1714 میں برطانیہ نے ایک جرمن کو اپنا بادشاہ بننے کی دعوت دی، ایک ایسا آدمی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مشکل سے ہی انگریزی بول پاتا تھا۔ دو سو سال سے بھی کم عرصے بعد جزیرے پر بسا یہ چھوٹا سا ملک دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی پر حکومت کر رہا تھا، اور دنیا کے آدھے سے زیادہ لوہے، کوئلے اور سوتی کپڑے کی پیداوار یہیں ہوتی تھی۔ یہ "ایسی سلطنت جس پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا" کیسے بنی؟ اس کا جواب بھاپ کے انجنوں، نہروں اور جنگی جہازوں میں چھپا ہے، اور ایسی بہت سی کہانیوں میں بھی جو ہرگز قابلِ فخر نہیں۔
اس باب کے مقامات۔ ⚔ کا نشان جنگ کو ظاہر کرتا ہے، سرخ لکیریں ابتدائی ریلوے لائنیں ہیں اور نیلی نقطے دار لکیریں ہجرت کے راستے ہیں۔ ٹرافالگر اسپین کے جنوبی ساحل کے پاس سمندر میں ہے، نقشے کے کنارے سے باہر۔
1714جارج اول (George I) بادشاہ بننے کے لیے جرمنی سے آتا ہے
1721والپول (Walpole) پہلا وزیرِ اعظم بنتا ہے
1746کلوڈن کی جنگ (Battle of Culloden): بونی پرنس چارلی (Bonnie Prince Charlie) کو شکست ہوتی ہے
1776شمالی امریکہ کی تیرہ نوآبادیاں آزادی کا اعلان کرتی ہیں
1801آئرلینڈ یونین میں شامل ہوتا ہے اور یونین فلیگ (Union Flag) وجود میں آتا ہے
1805ٹرافالگر کی جنگ (Battle of Trafalgar): نیلسن (Nelson) جیت جاتا ہے مگر مارا جاتا ہے
1807برطانوی جہازوں اور بندرگاہوں پر غلاموں کی خرید و فروخت پر پابندی لگ جاتی ہے
1815واٹر لو کی جنگ (Battle of Waterloo): ڈیوک آف ویلنگٹن (Duke of Wellington) نپولین (Napoleon) کو شکست دیتا ہے
1832ریفارم ایکٹ (Reform Act) زیادہ لوگوں کو ووٹ کا حق دیتا ہے
1833ایمنسیپیشن ایکٹ (Emancipation Act) پوری سلطنت میں غلامی ختم کر دیتا ہے
1837ملکہ وکٹوریہ (Queen Victoria) 18 سال کی عمر میں تخت پر بیٹھتی ہے
1851کرسٹل پیلس (Crystal Palace) میں عظیم نمائش (Great Exhibition) کا افتتاح ہوتا ہے
1853 تا 1856جنگِ کریمیا (Crimean War)
1899 تا 1902بوئر جنگ (Boer War)
1901تقریباً 64 سال تخت پر رہنے کے بعد ملکہ وکٹوریہ فوت ہو جاتی ہے
جرمنی سے آیا بادشاہ، اور پہلا وزیرِ اعظم
جیسا کہ پچھلے باب میں بتایا گیا، ملکہ این (Queen Anne) کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ 1714 میں جب وہ فوت ہوئی تو پارلیمنٹ نے ایک جرمن شہزادے کو اگلا بادشاہ چنا: جارج اول (George I)۔ اسی کو کیوں؟ این کے تمام رشتہ داروں میں وہ سب سے قریبی رشتہ دار تھا جو پروٹسٹنٹ تھا۔ وہ ہینوور خاندان (House of Hanover) کا پہلا بادشاہ بھی تھا۔
اسکاٹ لینڈ میں جیکبائٹس (Jacobites) نے اسے بادشاہ ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس کی جگہ جیمز دوم (James II) کا بیٹا تخت پر بیٹھے، لیکن انہیں جلد ہی شکست ہو گئی۔
جارج اول کی انگریزی کمزور تھی، اس لیے وہ اپنے وزیروں پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔ پارلیمنٹ میں سب سے اہم وزیر کو بعد میں وزیرِ اعظم (Prime Minister) کہا جانے لگا۔ برطانیہ کا پہلا وزیرِ اعظم سر رابرٹ والپول (Sir Robert Walpole) تھا، جو 1721 سے 1742 تک اس عہدے پر رہا۔
والپول نے برطانیہ کو اس کا سب سے مشہور پتا بھی دیا۔ بادشاہ جارج دوم (George II) نے اسے لندن کی ڈاؤننگ اسٹریٹ (Downing Street) میں ایک مکان تحفے میں پیش کیا۔ والپول نے اسے اپنی ذاتی جائیداد نہیں بنایا، بلکہ بادشاہ سے کہا کہ یہ مکان خزانے کے پہلے لارڈ کے عہدے کو دے دیا جائے، تاکہ اس کے بعد جو بھی یہ کام سنبھالے وہ بھی وہاں رہ سکے۔ وہ 1735 میں اس گھر میں منتقل ہوا، اور تب سے 10 Downing Street وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔
کوئز
Who was the first Prime Minister of Britain?
