کھڑی کر لی۔

1637 میں جب ایڈنبرا (Edinburgh) کے سینٹ جائلز کیتھیڈرل (St Giles' Cathedral) میں پہلی بار نئی دعاؤں کی کتاب استعمال ہوئی تو عبادت ہنگامے میں بدل گئی۔ مشہور کہانی کے مطابق جینی گیڈس (Jenny Geddes) نام کی بازار میں سودا بیچنے والی ایک عورت کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے اپنا اسٹول (بیٹھنے کی چوکی) پادری پر دے مارا۔ مؤرخین کو یقین نہیں کہ وہ کبھی حقیقت میں موجود بھی تھی، اس لیے یہ غالباً ایک داستان ہے، لیکن کیتھیڈرل میں آج بھی اس کی یاد میں ایک مجسمہ موجود ہے۔

چارلس اول کے پاس اسکاٹس کے خلاف فوج کا خرچ اٹھانے کے لیے پیسہ نہیں تھا، اس لیے 1640 میں اسے پارلیمنٹ بلا کر رقم مانگنی پڑی۔ لیکن اس کے بہت سے ارکان پیوریٹن (Puritans) تھے: یعنی ایسے پروٹسٹنٹ جو چاہتے تھے کہ مذہبی تعلیم اور عبادت سخت اور سادہ ہو۔ انہیں بادشاہ کے مذہبی خیالات پسند نہیں تھے، اور جب اسکاٹ فوج انگلینڈ میں داخل ہو چکی تھی تب بھی پارلیمنٹ نے اسے پیسہ دینے سے انکار کر دیا۔

پھر آئرلینڈ میں بھی بغاوت پھوٹ پڑی، کیونکہ آئرش کیتھولک پیوریٹنز کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ تھے۔ پارلیمنٹ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور انگریز فوج کا کنٹرول مانگ لیا، جس سے بادشاہ کی بہت سی طاقت چھن جاتی۔ چارلس آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ پارلیمنٹ کے پانچ رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے خود دارالعوام میں جا پہنچا، لیکن کسی نے انہیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا اور وہ جا چکے تھے۔

اس دن کے بعد سے آج تک کسی بادشاہ یا ملکہ نے دارالعوام کے اندر قدم نہیں رکھا۔ ہر سال پارلیمنٹ کے سرکاری افتتاح (State Opening of Parliament) کے موقع پر ایک سرکاری عہدے دار، جسے "بلیک راڈ" (Black Rod) کہتے ہیں، بادشاہ یا ملکہ کی طرف سے ارکانِ پارلیمنٹ (MPs) کو بلانے آتا ہے، اور جب وہ دارالعوام کے دروازے تک پہنچتا ہے تو ارکان زور سے دروازہ اس کے سامنے بند کر دیتے ہیں۔ پھر بلیک راڈ کو تین بار دستک دینی پڑتی ہے، تب جا کر اسے اندر آنے دیا جاتا ہے۔ یہ رسم یاد دلاتی ہے کہ دارالعوام بادشاہ یا ملکہ کو زبردستی اندر گھسنے نہیں دے گا۔

1642 میں بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان خانہ جنگی چھڑ گئی۔ ملک دو فریقوں میں بٹ گیا:

کیولیئرز (Cavaliers)
بادشاہ کے حامی۔ لمبے گھنگریالے بالوں اور پروں والی ٹوپیوں کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں۔
راؤنڈ ہیڈز (Roundheads)
پارلیمنٹ کے حامی۔ یہ نام (یعنی "گول سر") ان میں سے کچھ لوگوں کے چھوٹے کٹے ہوئے بالوں کی وجہ سے پڑا۔

کوئز

Which TWO statements about the English Civil War are correct?

سوال اردو میںانگلش خانہ جنگی کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟
A: کیولیئرز وہ لوگ تھے جو بادشاہ کے حامی تھے۔
B: راؤنڈ ہیڈز وہ لوگ تھے جو بادشاہ کے حامی تھے۔
C: یہ جنگ 1745 میں شروع ہوئی جب بونی پرنس چارلی اسکاٹ لینڈ میں اترا۔
D: راؤنڈ ہیڈز وہ لوگ تھے جو پارلیمنٹ کے حامی تھے۔

اولیور کرامویل اور بادشاہ کے بغیر 11 سال

اسٹورٹ دور کا نقشہ: خانہ جنگی کی لڑائیاں مارسٹن مور اور نیزبی؛ ڈنبار اور ووسٹر میں چارلس دوم پر کرامویل کی فتوحات؛ وہ جگہ جہاں چارلس دوم بلوط کے درخت میں چھپا؛ 1660 میں نیدرلینڈز سے چارلس دوم کی واپسی؛ 1688 میں ٹوربے پر ولیم آف اورنج کا اترنا؛ اور کلی کرینکی، گلینکو اور بوائن
اس باب کے مقامات۔ گہرا سرخ رنگ خانہ جنگی اور کرامویل کے دور کی لڑائیوں کو ظاہر کرتا ہے؛ نیلا رنگ شاندار انقلاب کے بعد کی لڑائیوں کو۔ ولیم نیدرلینڈز سے اسی چینل (Channel) سے ہو کر آیا جسے سو سال پہلے آرماڈا (Armada) نے استعمال کیا تھا۔

پارلیمنٹ کی فوجوں نے بادشاہ کی فوج کو پہلے مارسٹن مور (Marston Moor) اور پھر نیزبی (Naseby) میں شکست دی۔ 1646 تک صاف ظاہر ہو چکا تھا کہ بادشاہ جنگ ہار چکا ہے۔