سوال اردو میںبرطانیہ کا پہلا وزیرِ اعظم کون تھا؟
پہلا وزیرِ اعظم والپول تھا، 1721 سے 1742 تک۔ ڈیوک آف ویلنگٹن (Duke of Wellington) واٹر لو کی فتح کے بعد وزیرِ اعظم بنا ضرور، لیکن بہت بعد میں۔ کرامویل (Cromwell) سترھویں صدی میں جمہوریہ کے دور میں لارڈ پروٹیکٹر (Lord Protector) تھا، اور ولبرفورس (Wilberforce) وہ رکنِ پارلیمنٹ تھا جس نے غلامی کے خلاف مہم کی قیادت کی۔
آخری بغاوت: بونی پرنس چارلی اور کلوڈن
1745 میں اسٹورٹ (Stuart) خاندان نے ایک بار پھر تخت واپس لینے کی کوشش کی، اس بار جارج اول کے بیٹے جارج دوم (George II) سے۔ اس کوشش کی قیادت جیمز دوم کے پوتے چارلس ایڈورڈ اسٹورٹ (Charles Edward Stuart) نے کی، جو بونی پرنس چارلی (Bonnie Prince Charlie) کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔
وہ اسکاٹ لینڈ میں اترا، جہاں ہائی لینڈز (Highlands، یعنی اسکاٹ لینڈ کا پہاڑی علاقہ) کے قبیلوں نے اس کا ساتھ دیا اور ایک فوج بنا لی۔ اس نے شروع کی کچھ لڑائیاں جیتیں، لیکن 1746 میں جارج دوم کی فوج نے اسے کلوڈن کی جنگ (Battle of Culloden) میں شکست دے دی۔ چارلس بچ نکلا اور واپس یورپ کی سرزمین پر چلا گیا۔
ڈیوڈ موریئر (David Morier) کی بنائی ہوئی کلوڈن کی جنگ کی تصویر۔ اس کا اصل عنوان An Incident in the Rebellion of 1745 ہے۔
پینٹنگ: David Morier، Royal Collection Trust، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
کلوڈن کی لڑائی ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہو گئی، اور اسے اکثر برطانوی سرزمین پر لڑی جانے والی آخری باقاعدہ جنگ (pitched battle) کہا جاتا ہے، یعنی دو پوری فوجوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ لڑائی۔ اس کے بعد چارلس مہینوں تک ہائی لینڈز اور جزیروں پر چھپا رہا۔ فلورا میکڈونلڈ (Flora MacDonald) نام کی ایک عورت نے اسے "بیٹی برک" (Betty Burke) نامی آئرش نوکرانی کا بھیس پہنا کر کشتی کے ذریعے آئل آف اسکائی (Isle of Skye) تک فرار ہونے میں مدد دی، اور بعد میں لکھا گیا اسکاٹش گیت "اسکائی بوٹ سانگ" (Skye Boat Song) اسی فرار کی کہانی سناتا ہے۔
قبیلوں کا خاتمہ اور ہائی لینڈ کلیئرنسز
کلوڈن کے بعد قبیلوں (clans) کی زیادہ تر طاقت اور اثر و رسوخ ختم ہو گیا۔ جن سرداروں کو انگریز بادشاہ کا اعتماد حاصل تھا وہ زمیندار بن گئے، اور ان کے قبیلے کے لوگ ایسے کرایہ دار بن گئے جنہیں کرایہ ادا کرنا پڑتا تھا۔
اسکاٹ لینڈ کے بہت سے زمینداروں نے چھوٹے کھیت، جنہیں کرافٹس (crofts) کہا جاتا ہے، ختم کر دیے تاکہ بھیڑوں کے بڑے ریوڑوں اور مویشیوں کے گلوں کے لیے جگہ بن سکے۔ اسے ہائی لینڈ کلیئرنسز (Highland Clearances) کہا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے شروع تک لوگوں کو زبردستی زمین سے بے دخل کرنا بہت عام ہو چکا تھا، اور اسی زمانے میں بہت سے اسکاٹ لوگ شمالی امریکہ چلے گئے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
In the Highland Clearances, Scottish landlords got rid of crofts (small farms) to make room for sheep and cattle.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: ہائی لینڈ کلیئرنسز میں اسکاٹ لینڈ کے زمینداروں نے بھیڑوں اور مویشیوں کے لیے جگہ بنانے کی خاطر چھوٹے کھیت (crofts) ختم کر دیے۔
درست (TRUE)۔ زمینداروں نے بہت سے چھوٹے کھیت تباہ کر دیے تاکہ بھیڑوں کے بڑے ریوڑ اور مویشی رکھ سکیں۔ انیسویں صدی کے شروع میں لوگوں کو بے دخل کرنا بہت عام ہو گیا، اور بہت سے اسکاٹس ہجرت کر کے شمالی امریکہ چلے گئے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Bonnie Prince Charlie defeated the army of George II at the Battle of Culloden in 1746.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: 1746 میں کلوڈن کی جنگ میں بونی پرنس چارلی نے جارج دوم کی فوج کو شکست دی۔
بات اس کے الٹ تھی: کلوڈن میں جارج دوم کی فوج نے چارلس کو شکست دی، اور چارلس بھاگ کر یورپ چلا گیا۔ سال 1746 درست ہے؛ اصل چال یہ ہے کہ جیتا کون۔
روشن خیالی کا دور: اسکاٹ لینڈ کے عظیم مفکرین
جس زمانے میں ہائی لینڈز کے خاندان اپنی زمینوں سے نکالے جا رہے تھے، اسی زمانے میں اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹیوں اور شہروں میں خیالات کا سنہری دور شروع ہو رہا تھا۔ اٹھارویں صدی میں سیاست، فلسفے اور سائنس میں بہت سے نئے خیالات سامنے آئے۔ اس دور کو روشن خیالی کا دور (the Enlightenment) کہا جاتا ہے۔ اس کے کئی اہم ترین مفکرین اسکاٹش تھے:
ایڈم اسمتھ (Adam Smith) معاشیات کے بارے میں ایسے خیالات جن کا حوالہ لوگ آج بھی دیتے ہیں
ڈیوڈ ہیوم (David Hume) انسانی فطرت کے بارے میں لکھا، اور آج بھی فلسفیوں پر اثر رکھتا ہے
جیمز واٹ (James Watt) بھاپ کی طاقت پر اس کے کام نے صنعتی انقلاب کو آگے بڑھانے میں مدد دی
روشن خیالی کے اہم خیالات میں سے ایک یہ تھا کہ لوگوں کو اپنی مرضی کے سیاسی اور مذہبی عقائد رکھنے کی آزادی ہونی چاہیے، اور ریاست کو یہ نہیں بتانا چاہیے کہ وہ کیا مانیں۔ یہ آج بھی برطانیہ کا ایک اہم اصول ہے۔
اصل میں واٹ نے بھاپ کا انجن "ایجاد" نہیں کیا تھا۔ اس سے پہلے کے انجن زیادہ تر کانوں سے پانی باہر نکالنے کے کام آتے تھے، لیکن بہت زیادہ کوئلہ جلاتے تھے۔ گلاسگو یونیورسٹی (University of Glasgow) میں بھاپ کے ایک پرانے انجن کی مرمت کرتے ہوئے واٹ کو ایک "الگ کنڈینسر" (separate condenser) لگانے کا خیال آیا، جس سے انجن کہیں زیادہ مؤثر ہو گیا؛ بجلی کے سامان پر طاقت کی اکائی واٹ (watt) اسی کے نام پر ہے۔ ایڈم اسمتھ کی سب سے مشہور کتاب The Wealth of Nations (قوموں کی دولت) 1776 میں شائع ہوئی، یعنی اسی سال جب امریکہ نے آزادی کا اعلان کیا۔
اسکاٹش شاعر رابرٹ برنز (Robert Burns، 1759 تا 1796) بھی اسی دور کا ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں اسے "دی بارڈ" (The Bard)، یعنی "شاعر"، کہا جاتا ہے۔ اس نے اسکاٹس (Scots) زبان اور انگریزی میں نظمیں لکھیں، اور بہت سے پرانے لوک گیتوں کو نئی شکل دی۔ اس کا سب سے مشہور گیت Auld Lang Syne ہے، جسے برطانیہ میں لوگ نئے سال کے موقع پر مل کر گاتے ہیں؛ اس کی دھن دور دور تک پہنچی ہے، اور بہت سے ملکوں میں یہ گریجویشن اور الوداعی تقریبات میں بھی گائی جاتی ہے۔
کوئز
Which TWO were important Scottish thinkers of the Enlightenment?
سوال اردو میںان میں سے کون سے دو روشن خیالی کے دور کے اہم اسکاٹش مفکرین تھے؟
ایڈم اسمتھ (معاشیات) اور ڈیوڈ ہیوم (فلسفہ) دونوں اسکاٹ لینڈ کی روشن خیالی کے مفکر تھے۔ چاسر (Chaucer) قرونِ وسطیٰ کا ادیب تھا، The Canterbury Tales کا مصنف، اور والپول پہلا وزیرِ اعظم تھا، کوئی مفکر نہیں۔
صنعتی انقلاب: دنیا کی پہلی صنعتی قوم
نئے خیالات نے صرف سوچنے کا انداز نہیں بدلا، جلد ہی کام کرنے کا طریقہ بھی بدل گیا۔ اٹھارویں صدی سے پہلے برطانیہ کے زیادہ تر لوگ زمین پر، یعنی کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے۔ بہت سی گھریلو صنعتیں (cottage industries) بھی تھیں، جن میں خاندان گھر پر ہی کپڑا یا لیس (lace) بناتے تھے۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ کی صنعت بہت تیزی سے بڑھی۔ یہی صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) تھا۔ برطانیہ دنیا کا پہلا ملک تھا جہاں بڑے پیمانے پر صنعت کاری ہوئی۔ اس کی کنجی نئی مشینیں اور بھاپ کی طاقت تھی: کھیتی باڑی اور کارخانوں کی پیداوار دونوں میں مشینیں استعمال ہونے لگیں، اس لیے کام تیز ہو گیا اور پیداوار کہیں زیادہ بڑھ گئی۔
صنعتی انقلاب کے دو بڑے سلسلے: کوئلے اور بھاپ نے کارخانے چلائے، اور سستے فولاد (اسٹیل) نے ریلوے اور بھاپ کے جہازوں کو دنیا بھر میں پھیلا دیا۔ لوگ بھی پیچھے پیچھے دیہات سے قصبوں میں آ گئے۔
نئے کارخانوں کو کوئلے اور دوسرے خام مال کی ضرورت تھی۔ بہت سے لوگ دیہات چھوڑ کر کانوں اور کارخانوں میں کام کرنے لگے، اور کارخانوں میں چیزیں بنانے کا کام کھیتی باڑی سے آگے نکل کر روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔
بیسیمر طریقے (Bessemer process) نے بڑی مقدار میں فولاد بنانا ممکن کر دیا، جس سے جہاز سازی اور ریلوے کی صنعتوں کو بڑھنے میں مدد ملی۔ خام مال اور سامان کو شہروں اور بندرگاہوں تک پہنچانے کے لیے برطانیہ نے بہت سی نہریں بھی کھودیں، خاص طور پر مڈلینڈز (Midlands، یعنی وسطی انگلینڈ) اور شمالی انگلینڈ کے نئے صنعتی علاقوں میں۔
لیکن کام کے حالات بہت خراب تھے۔ مزدوروں کی حفاظت کے لیے کوئی قانون نہیں تھا، اور ان سے اکثر خطرناک جگہوں پر لمبے گھنٹے کام کروایا جاتا تھا۔ بچے بھی کام کرتے تھے، اور ان کے ساتھ بڑوں جیسا، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی برا سلوک ہوتا تھا۔
آرک رائٹ: حجام سے کارخانوں کے پیش رو تک
رچرڈ آرک رائٹ (Richard Arkwright، 1732 تا 1792) نے اپنا کام ایک حجام کے طور پر شروع کیا، جو بال رنگ سکتا تھا اور وِگیں (مصنوعی بال) بنا سکتا تھا۔ جب وگوں کا فیشن ختم ہو گیا تو وہ کپڑے کی صنعت میں آ گیا۔ اس نے کارڈنگ مشین (carding machine) کو بہتر بنایا (کارڈنگ کا مطلب ہے ریشوں میں کنگھی کرنا تاکہ وہ دھاگا کاتنے کے لیے تیار ہو جائیں)۔ اس نے ایک کتائی مل بھی لگائی جس میں گھوڑے ایک ہی مشین چلاتے تھے، اور بعد میں وہ بھاپ کے انجنوں پر منتقل ہو گیا۔ آرک رائٹ کو سب سے زیادہ اس بات کے لیے یاد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کارخانے بہت منظم اور منافع بخش انداز میں چلاتا تھا۔