چارلس اول پارلیمنٹ کی فوج کی قید میں تھا، لیکن پھر بھی اس نے پارلیمنٹ کے ساتھ کوئی سمجھوتا کرنے سے انکار کر دیا۔ 1649 میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔

چھاپے کی تصویر: لندن میں وائٹ ہال کے بینکوئٹنگ ہاؤس کے سامنے سزائے موت کا چبوترا؛ جلاد ہجوم کے سامنے چارلس اول کا سر بلند کیے ہوئے ہے
1649 کی ایک جرمن چھپی ہوئی تصویر، جس میں لندن کے وائٹ ہال (Whitehall) میں بینکوئٹنگ ہاؤس (Banqueting House) کے باہر چارلس اول کا سر قلم ہوتے دکھایا گیا ہے۔ یہ 30 جنوری 1649 کا ایک سخت سرد دن تھا، اور کہا جاتا ہے کہ چارلس نے ایک اضافی قمیص مانگی تاکہ وہ سردی سے کانپے نہیں اور ہجوم یہ نہ سمجھے کہ وہ ڈر رہا ہے۔ وہ اسی عمارت سے اپنی موت کی طرف چل کر نکلا، جس کی چھت روبنز (Rubens) کی بڑی بڑی پینٹنگز سے بھری ہوئی ہے، جو خود چارلس نے اپنے والد جیمز اول اور بادشاہوں کے الٰہی حق کی شان میں بنوائی تھیں۔ نامعلوم مصور، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

کامن ویلتھ

انگلینڈ ایک جمہوریہ بن گیا، جسے کامن ویلتھ (Commonwealth) کہا جاتا تھا، اور اس کا کوئی بادشاہ یا ملکہ نہیں تھا۔ شروع میں کسی کو یقین نہیں تھا کہ ملک کیسے چلایا جائے، اور عملاً فوج کا کنٹرول تھا۔

فوج کے ایک جرنیل اولیور کرامویل (Oliver Cromwell) کو آئرلینڈ بھیجا گیا۔ وہاں 1641 میں شروع ہونے والی ایک بغاوت ابھی تک جاری تھی، اور ایک فوج بھی موجود تھی جو بادشاہ کے لیے لڑتی تھی۔ کرامویل نے آئرش لوگوں کو انگریز پارلیمنٹ کی اطاعت پر مجبور کر دیا، لیکن اس کے طریقے اتنے ظالمانہ تھے کہ آئرلینڈ میں لوگ آج بھی اس کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ نے چارلس اول کے قتل کو کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ اسکاٹس نے اس کے بیٹے چارلس دوم (Charles II) کو بادشاہ قرار دیا اور اسکاٹ لینڈ میں اس کی تاج پوشی کی۔ چارلس دوم ایک اسکاٹ فوج کی قیادت کرتے ہوئے انگلینڈ میں داخل ہوا، لیکن کرامویل نے اسے ڈنبار (Dunbar) میں اور پھر ووسٹر (Worcester) میں شکست دی۔ چارلس ووسٹر سے بھاگ نکلا، ایک موقع پر بلوط کے ایک درخت پر چھپا، اور آخرکار یورپ فرار ہو گیا۔ اب اسکاٹ لینڈ بھی پارلیمنٹ کے کنٹرول میں تھا۔

وہ بلوط کا درخت انگلینڈ کے وسط میں بوسکوبیل (Boscobel) کے مقام پر تھا، اور اسے ڈھونڈنے والے سپاہی عین اس کے نیچے سے گزرے۔ جب وہ بادشاہ بنا تو یہ کہانی بار بار سنائی گئی، اور "دی رائل اوک" (The Royal Oak)، یعنی "شاہی بلوط"، برطانیہ میں پبوں کے سب سے عام ناموں میں سے ایک بن گیا۔ یادگار جمع کرنے کے شوقین لوگوں نے اصل درخت کو آہستہ آہستہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا؛ آج وہاں کھڑا بلوط اصل درخت کے ایک بیج (acorn) سے چلنے والی نسل سے اُگا ہے۔

آئرلینڈ اور ووسٹر کے بعد سب لوگ کرامویل کو نئی جمہوریہ کا رہنما سمجھنے لگے۔ اس نے لارڈ پروٹیکٹر (Lord Protector) کا لقب اختیار کیا اور 1658 میں اپنی موت تک حکومت کی۔ پھر اس کا بیٹا رچرڈ (Richard) لارڈ پروٹیکٹر بنا، لیکن وہ نہ فوج کو قابو میں رکھ سکا نہ حکومت کو۔ اب تک ملک 11 سال بادشاہ کے بغیر گزار چکا تھا، اور کرامویل کے بغیر نہ کوئی واضح رہنما تھا نہ حکومت چلانے کا کوئی طے شدہ طریقہ۔ بہت سے لوگ استحکام کے لیے ترس رہے تھے، اور بادشاہ کو واپس لانے کی باتیں ہونے لگیں۔

کرامویل کبھی بادشاہ نہیں بنا: 1657 میں پارلیمنٹ نے اسے تاج پیش کیا، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ چارلس دوم کی واپسی کے بعد کرامویل کی لاش قبر سے نکال کر پھانسی پر لٹکائی گئی، اور اس کا سر ویسٹ منسٹر ہال (Westminster Hall) کی چھت پر ایک ڈنڈے پر لگا دیا گیا، جہاں وہ بیس سال سے زیادہ عرصے تک رہا۔ پھر یہ سر تقریباً تین صدیوں تک ایک مالک سے دوسرے مالک کے پاس جاتا رہا، یہاں تک کہ 1960 میں اسے کیمبرج کے سڈنی سسیکس کالج (Sidney Sussex College) میں دفن کر دیا گیا، جہاں کرامویل نے تعلیم حاصل کی تھی۔

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? Marston Moor and Naseby were the battles in which Cromwell defeated the Scottish army of Charles II.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: مارسٹن مور اور نیزبی وہ جنگیں تھیں جن میں کرامویل نے چارلس دوم کی اسکاٹش فوج کو شکست دی۔

کوئز

After Cromwell defeated him at Worcester, how did Charles II famously avoid being captured?