اس "مؤثر" انتظام کا مزدوروں کے لیے کیا مطلب تھا، یہ اس کی مل سے پتا چلتا ہے۔ 1771 میں آرک رائٹ نے ڈربی شائر (Derbyshire) کے علاقے کرومفورڈ (Cromford) میں پانی کی طاقت سے چلنے والی ایک کتائی مل کھولی۔ مزدور 13، 13 گھنٹے کی دو شفٹوں میں کام کرتے تھے، اور کارخانے کے دروازے عین وقت پر بند ہو جاتے تھے: جو دیر سے آتا اسے اس دن اندر نہیں آنے دیا جاتا تھا، اور اس کی ایک اور دن کی تنخواہ بھی کاٹ لی جاتی تھی۔ وہ پورے پورے خاندانوں کو ملازم رکھتا تھا، جن میں بہت سے بچے بھی تھے، کچھ تو صرف سات سال کے۔ یہ مل اب ڈروینٹ ویلی ملز (Derwent Valley Mills) کا حصہ ہے، جو یونیسکو (UNESCO) کا عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage Site) ہے۔
ملکہ وکٹوریہ کے تخت پر بیٹھنے سے کچھ ہی پہلے باپ بیٹے جارج اور رابرٹ اسٹیفنسن (George and Robert Stephenson) نے بھاپ سے چلنے والے ریل انجن (steam locomotive) کی راہ ہموار کی۔ وکٹورین دور میں ریلوے کا جال تیزی سے پھیلا، اور بعد میں پوری سلطنت میں ریلوے لائنیں بنائی گئیں۔
کوئز
Why were canals built during the Industrial Revolution?
سوال اردو میںصنعتی انقلاب کے دوران نہریں کیوں بنائی گئیں؟ A: کارخانوں کو قصبوں، شہروں اور بندرگاہوں سے جوڑنے کے لیے B: جنوبی ساحل کو فرانسیسی حملے سے بچانے کے لیے C: ریلوے کی جگہ لینے کے لیے، جو بہت سست تھی D: لندن اور ایڈنبرا کے درمیان مسافروں کو لے جانے کے لیے
خام مال اور تیار مال لانے لے جانے کے لیے بہتر راستوں کی ضرورت تھی، اس لیے کارخانوں کو قصبوں، شہروں اور بندرگاہوں سے جوڑنے کے لیے نہریں کھودی گئیں، خاص طور پر مڈلینڈز اور شمالی انگلینڈ کے نئے صنعتی علاقوں میں۔ نہریں وکٹورین دور میں ریلوے کے بڑے پھیلاؤ سے پہلے بنیں، بعد میں نہیں، اور وہ سامان کے لیے تھیں، دفاع یا لمبے سفر کے مسافروں کے لیے نہیں۔
کوئز
What did the development of the Bessemer process make possible?
سوال اردو میںبیسیمر طریقہ (Bessemer process) تیار ہونے سے کیا ممکن ہوا؟ A: سوتی کپڑے کی بڑے پیمانے پر پیداوار B: برطانیہ کی پہلی عوامی ریلوے C: انگریزی میں کتابوں کی چھپائی D: فولاد (اسٹیل) کی بڑے پیمانے پر پیداوار
بیسیمر طریقہ فولاد کو بڑے پیمانے پر بنانے کا ایک طریقہ تھا، جس نے آگے چل کر جہاز سازی اور ریلوے کو فروغ دیا۔ سوتی کپڑا اور کتائی آرک رائٹ کی کہانی کا حصہ ہیں، اور کتابوں کی چھپائی پندرھویں صدی میں کیکسٹن (Caxton) تک جاتی ہے۔
تجارت اور نوآبادیاں: کری ہاؤس بھی اسی زمانے کی دین ہے
کارخانوں کو خام مال بھی چاہیے تھا اور اپنا مال بیچنے کے لیے خریدار بھی، اس لیے برطانیہ نے سمندر پار نظریں جمائیں۔ اس دور میں برطانیہ کی طاقت پوری دنیا میں پھیل گئی:
کیپٹن جیمز کک (Captain James Cook) نے آسٹریلیا کے ساحل کا نقشہ بنایا، اور برطانیہ نے وہاں کئی نوآبادیاں قائم کیں۔
برطانیہ نے کینیڈا پر قبضہ حاصل کر لیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company) شروع میں صرف ایک تجارتی کمپنی تھی، لیکن رفتہ رفتہ ہندوستان کے بڑے حصے اس کے قبضے میں آ گئے۔
برطانیہ نے جنوبی افریقہ میں بھی نوآبادیاں قائم کرنا شروع کیں۔
برطانیہ پوری دنیا سے تجارت کرتا تھا اور زیادہ سے زیادہ سامان درآمد کرتا تھا: شمالی امریکہ اور ویسٹ انڈیز (West Indies، یعنی کیریبین کے جزیرے) سے چینی اور تمباکو، اور ہندوستان اور انڈونیشیا سے کپڑا، چائے اور مصالحے۔ بیرونِ ملک تجارت اور آباد کاری کی وجہ سے برطانیہ کا اکثر دوسرے ملکوں سے ٹکراؤ ہوتا تھا، سب سے بڑھ کر فرانس سے، جو خود بھی دنیا بھر میں پھیل رہا تھا۔
برطانیہ کا پہلا کری ہاؤس
شیخ دین محمد (Sake Dean Mahomet، 1759 تا 1851) ہندوستان کے علاقے بنگال (Bengal) میں پلا بڑھا اور بنگال کی فوج میں ملازم رہا۔ وہ 1782 میں برطانیہ آیا۔ بعد میں وہ آئرلینڈ چلا گیا، جہاں 1786 میں وہ جین ڈیلی (Jane Daly) نام کی ایک آئرش لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کے لیے بھاگ گیا، اور صدی کے اختتام کے آس پاس واپس انگلینڈ آ گیا۔
1810 میں اس نے برطانیہ کا پہلا کری ہاؤس کھولا: لندن کی جارج اسٹریٹ (George Street) پر ہندوستانی کافی ہاؤس (Hindoostane Coffee House)۔ اس نے اور اس کی بیوی نے برطانیہ میں شیمپوئنگ (shampooing)، یعنی ہندوستانی انداز کی سر کی مالش، بھی متعارف کروائی۔
خود انگریزی لفظ shampoo ہندوستانی زبان سے آیا ہے، جہاں اس کا ابتدائی مطلب تھا "دبانا" یا "مالش کرنا"۔ مالی مشکلات کی وجہ سے کافی ہاؤس صرف دو سال بعد بند ہو گیا، تو دین محمد نے ساحلی شہر برائٹن (Brighton) میں بھاپ اور مالش کے حمام کھولے۔ یہ بہت کامیاب رہے، لوگ اسے "ڈاکٹر برائٹن" (Dr Brighton) کہنے لگے، اور اسے بادشاہ جارج چہارم (George IV) اور بادشاہ ولیم چہارم (William IV) کا "شیمپوئنگ سرجن" (shampooing surgeon) مقرر کیا گیا۔ 1794 میں شائع ہونے والی اس کی سفری کتاب کو اکثر کسی ہندوستانی کی انگریزی میں لکھی ہوئی پہلی کتاب کہا جاتا ہے۔
کوئز
Which explorer mapped the coast of Australia?
سوال اردو میںکس مہم جُو نے آسٹریلیا کے ساحل کا نقشہ بنایا؟ A: سر فرانسس ڈریک B: کیپٹن جیمز کک C: ایڈمرل نیلسن D: ڈیوک آف ویلنگٹن
کیپٹن جیمز کک (Captain James Cook) نے آسٹریلیا کے ساحل کا نقشہ بنایا، اور پھر برطانیہ نے وہاں چند نوآبادیاں قائم کیں۔ سر فرانسس ڈریک (Sir Francis Drake) ٹیوڈر دور کا بحری کپتان تھا جس نے دنیا کے گرد چکر لگایا اور ہسپانوی آرماڈا کو شکست دینے میں حصہ لیا۔ نیلسن (Nelson) اور ویلنگٹن (Wellington) ٹرافالگر اور واٹرلو کے کمانڈر تھے۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: شیخ دین محمد (Sake Dean Mahomet) نے برطانیہ کا پہلا ریل انجن بنایا۔ B: شیخ دین محمد نے 1810 میں برطانیہ کا پہلا کری ہاؤس کھولا۔
دین محمد نے 1810 میں لندن میں ہندوستانی کافی ہاؤس (Hindoostane Coffee House) کھولا، جو برطانیہ کا پہلا کری ہاؤس تھا۔ بھاپ کا ریل انجن جارج اور رابرٹ اسٹیفنسن کا کارنامہ تھا۔
غلاموں کی تجارت اور اسے ختم کرنے کی جدوجہد
برطانیہ کی تجارتی ترقی اور دولت کا ایک حصہ غلاموں کی تجارت پر کھڑا تھا۔ خود برطانیہ کے اندر غلامی غیر قانونی تھی، لیکن اٹھارویں صدی تک بیرونِ ملک غلاموں کی تجارت ایک جمی جمائی صنعت بن چکی تھی، جسے زیادہ تر برطانیہ اور شمالی امریکہ میں اس کی نوآبادیاں چلاتی تھیں۔
غلام بنائے گئے زیادہ تر لوگ مغربی افریقہ سے آتے تھے۔ انہیں برطانوی جہازوں میں ٹھونس کر انتہائی ہولناک حالات میں امریکہ اور کیریبین لے جایا جاتا تھا، جہاں ان سے تمباکو اور گنے کے بڑے بڑے فارموں (plantations) پر زبردستی کام لیا جاتا تھا۔ ان کے رہنے اور کام کرنے کے حالات بہت برے تھے۔ بہت سے لوگوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، اور کچھ نے اپنے مالکوں کے خلاف بغاوت کی۔
ولیم ولبرفورس (William Wilberforce)، جس نے پارلیمنٹ میں غلامی کے خلاف مہم کی قیادت کی، تقریباً 1794 کی ایک تصویر میں۔ اس نے غلاموں کی تجارت ختم کروانے کے لیے تقریباً 20 سال جدوجہد کی۔ جولائی 1833 میں اسے خبر ملی کہ غلامی ختم کرنے کا قانون یقینی طور پر منظور ہو جائے گا، اور اس کے تین دن بعد وہ فوت ہو گیا۔
پینٹنگ: Karl Anton Hickel، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
اٹھارویں صدی کے آخر میں کویکرز (Quakers) نے غلامی کے خلاف پہلے باقاعدہ گروہ بنائے اور پارلیمنٹ سے اس پر پابندی لگانے کی درخواست کی۔ ولیم ولبرفورس (William Wilberforce)، جو ایک ایوینجلیکل (evangelical) عیسائی اور رکنِ پارلیمنٹ تھا، نے غلامی ختم کرنے کی مہم چلانے والے دوسرے لوگوں (abolitionists) کے ساتھ مل کر کام کیا، اور غلاموں کی تجارت کے بارے میں عوام کی سوچ بدلنے میں مدد دی۔
1807: برطانوی جہازوں یا برطانوی بندرگاہوں کے ذریعے غلاموں کی خرید و فروخت غیر قانونی ہو گئی۔
1833: ایمنسیپیشن ایکٹ (Emancipation Act)، یعنی غلاموں کی آزادی کے قانون، نے پوری برطانوی سلطنت میں غلامی ختم کر دی۔ شاہی بحریہ (Royal Navy) نے دوسرے ملکوں کے غلاموں والے جہازوں کو بھی روکا، ان پر سوار لوگوں کو آزاد کیا اور غلاموں کے تاجروں کو سزا دی۔
1833 کے بعد برطانیہ نے آزاد ہونے والے غلاموں کی جگہ لینے کے لیے ہندوستان اور چین سے 2 ملین مزدور منگوائے۔ انہیں کیریبین میں گنے کے فارموں پر کام کرنے، جنوبی افریقہ کی کانوں میں کام کرنے، مشرقی افریقہ میں ریلوے بنانے، اور کینیا میں فوج میں خدمات انجام دینے کے لیے بھیجا گیا۔
کوئز
In which year did the Emancipation Act abolish slavery throughout the British Empire?