سوال اردو میںووسٹر میں کرامویل سے شکست کے بعد چارلس دوم گرفتاری سے کیسے بچا، جس کے لیے وہ مشہور ہے؟
A: اس نے ٹاور آف لندن میں پناہ لی
B: وہ وہاں کی شاہ پرست فوج سے ملنے آئرلینڈ چلا گیا
C: وہ آئل آف اسکائی کے ایک غار میں چھپ گیا
D: وہ بلوط کے ایک درخت میں چھپ گیا

کوئز

What title was given to Oliver Cromwell as the leader of the new republic?

سوال اردو میںنئی جمہوریہ کے رہنما کے طور پر اولیور کرامویل کو کون سا لقب دیا گیا؟
A: انگلینڈ کا بادشاہ
B: وزیرِ اعظم
C: لارڈ پروٹیکٹر
D: لارڈ چانسلر

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? After Charles I was executed in 1649, his son immediately became King Charles II of England.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: 1649 میں چارلس اول کو سزائے موت ملنے کے بعد اس کا بیٹا فوراً انگلینڈ کا بادشاہ چارلس دوم بن گیا۔

بادشاہت کی بحالی: چارلس دوم کی واپسی

مئی 1660 میں پارلیمنٹ نے چارلس دوم سے، جو نیدرلینڈز (Netherlands) میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا، واپس آنے کی درخواست کی۔ اس کی تاج پوشی چاروں ملکوں، یعنی انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ، کے بادشاہ کے طور پر ہوئی۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ پھر کبھی "اپنے سفر پر نکلنا" (to go on his travels) نہیں چاہتا، یعنی دوبارہ جلاوطن نہیں ہونا چاہتا۔

چارلس دوم جانتا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی من مانی نہیں کر سکتا؛ کبھی کبھی اسے پارلیمنٹ کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ زیادہ تر معاملات میں پارلیمنٹ نے اس کے کاموں کی حمایت کی۔ چرچ آف انگلینڈ ایک بار پھر سرکاری چرچ بن گیا، اور نہ کیتھولکوں کو اقتدار میں کوئی حصہ دیا گیا، نہ پیوریٹنز کو۔

1665: عظیم طاعون؛ 1666: بڑی آگ

1665 میں لندن میں طاعون پھیل گیا (عظیم طاعون، Great Plague)، جس سے ہزاروں لوگ مارے گئے، اور سب سے زیادہ نقصان غریب ترین علاقوں کا ہوا۔ پھر 1666 میں لندن کی بڑی آگ (Great Fire of London) نے شہر کا بڑا حصہ جلا کر راکھ کر دیا۔ بہت سے چرچ تباہ ہو گئے، اور پرانا سینٹ پال کیتھیڈرل (St Paul's Cathedral) بھی۔

آئل پینٹنگ: رات کے وقت جلتا ہوا لندن، جس سے گاڑھا دھواں اٹھ رہا ہے؛ سامنے دریائے ٹیمز پر چھوٹی کشتیاں اور پرانا لندن برج
دریائے ٹیمز (Thames) سے دکھائی دینے والی لندن کی بڑی آگ، جو تقریباً 1675 میں پینٹ کی گئی۔ بائیں طرف پرانا لندن برج (London Bridge) ہے، جس پر اس زمانے میں ابھی تک مکان بنے ہوئے تھے۔ نامعلوم مصور، Museum of London، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

شہر دوبارہ تعمیر ہوا، اور نئے سینٹ پال کیتھیڈرل کا ڈیزائن مشہور ماہرِ تعمیرات سر کرسٹوفر رین (Sir Christopher Wren) نے بنایا۔ سیموئل پیپس (Samuel Pepys) نے ایک ڈائری لکھی جس میں اس نے اپنی آنکھوں دیکھے واقعات بیان کیے۔ یہ ڈائری کئی سال بعد چھپی، اور لوگ آج بھی اسے پڑھتے ہیں۔

اوپر سے لی گئی سینٹ پال کیتھیڈرل کی تصویر، جس کا بڑا سرمئی گنبد سٹی آف لندن کی عمارتوں کے اوپر ابھرا ہوا ہے
رین کا بنایا ہوا سینٹ پال کیتھیڈرل۔ اس کی تعمیر 1675 میں شروع ہوئی اور اس میں تیس سال سے زیادہ لگے۔ سامنے اکیلا کھڑا مینار رین کے ایک اور چرچ کا گھنٹی والا مینار ہے، جو دوسری عالمی جنگ میں بمباری کے بعد کھڑا رہ گیا۔ تصویر: Diliff، CC BY-SA 3.0، بذریعہ Wikimedia Commons

آگ پڈنگ لین (Pudding Lane) میں ایک نانبائی کی دکان سے شروع ہوئی اور چار دن تک جلتی رہی، جس سے تقریباً 13,000 مکان تباہ ہوئے۔ پیپس نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ اس نے اپنے باغ میں ایک گڑھا کھودا اور اس میں اپنی شراب اور ایک پارمیزان پنیر (Parmesan) دفن کر دیا، اس امید پر کہ یہ بچ جائیں گے۔ آج بڑی آگ کی یادگار (Monument) 61 میٹر اونچی ہے، جو ٹھیک اتنا ہی ہے جتنا اس کا فاصلہ اس جگہ سے ہے جہاں وہ نانبائی کی دکان تھی۔ رین خود سینٹ پال میں دفن ہے، اور اس کی قبر کے کتبے پر لاطینی میں لکھا ہے: "پڑھنے والے، اگر تم اس کی یادگار ڈھونڈ رہے ہو تو اپنے چاروں طرف دیکھو۔"

ہیبیس کارپس ایکٹ

1679 میں ہیبیس کارپس ایکٹ (Habeas Corpus Act) قانون بنا، اور یہ آج بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہیبیس کارپس (Habeas corpus) ایک لاطینی جملہ ہے جس کا تقریباً مطلب ہے "تمہیں اس شخص کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا"۔ اس ایکٹ نے یقینی بنایا کہ کسی کو بھی قانونی وجہ کے بغیر قید نہیں کیا جا سکتا، اور جیل میں قید ہر شخص کو یہ حق ہے کہ عدالت اس کا مقدمہ سنے۔

یہ قانون بڑی مشکل سے منظور ہوا۔ اس زمانے کے ایک بشپ، گلبرٹ برنیٹ (Gilbert Burnet)، کے مطابق جب دارالامرا میں اس پر ووٹنگ ہوئی تو ووٹ گننے والے ایک لارڈ نے مذاق میں ایک بہت موٹے لارڈ کو دس گن لیا، اور یوں قانون چند "اضافی" ووٹوں سے منظور ہو گیا۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جسے ثابت نہیں کیا جا سکتا، لیکن ریکارڈ سے یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ ووٹنگ میں مقابلہ بہت ہی کانٹے کا تھا۔

رائل سوسائٹی اور نیوٹن

چارلس دوم کو سائنس سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کے دور میں رائل سوسائٹی (Royal Society) قائم ہوئی تاکہ "قدرتی علم" کو فروغ دیا جائے، یعنی قدرتی دنیا کا مطالعہ۔ دنیا کی کوئی اور سائنسی سوسائٹی اس سے زیادہ عرصے سے قائم نہیں: یہ آج بھی کام کرنے والی سب سے پرانی سائنسی سوسائٹی ہے۔ اس کے ابتدائی ارکان میں سے دو تھے ایڈمنڈ ہیلی (Edmond Halley)، جس نے حساب لگایا کہ ایک مشہور دمدار ستارہ کب واپس آئے گا (اسی کے نام پر اسے ہیلی کا دمدار ستارہ کہا جاتا ہے)، اور سر آئزک نیوٹن (Sir Isaac Newton)۔

یہ وہی دمدار ستارہ ہے جو 1066 والے باب میں بایو ٹیپسٹری پر کڑھا ہوا تھا۔ ہیلی نے حساب لگایا کہ یہ تقریباً ہر 76 سال بعد واپس آتا ہے اور پیش گوئی کی کہ یہ 1758 میں لوٹے گا، لیکن وہ 1742 میں فوت ہو گیا، اس لیے اسے کبھی نہ دیکھ سکا۔ 1758 میں کرسمس کے دن یہ دمدار ستارہ واقعی لوٹ آیا، اور اسے ہیلی کا نام دے دیا گیا۔

نیوٹن (1643 تا 1727) مشرقی انگلینڈ کے لنکن شائر (Lincolnshire) سے تھا۔ اسے سائنس میں دلچسپی پہلی بار کیمبرج یونیورسٹی (Cambridge University) میں طالب علمی کے دوران ہوئی۔ اس کی سب سے مشہور کتاب Philosophiae Naturalis Principia Mathematica ہے ("فطری فلسفے کے ریاضیاتی اصول")۔ اس میں اس نے سمجھایا کہ کششِ ثقل پوری کائنات میں ہر جگہ ایک ہی طرح کام کرتی ہے۔ اس نے یہ بھی دریافت کیا کہ سفید روشنی میں قوسِ قزح کے تمام رنگ موجود ہوتے ہیں۔

نیوٹن کی تصویر: لمبے سرمئی بالوں والا ایک ادھیڑ عمر آدمی، گہرے رنگ کا لبادہ پہنے ہوئے
46 سال کی عمر میں نیوٹن، گاڈفری نیلر (Godfrey Kneller) کی 1689 کی پینٹنگ کی ایک نقل میں۔ اس سے دو سال پہلے وہ Principia شائع کر چکا تھا۔ Godfrey Kneller کی پینٹنگ کی نقل، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons

نیوٹن نے بڑھاپے میں سیب والی کہانی خود ایک دوست کو سنائی تھی: وہ اپنے خاندانی گھر کے باغ میں بیٹھا تھا، اس نے ایک سیب گرتے دیکھا، اور سوچنے لگا کہ سیب ہمیشہ سیدھا نیچے کیوں گرتا ہے۔ سیب کے سر پر لگنے والا حصہ بعد میں جوڑا گیا۔ اس سیب کے درخت کی نسل کا ایک درخت آج بھی کیمبرج کے ٹرینیٹی کالج (Trinity College) کے دروازے کے پاس اُگا ہوا ہے۔

کوئز

Which architect designed the new St Paul's Cathedral after the Great Fire of London in 1666?