سوال اردو میںایمنسیپیشن ایکٹ (Emancipation Act) نے کس سال پوری برطانوی سلطنت میں غلامی ختم کی؟
1807 میں صرف غلاموں کی تجارت پر پابندی لگی تھی؛ 1833 میں پوری سلطنت میں خود غلامی ختم ہوئی۔ یہی وہ دو سال ہیں جنہیں لوگ سب سے زیادہ گڈمڈ کرتے ہیں۔ 1776 امریکہ کی آزادی کا سال ہے اور 1851 عظیم نمائش کا۔
امریکہ ہاتھ سے نکل گیا: امریکہ کی آزادی
سلطنت دنیا بھر میں پھیل رہی تھی، لیکن اسی دوران شمالی امریکہ میں اسے پہلا بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ 1760 کی دہائی تک شمالی امریکہ میں برطانیہ کی بہت سی نوآبادیاں تھیں۔ وہ دولت مند تھیں اور زیادہ تر اپنے معاملات خود چلاتی تھیں۔ بہت سے نوآبادکاروں کے خاندان پہلے پہل مذہبی آزادی کی خاطر بحرِ اوقیانوس پار کر کے آئے تھے۔ یہ لوگ اچھے پڑھے لکھے تھے اور آزادی کو بہت اہمیت دیتے تھے۔
جب برطانوی حکومت نے نوآبادیوں پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو نوآبادکاروں نے اسے اپنی آزادی پر حملہ سمجھا۔ ان کا نعرہ تھا: "نمائندگی نہیں تو ٹیکس نہیں" (no taxation without representation)۔ یعنی برطانوی پارلیمنٹ میں ہماری طرف سے بولنے والا کوئی نہیں، تو ہم اس کے ٹیکس کیوں دیں؟ پارلیمنٹ نے کچھ ٹیکس واپس لے کر معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، لیکن تعلقات بگڑتے ہی گئے۔
1776 میں شمالی امریکہ کی 13 نوآبادیوں نے یہ کہتے ہوئے آزادی کا اعلان کر دیا کہ لوگوں کو اپنی حکومت خود بنانے کا حق ہے۔ آخرکار نوآبادکاروں نے برطانوی فوج کو شکست دے دی، اور 1783 میں برطانیہ نے ان کی آزادی کو تسلیم کر لیا۔
نپولین سے مقابلہ: ٹرافالگر اور واٹر لو
امریکہ ہاتھ سے نکلنے کے چند ہی سال بعد برطانیہ کو یورپ میں اس سے بھی بڑے حریف کا سامنا تھا۔ 1789 میں فرانس میں انقلاب آیا، اور جلد ہی فرانس کی نئی حکومت برطانیہ سے جنگ میں الجھ گئی۔ نپولین (Napoleon، یعنی نپولین اول)، جس نے بعد میں خود کو فرانس کا شہنشاہ بنا لیا، یہ جنگ جاری رکھے رہا۔
ٹرافالگر کی جنگ، 1805
ٹرافالگر کی جنگ (Battle of Trafalgar) میں برطانوی بحریہ نے فرانس اور اسپین کے مشترکہ بحری بیڑوں کو شکست دی۔ برطانوی بیڑے کی کمان ایڈمرل نیلسن (Admiral Nelson) کے ہاتھ میں تھی، جو لڑائی کے دوران مارا گیا۔ لندن کے ٹرافالگر اسکوائر (Trafalgar Square) میں اس کی یاد میں نیلسن کالم (Nelson's Column) بنایا گیا۔ اس کا کمانڈ جہاز (فلیگ شپ) HMS Victory اب پورٹس متھ (Portsmouth) میں ہے، اور آپ اس پر سوار ہو کر اسے دیکھ سکتے ہیں۔
ٹرافالگر کی جنگ (1822 تا 1824)، مناظر کے مصور جے ایم ڈبلیو ٹرنر (J. M. W. Turner) کی بنائی ہوئی۔ درمیان میں HMS Victory ہے، جس پر جھنڈوں کا وہ مشہور پیغام لہرا رہا ہے جو نیلسن نے جنگ سے پہلے بھیجا تھا۔
پینٹنگ: J. M. W. Turner، National Maritime Museum، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
جنگ سے پہلے نیلسن نے جھنڈوں کے اشاروں سے پورے بیڑے کو ایک پیغام بھیجا جو بہت مشہور ہوا: "England expects that every man will do his duty."، یعنی "انگلینڈ کو توقع ہے کہ ہر آدمی اپنا فرض ادا کرے گا۔" لڑائی کے دوران ایک فرانسیسی نشانہ باز کی گولی اسے لگی اور وہ HMS Victory پر ہی فوت ہو گیا۔ اس کی لاش کو صحیح سلامت گھر پہنچانے کے لیے ملاحوں نے اسے برانڈی کے ایک بڑے پیپے میں رکھ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ملاح چھپ کر اس پیپے سے پیتے رہے، اسی لیے بحریہ میں رم کو "نیلسن کا خون" (Nelson's blood) کہا جانے لگا، لیکن یہ محض ایک افسانہ ہے۔
نیلسن کالم 1843 میں مکمل ہوا۔ بنیاد سمیت یہ تقریباً 52 میٹر اونچا ہے، سب سے اوپر نیلسن کا مجسمہ 5 میٹر سے زیادہ اونچا ہے، اور بنیاد کے گرد کانسی کی تختیاں فرانسیسیوں سے چھینی گئی توپوں کو پگھلا کر بنائی گئیں۔
واٹر لو کی جنگ، 1815
1815 میں ڈیوک آف ویلنگٹن (Duke of Wellington) نے واٹر لو کی جنگ (Battle of Waterloo) میں نپولین کو شکست دی، جس سے فرانس کے ساتھ جنگوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ویلنگٹن کا لقب "آہنی ڈیوک" (Iron Duke) تھا، اور وہ بعد میں وزیرِ اعظم بنا۔
اس کا نام ایک جوتے پر بھی رہ گیا۔ ڈیوک آف ویلنگٹن ایک نئے انداز کے لمبے بوٹ پہننا پسند کرتا تھا، دوسرے امیر لوگوں نے اس کی نقل کی، اور آج بھی برطانوی لوگ بارش کے لمبے بوٹوں کو "wellies" کہتے ہیں، جو Wellington boots کا مختصر نام ہے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Admiral Nelson died during the Battle of Trafalgar, and visitors can go aboard his flagship, HMS Victory, in Portsmouth today.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: ایڈمرل نیلسن ٹرافالگر کی جنگ کے دوران مارا گیا، اور آج سیاح پورٹس متھ میں اس کے کمانڈ جہاز HMS Victory پر سوار ہو سکتے ہیں۔
دونوں حصے درست ہیں۔ ایک عام غلطی نیلسن اور ویلنگٹن کو آپس میں ملا دینا ہے: نیلسن یعنی بحریہ، ٹرافالگر، 1805، جنگ میں مارا گیا؛ ویلنگٹن یعنی بری فوج، واٹر لو، 1815، بعد میں وزیرِ اعظم بنا۔
یونین فلیگ: ایک جھنڈے میں تین صلیبیں
فرانس سے جنگ کے انہی برسوں میں خود ملک کی شکل بھی بدل گئی۔ ہنری ہشتم (Henry VIII) کے زمانے سے آئرلینڈ اور انگلینڈ و ویلز کا بادشاہ ایک ہی تھا، لیکن آئرلینڈ پھر بھی ایک الگ ملک تھا۔ 1801 میں، 1800 کے ایکٹ آف یونین (Act of Union) کے تحت، آئرلینڈ باضابطہ طور پر انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے ساتھ متحد ہو گیا۔
جھنڈا بھی بدل گیا۔ نئے یونین فلیگ (Union Flag) میں، جسے اکثر یونین جیک (Union Jack) کہا جاتا ہے، انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے سرپرست اولیا (patron saints) کی صلیبیں ایک دوسرے کے اوپر رکھی گئیں۔ یہ آج بھی برطانیہ کا سرکاری جھنڈا ہے۔
یونین فلیگ کیسے بنا ہے۔ غور سے دیکھیں تو سرخ ترچھی پٹیاں سفید پٹیوں کے بالکل بیچ میں نہیں ہیں۔ اس طرح اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ دونوں کی صلیبیں نظر آتی ہیں، اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جھنڈے کا ایک صحیح رخ ہے: اسے الٹا لہرانا بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔
سینٹ جارج کی صلیب (cross of St George): انگلینڈ کا سرپرست ولی، سفید پس منظر پر سرخ صلیب۔
سینٹ اینڈریو کی صلیب (cross of St Andrew): اسکاٹ لینڈ کا سرپرست ولی، نیلے پس منظر پر سفید ترچھی صلیب۔
سینٹ پیٹرک کی صلیب (cross of St Patrick): آئرلینڈ کا سرپرست ولی، سفید پس منظر پر سرخ ترچھی صلیب۔
ویلز کا بھی اپنا سرکاری جھنڈا ہے، جس پر ایک سرخ ڈریگن (اژدہا) بنا ہے، یعنی ویلز کا ڈریگن (Welsh dragon)۔ لیکن یہ ڈریگن یونین فلیگ پر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب 1606 میں انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے جھنڈوں سے پہلا یونین فلیگ بنایا گیا، تو ویلز کی پرنسپیلٹی (Principality of Wales) پہلے ہی انگلینڈ کے ساتھ متحد ہو چکی تھی۔
اس جھنڈے کے دو نام بھی ہیں۔ کچھ لوگ اصرار کرتے ہیں کہ اسے صرف اس وقت یونین جیک کہنا چاہیے جب یہ کسی جہاز پر لہرا رہا ہو، اور باقی ہر جگہ یونین فلیگ، لیکن جھنڈوں کا مطالعہ کرنے والا برطانوی ادارہ فلیگ انسٹی ٹیوٹ (Flag Institute) کہتا ہے کہ دونوں نام ٹھیک ہیں۔ امتحان میں آپ کو دونوں میں سے کوئی بھی نام نظر آ سکتا ہے؛ دونوں سے مراد ایک ہی جھنڈا ہے۔
کوئز
Which TWO of the following appear on the Union Flag?