سوال اردو میں1666 میں لندن کی بڑی آگ کے بعد نئے سینٹ پال کیتھیڈرل کا ڈیزائن کس ماہرِ تعمیرات نے بنایا؟

کوئز

Which of the following statements is correct?

سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟
A: 1679 کے ہیبیس کارپس ایکٹ نے ہر بالغ مرد کو ووٹ کا حق دیا۔
B: 1679 کے ہیبیس کارپس ایکٹ کے تحت کسی کو بھی قانونی وجہ کے بغیر جیل میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

کوئز

Which Lincolnshire-born scientist explained that gravity works throughout the universe?

سوال اردو میںلنکن شائر میں پیدا ہونے والے کس سائنس دان نے سمجھایا کہ کششِ ثقل پوری کائنات میں کام کرتی ہے؟

جیمز دوم اور شاندار انقلاب

جب چارلس دوم فوت ہوا تو تاج اس کے بھائی کو ملا۔ نیا بادشاہ کیتھولک تھا۔ انگلینڈ، ویلز اور آئرلینڈ میں وہ جیمز دوم (James II) تھا؛ اسکاٹ لینڈ میں وہ جیمز ہفتم (James VII) تھا۔

جیمز دوم کیتھولکوں کی طرف داری کرتا تھا اور اس نے ان میں سے کچھ کو فوج میں افسر بنا دیا، حالانکہ پارلیمنٹ کے ایک قانون نے اس پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اس نے پارلیمنٹ کو نظرانداز کیا اور چرچ آف انگلینڈ کے کئی بشپوں کو گرفتار بھی کروا دیا۔ انگلینڈ کے لوگوں کو ڈر تھا کہ وہ ملک کو دوبارہ کیتھولک بنانا چاہتا ہے۔

لیکن شروع میں لوگ زیادہ پریشان نہیں تھے، کیونکہ تخت کی اگلی وارث اس کی دو بیٹیاں تھیں، جو دونوں پکی پروٹسٹنٹ تھیں۔ پھر 1688 میں ملکہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ اچانک یوں لگنے لگا کہ اگلا بادشاہ بھی کیتھولک ہوگا۔

خون بہائے بغیر ایک انقلاب

جیمز دوم کی بڑی بیٹی میری (Mary) کی شادی اپنے کزن ولیم آف اورنج (William of Orange) سے ہوئی تھی۔ ولیم پروٹسٹنٹ تھا اور نیدرلینڈز پر حکومت کرتا تھا۔ 1688 میں طاقتور انگریز پروٹسٹنٹوں کے ایک گروہ نے ولیم سے کہا کہ وہ فوج لے کر آئے اور تخت سنبھال لے۔

جب ولیم پہنچا تو کسی نے اس کا مقابلہ نہیں کیا۔ جیمز دوم فرانس بھاگ گیا اور تخت ولیم کے لیے چھوڑ گیا۔ انگلینڈ، ویلز اور آئرلینڈ میں وہ ولیم سوم (William III) کہلایا، اور اسکاٹ لینڈ میں ولیم دوم (William II)۔ اس نے اپنی بیوی میری دوم (Mary II) کے ساتھ مل کر حکومت کی۔

بعد میں لوگوں نے اسے "شاندار انقلاب" (Glorious Revolution) کا نام دیا۔ یہ "شاندار" اس لیے تھا کہ انگلینڈ میں کوئی جنگ نہیں لڑی گئی، اور اس لیے کہ اس نے پارلیمنٹ کی طاقت کو پکا کر دیا: اس کے بعد کوئی بادشاہ یا ملکہ اکیلے حکومت نہیں کر سکتا تھا۔

ولیم 5 نومبر 1688 کو جنوب مغربی انگلینڈ میں ٹوربے (Torbay) کے مقام پر اترا تھا، بارود کی سازش کے ٹھیک 83 سال بعد، اور پروٹسٹنٹوں نے اسے خدا کی طرف سے ایک نشانی سمجھا۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگتے ہوئے جیمز دوم نے شاہی طاقت کی علامت، یعنی عظیم شاہی مہر (Great Seal)، دریائے ٹیمز میں پھینک دی۔ یہ افواہ بھی پھیلی کہ اس کا ننھا بیٹا ملکہ کا تھا ہی نہیں، بلکہ کسی اور بچے کو بستر گرم کرنے والے ڈھکن دار دھاتی برتن (warming pan) میں چھپا کر اس کے کمرے میں پہنچایا گیا تھا۔ یہ سیاسی پروپیگنڈا تھا، اور اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

انگلینڈ، ویلز، آئرلینڈاسکاٹ لینڈ
جیمز اول (James I)جیمز ششم (James VI)
جیمز دوم (James II)جیمز ہفتم (James VII)
ولیم سوم (William III)ولیم دوم (William II)

بوائن، کلی کرینکی اور گلینکو

جیمز دوم اپنا تاج واپس لینے پر تُلا ہوا تھا۔ فرانسیسی فوجوں کی مدد سے وہ آئرلینڈ میں اترا۔ 1690 میں آئرلینڈ میں ولیم نے اسے بوائن کی جنگ (Battle of the Boyne) میں شکست دی، ایک ایسی فتح جس کا جشن شمالی آئرلینڈ میں کچھ لوگ آج بھی مناتے ہیں۔ ولیم نے آئرلینڈ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا، اور جیمز ایک بار پھر فرانس بھاگ گیا۔ اس کے بعد آئرلینڈ میں کیتھولک چرچ پر بہت سی پابندیاں لگیں، اور آئرش کیتھولکوں کو حکومت سے باہر رکھا گیا۔

اسکاٹ لینڈ میں بھی جیمز کے حامی تھے۔ اس کی حمایت میں ایک مسلح بغاوت کو کلی کرینکی (Killiecrankie) میں جلد ہی کچل دیا گیا۔ پھر اسکاٹ لینڈ کے ہر قبیلے (clan) کو حکم دیا گیا کہ وہ ولیم کو بادشاہ تسلیم کرنے کا حلف اٹھائے۔ گلینکو کے میکڈونلڈ (MacDonalds of Glencoe) آخری تاریخ سے چوک گئے، اور سزا کے طور پر ان کا قتلِ عام کیا گیا۔ اس قتلِ عام کی وجہ سے کچھ اسکاٹس کے دل میں نئی حکومت کے خلاف گہری بداعتمادی پیدا ہو گئی۔

کچھ لوگ اب بھی جیمز کو جائز بادشاہ مانتے تھے، خاص طور پر اسکاٹ لینڈ میں۔ کچھ اس کے ساتھ جلاوطن ہو کر فرانس چلے گئے؛ دوسروں نے خفیہ طور پر اس کی حمایت کی۔ جیمز کے حامیوں کو جیکبائٹس (Jacobites) کہا جاتا تھا، جو جیمز کے لاطینی نام جیکوبس (Jacobus) سے نکلا ہے۔ ان کی کہانی اگلے باب میں جاری رہے گی۔

کوئز

Why were the MacDonalds of Glencoe massacred?

سوال اردو میںگلینکو کے میکڈونلڈ کا قتلِ عام کیوں کیا گیا؟
A: انہوں نے بارود کی سازش میں حصہ لیا تھا۔
B: انہوں نے ولیم کو بادشاہ تسلیم کرنے کا حلف بہت دیر سے اٹھایا۔
C: انہوں نے چارلس اول کی دعاؤں کی نئی کتاب استعمال کرنے سے انکار کیا۔
D: وہ کلوڈن میں بونی پرنس چارلی کی طرف سے لڑے تھے۔

کوئز

Which TWO statements about the Glorious Revolution of 1688 are correct?

سوال اردو میں1688 کے شاندار انقلاب کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟
A: چارلس دوم کو بادشاہ بننے کے لیے نیدرلینڈز سے واپس بلایا گیا۔
B: انگلینڈ میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔
C: ولیم آف اورنج بادشاہ بنا اور اس نے میری کے ساتھ مل کر حکومت کی۔
D: جیمز دوم پروٹسٹنٹ تھا جس کی جگہ ایک کیتھولک بادشاہ نے لے لی۔

بل آف رائٹس: آئینی بادشاہت کا آغاز

ولیم اور میری کی تاج پوشی پر حقوق کا ایک اعلامیہ (Declaration of Rights) پڑھ کر سنایا گیا۔ اس نے تصدیق کی کہ بادشاہ اب پارلیمنٹ کی رضامندی کے بغیر نہ ٹیکس لگا سکتا ہے اور نہ عدالتیں چلا سکتا ہے۔ اب سے تاج (یعنی بادشاہت) اور پارلیمنٹ کے درمیان طاقت بالکل مختلف طریقے سے بٹ گئی، اور پھر کبھی پہلے جیسی نہیں ہوئی۔

پھر 1689 کے بل آف رائٹس (Bill of Rights) نے قانون میں لکھ دیا کہ پارلیمنٹ کے کیا حقوق ہیں اور بادشاہ کی طاقت کی حد کہاں تک ہے:

بادشاہ یا ملکہ کون بنے، یہ پارلیمنٹ طے کرتی ہے، اور بادشاہ یا ملکہ کا پروٹسٹنٹ ہونا لازمی ہے
کم از کم ہر 3 سال بعد نئی پارلیمنٹ کا انتخاب لازمی ہے
ہر سال بادشاہ کو فوج اور بحریہ کے خرچ کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینی ہوتی ہے
نتیجہ: بادشاہ کو ایسے وزیروں کی ضرورت پڑی جو دونوں ایوانوں میں اکثریت کے ووٹ حاصل کر سکیں

وِگز اور ٹوریز: پارٹی سیاست کا آغاز

پارلیمنٹ میں دو بڑے گروہ بن گئے: وِگز (Whigs) اور ٹوریز (Tories)۔ یہیں سے پارٹی سیاست شروع ہوئی۔ آج کی کنزرویٹو پارٹی (Conservative Party) کو اب بھی کبھی کبھی ٹوریز کہا جاتا ہے۔

دونوں پارٹیوں کے نام ان کے مخالفین کے دیے ہوئے طنزیہ ناموں کے طور پر شروع ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ "وِگ" (Whig) ایک اسکاٹش لفظ سے آیا ہے جو باغی پریسبیٹیرینز کی توہین کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور "ٹوری" (Tory) ایک آئرش لفظ سے آیا ہے جس کا مطلب ہے قانون سے بھاگا ہوا مجرم یا ڈاکو۔ کافی عرصے تک ان ناموں سے پکارے جانے کے بعد دونوں فریق انہیں فخر سے استعمال کرنے لگے۔

آزاد پریس اور آئینی بادشاہت

1688 کے بعد کے سال آزاد پریس کے لیے بھی بہت اہم تھے، یعنی ایسے اخبارات اور دوسرا چھپا ہوا مواد جن پر حکومت کا کنٹرول نہ ہو۔ 1695 سے کوئی بھی شخص پہلے حکومت سے لائسنس لیے بغیر اخبار شائع کر سکتا تھا، اور اخبارات کی تعداد تیزی سے بڑھی۔

1688 کے بعد کے نئے قوانین آئینی بادشاہت (constitutional monarchy) کا آغاز تھے، یعنی ایسا نظام جس میں بادشاہ یا ملکہ کو پارلیمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر رہ کر حکومت کرنی ہوتی ہے۔ بادشاہ اب بھی بہت اہم تھا، لیکن کوئی ایسی پالیسی یا قدم زبردستی نافذ نہیں کر سکتا تھا جس کی پارلیمنٹ مخالف ہو۔ ولیم سوم کے بعد بادشاہ کے وزیر آہستہ آہستہ بادشاہ سے زیادہ طاقتور ہوتے گئے۔

لیکن یہ ابھی جدید جمہوریت نہیں تھی۔ بہت کم لوگ ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے ووٹ دے سکتے تھے: صرف وہ مرد جن کے پاس ایک خاص مقدار میں جائیداد ہو، اور عورتیں بالکل ووٹ نہیں دے سکتی تھیں۔ کچھ علاقوں میں ایک امیر خاندان طے کرتا تھا کہ کون منتخب ہوگا؛ ان نشستوں کو "پاکٹ بورو" (pocket boroughs)، یعنی "جیب میں پڑے حلقے"، کہا جاتا تھا۔ کچھ دوسری نشستوں پر ووٹ دینے والا تقریباً کوئی تھا ہی نہیں؛ انہیں "روٹن بورو" (rotten boroughs)، یعنی "گلے سڑے حلقے"، کہا جاتا تھا۔

سب سے مشہور روٹن بورو سالزبری (Salisbury) کے قریب اولڈ سیرم (Old Sarum) تھا۔ وہاں تقریباً کوئی نہیں رہتا تھا: بس ایک ویران پہاڑی تھی اور چند زمیندار جن کے پاس ووٹ کا حق تھا۔ پھر بھی یہ حلقہ دو ارکانِ پارلیمنٹ منتخب کرتا رہا، یہاں تک کہ 1832 کے ریفارم ایکٹ (Reform Act) نے اسے ختم کر دیا۔

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? According to the Bill of Rights of 1689, only a Protestant could be king or queen.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: 1689 کے بل آف رائٹس کے مطابق صرف پروٹسٹنٹ ہی بادشاہ یا ملکہ بن سکتا تھا۔

بڑھتی آبادی: نئے آنے والے

جب بادشاہ اور پارلیمنٹ اقتدار کے لیے کشمکش میں تھے، عام لوگوں کی زندگی بھی بدل رہی تھی۔ ان برسوں میں برطانیہ اور آئرلینڈ کے بہت سے لوگ امریکہ اور دوسری جگہوں کی نوآبادیوں میں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے بحری جہازوں پر روانہ ہوئے۔ اسی دوران نئے لوگ یہاں آ بھی رہے تھے:

خیال ہے کہ انگریزی لفظ "refugee" (پناہ گزین) اسی زمانے میں فرانسیسی لفظ réfugié سے آیا، اور پہلی بار ہیوگناٹس کے لیے استعمال ہوا۔ بہت سے ہیوگناٹ جولاہے مشرقی لندن کے اسپٹل فیلڈز (Spitalfields) میں آباد ہوئے اور ریشم بُننے کے لیے مشہور ہو گئے؛ ان کے پرانے مکان آج بھی وہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہودیوں کو کرامویل کے دور میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت ملی تھی (انہیں 1290 میں انگلینڈ سے نکال دیا گیا تھا)، اور بیوس مارکس سیناگاگ (Bevis Marks Synagogue)، جو 1701 میں کھلا، برطانیہ کا سب سے پرانا یہودی عبادت خانہ ہے جو آج بھی استعمال میں ہے۔

کوئز

Which TWO statements about the Huguenots are correct?

سوال اردو میںہیوگناٹس (Huguenots) کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟
A: وہ 1680 تا 1720 کے دوران فرانس سے برطانیہ آئے۔
B: وہ کیتھولک تھے جو اسپین میں ظلم سے بچ کر بھاگے تھے۔
C: وہ پروٹسٹنٹ تھے جن پر ان کے مذہب کی وجہ سے ظلم کیا گیا تھا۔
D: وہ 1656 میں آئے اور قرونِ وسطیٰ کے بعد پہلے یہودی آبادکار تھے۔

ملکہ این اور 1707 کا ایکٹ آف یونین

ولیم اور میری کے بعد تاج میری کی چھوٹی بہن ملکہ این (Queen Anne) کو ملا۔ این نام کی صرف ایک ہی ملکہ گزری ہے، اس لیے اس کے نام کے بعد کوئی نمبر نہیں آتا۔

این کی کوئی اولاد زندہ نہیں بچی، اس لیے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے بعد انگلینڈ، ویلز، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے تاج کون پہنے گا۔ چنانچہ 1707 میں دونوں فریقوں نے ایکٹ آف یونین (Act of Union) پر اتفاق کیا، جسے اسکاٹ لینڈ میں ٹریٹی آف یونین (Treaty of Union) کہا جاتا ہے۔ اس سے مملکتِ برطانیہ عظمیٰ (Kingdom of Great Britain) وجود میں آئی۔

اسکاٹ لینڈ ایک آزاد ملک نہیں رہا۔ لیکن اس نے اپنا قانونی نظام، اپنا تعلیمی نظام اور اپنا پریسبیٹیرین چرچ برقرار رکھا۔ آج بھی اسکاٹ لینڈ کے قوانین اور اسکول انگلینڈ سے مختلف ہیں۔

خود ملکہ این کی کہانی سے یہ فکر سمجھ میں آتی ہے۔ وہ کم از کم 17 بار حاملہ ہوئی، لیکن اس کا کوئی بچہ اس کے بعد زندہ نہیں رہا، اور اس کا واحد بیٹا جو بچپن کے ابتدائی سال گزار سکا، ولیم، ڈیوک آف گلوسٹر (William, Duke of Gloucester)، 1700 میں 11 سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اس لیے پارلیمنٹ نے پہلے سے ایک قانون منظور کر کے اس کے دور پار کے پروٹسٹنٹ رشتے داروں، یعنی جرمنی کے ہینوور کے شاہی خاندان (House of Hanover)، کو اگلا وارث قرار دے دیا۔

اسکاٹ لینڈ کے اتحاد پر راضی ہونے میں پیسے کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ 1690 کی دہائی میں اسکاٹ لینڈ نے وسطی امریکہ میں ڈیرین (Darien) کے مقام پر ایک نوآبادی بسانے کے منصوبے میں بھاری رقمیں لگائیں؛ یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوا اور قوم کی دولت کا ایک بڑا حصہ ڈوب گیا۔ معاہدے میں انگلینڈ نے اسکاٹ لینڈ کو معاوضہ دینے پر اتفاق کیا۔

ملکہ این 1714 میں فوت ہوئی، اور اس کے ساتھ اسٹورٹ دور ختم ہو گیا۔ پارلیمنٹ نے ایک جرمن کو اگلا بادشاہ چنا، اور برطانوی سیاست میں ایک نیا کردار سامنے آیا: وزیرِ اعظم۔ یہ سب اگلے باب میں ہے۔

کوئز

What did the Act of Union of 1707 create?

سوال اردو میں1707 کے ایکٹ آف یونین سے کیا وجود میں آیا؟
A: مملکتِ برطانیہ عظمیٰ
B: برطانیہ عظمیٰ اور آئرلینڈ کی متحدہ مملکت
C: انگلینڈ کی کامن ویلتھ (جمہوریہ)
D: چرچ آف اسکاٹ لینڈ

باب کا خلاصہ

1603: جیمز ششم و اولاسکاٹ لینڈ کا جیمز ششم انگلینڈ کا جیمز اول بنا؛ اسکاٹ لینڈ ایک الگ ملک رہا
کنگ جیمز ورژن (King James Version)بائبل کا کنگ جیمز (آتھرائزڈ) ورژن: پہلی انگریزی بائبل نہیں، لیکن آج بھی استعمال میں ہے
1605: بارود کی سازشکیتھولکوں نے بادشاہ کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی اور ناکام رہے؛ 5 نومبر کی بون فائر نائٹ
پلانٹیشنز (plantations)انگریز اور اسکاٹش پروٹسٹنٹ السٹر میں کیتھولک زمینداروں سے لی گئی زمین پر آباد ہوئے
بادشاہوں کا الٰہی حقجیمز اول اور چارلس اول کا عقیدہ تھا کہ بادشاہوں کو خدا مقرر کرتا ہے اور انہیں پارلیمنٹ کی منظوری کی ضرورت نہیں
1642: خانہ جنگیکیولیئرز بادشاہ کے حامی، راؤنڈ ہیڈز پارلیمنٹ کے حامی؛ مارسٹن مور اور نیزبی
1649: کامن ویلتھچارلس اول کو سزائے موت دی گئی اور انگلینڈ جمہوریہ بن گیا
لارڈ پروٹیکٹر (Lord Protector)کرامویل کا لقب؛ وہ کبھی بادشاہ نہیں بنا، اور اس نے 1658 تک حکومت کی
1660: بادشاہت کی بحالیچارلس دوم نیدرلینڈز سے واپس آ کر بادشاہ بنا
1665 / 1666عظیم طاعون / لندن کی بڑی آگ؛ رین کا نیا سینٹ پال؛ پیپس کی ڈائری
1679: ہیبیس کارپسغیر قانونی قید نہیں؛ ہر قیدی کو عدالت میں سماعت کا حق
رائل سوسائٹیآج تک قائم سب سے پرانی سائنسی سوسائٹی؛ ہیلی اور نیوٹن
آئزک نیوٹنلنکن شائر میں پیدا ہوا؛ کششِ ثقل؛ سفید روشنی میں قوسِ قزح کے تمام رنگ ہوتے ہیں
1688: شاندار انقلابکیتھولک جیمز دوم کی جگہ پروٹسٹنٹ ولیم سوم اور میری دوم آئے، انگلینڈ میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی
1689: بل آف رائٹسبادشاہ کا پروٹسٹنٹ ہونا لازمی؛ کم از کم ہر 3 سال بعد نئی پارلیمنٹ؛ آئینی بادشاہت کا آغاز
1690: بوائنولیم نے آئرلینڈ میں جیمز دوم کو شکست دی؛ جیمز کے حامی جیکبائٹس کہلائے
وِگز اور ٹوریزپارٹی سیاست کا آغاز
1695: آزاد پریساخبارات کو حکومت کے لائسنس کی ضرورت نہیں رہی
1656 / 1680 تا 1720یہودی لندن واپس آئے / فرانسیسی پروٹسٹنٹ ہیوگناٹس برطانیہ آئے
1707: ایکٹ آف یونینمملکتِ برطانیہ عظمیٰ؛ اسکاٹ لینڈ نے اپنا قانون، تعلیم اور پریسبیٹیرین چرچ برقرار رکھا
اس باب میں آپ کا اسکور
0 / 17

واپس: تاریخ