سوال اردو میںان میں سے کون سی دو چیزیں یونین فلیگ پر موجود ہیں؟ A: سینٹ اینڈریو کی صلیب B: ویلز کا ڈریگن C: سینٹ ڈیوڈ کی صلیب D: سینٹ پیٹرک کی صلیب
یونین فلیگ پر سینٹ جارج، سینٹ اینڈریو اور سینٹ پیٹرک کی صلیبیں ہیں۔ اس پر نہ ویلز کا ڈریگن ہے اور نہ ویلز کے سرپرست ولی سینٹ ڈیوڈ (St David) کی صلیب، کیونکہ جب پہلا یونین فلیگ بنا تو ویلز پہلے ہی انگلینڈ سے جڑ چکا تھا۔
وکٹورین دور: سلطنت اپنے عروج پر
نپولین کی شکست کے بعد برطانیہ میں امن اور بڑھتی خوشحالی کا ایک لمبا دور شروع ہوا۔ جارج سوم کے بیٹے، جارج چہارم اور ولیم چہارم، باری باری بادشاہ بنے، لیکن دونوں کی کوئی جائز اولاد نہیں تھی، اس لیے تاج ولیم چہارم کی بھتیجی کو ملا۔ 1837 میں ملکہ وکٹوریہ (Queen Victoria) صرف 18 سال کی عمر میں تخت پر بیٹھی۔ اس کی حکومت 1901 تک، یعنی تقریباً 64 سال، رہی۔ اس کے دور کو وکٹورین دور (Victorian Age) کہا جاتا ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب بیرونِ ملک برطانیہ کی طاقت اور اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ ملک کے اندر متوسط طبقہ زیادہ سے زیادہ اہم ہوتا گیا، اور کچھ مصلحین نے غریبوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔
تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت
وکٹوریہ کے زمانے میں برطانوی سلطنت میں پورا ہندوستان، آسٹریلیا اور افریقہ کے بڑے حصے شامل ہو گئے۔ تاریخ میں اس سے بڑی کوئی سلطنت نہیں رہی: اندازہ ہے کہ اس میں 400 ملین یا اس سے زیادہ لوگ رہتے تھے۔
لوگ دونوں طرف آ جا رہے تھے۔ حکومت برطانوی لوگوں کو بیرونِ ملک جا کر بسنے کی ترغیب دیتی تھی، اور 1853 سے 1913 کے درمیان 13 ملین تک لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اسی دوران لوگ برطانیہ آئے بھی۔ 1870 سے 1914 کے درمیان ظلم و ستم سے بچنے کے لیے تقریباً 120,000 روسی اور پولش یہودی آئے، اور ان میں سے بہت سے لندن کے ایسٹ اینڈ (East End)، مانچسٹر اور لیڈز میں بس گئے۔ کچھ دوسرے لوگ پوری سلطنت سے، یعنی ہندوستان، افریقہ اور دوسری جگہوں سے، برطانیہ میں گھر بسانے، کام کرنے یا پڑھنے کے لیے آئے۔
آزاد تجارت اور کارخانوں میں اصلاحات
برطانیہ اب بھی ایک بڑی تجارتی قوم تھا۔ حکومت نے آزاد تجارت (free trade) پر زور دینا شروع کیا اور درآمدات پر لگے بہت سے ٹیکس ختم کر دیے۔ اس کی ایک مثال 1846 میں کارن لاز (Corn Laws) کی منسوخی تھی۔ یہ قوانین سستے غیر ملکی اناج کو ملک میں آنے سے روکتے تھے۔ ان اصلاحات کے بعد خام مال کم قیمت پر درآمد کیا جا سکتا تھا، جس سے برطانوی صنعت کو بڑھنے میں مدد ملی۔
1847 میں ایک نئے قانون نے طے کیا کہ عورتیں اور بچے دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کریں گے۔ مزدوروں کی رہائش بہتر ہونے لگی، اور کارخانوں کے حالات بھی۔ آمد و رفت کے ذرائع بھی بہتر ہوئے، اس لیے ملک بھر میں سامان اور لوگوں کو لانا لے جانا آسان ہو گیا۔
انیسویں صدی میں برطانیہ صنعت میں دنیا میں سب سے آگے تھا، اور دنیا کے آدھے سے زیادہ لوہے، کوئلے اور سوتی کپڑے کی پیداوار یہیں ہوتی تھی۔ یہ بیمہ (انشورنس) اور بینکاری جیسی مالیاتی خدمات کا مرکز بھی بن گیا۔
1851 کی عظیم نمائش
1851 میں لندن کے ہائیڈ پارک (Hyde Park) میں کرسٹل پیلس (Crystal Palace) کے اندر عظیم نمائش (Great Exhibition) کا افتتاح ہوا۔ اس میں بہت بڑی بڑی مشینوں سے لے کر ہاتھ سے بنی چیزوں تک سب کچھ دکھایا گیا۔ دنیا کے ہر حصے سے ملکوں نے اس میں حصہ لیا، لیکن نمائش کی زیادہ تر چیزیں برطانیہ میں بنی تھیں۔
1851 کی عظیم نمائش کے دوران ہائیڈ پارک میں کرسٹل پیلس، شمال مشرق کی طرف سے۔ نمائش دیکھنے کے لیے چھ ملین سے زیادہ مرتبہ لوگ آئے۔ نمائش نے منافع کمایا، اور اس رقم سے لندن کے علاقے ساؤتھ کینزنگٹن (South Kensington) میں وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم (V&A)، سائنس میوزیم (Science Museum) اور نیچرل ہسٹری میوزیم (Natural History Museum) قائم کیے گئے۔ خود عمارت کو اکھاڑ کر جنوبی لندن میں دوبارہ کھڑا کیا گیا، جہاں یہ 1936 میں جل کر ختم ہو گئی، لیکن اس علاقے کا نام وہی رہا، اور فٹ بال کلب کرسٹل پیلس ایف سی (Crystal Palace FC) کا نام بھی۔
Dickinson Brothers، Dickinsons' Comprehensive Pictures of the Great Exhibition of 1851، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
برونیل: ریلوے، پلوں اور جہازوں کا انجینئر
ازمبارڈ کنگڈم برونیل (Isambard Kingdom Brunel، 1806 تا 1859) انگلینڈ کے شہر پورٹس متھ (Portsmouth) سے تھا۔ ایک انجینئر کے طور پر اس نے سرنگیں، پل، ریلوے لائنیں اور جہاز بنائے۔ وہ گریٹ ویسٹرن ریلوے (Great Western Railway) کی تعمیر کا نگران تھا، جس کی ٹرینیں لندن کے پیڈنگٹن اسٹیشن (Paddington Station) سے ویلز، ویسٹ مڈلینڈز اور جنوب مغربی انگلینڈ تک جاتی تھیں۔ آپ آج بھی اس کے بنائے ہوئے بہت سے پلوں سے گزر سکتے ہیں، جیسے ایون گھاٹی (Avon Gorge) پر بنا کلفٹن سسپنشن برج (Clifton Suspension Bridge)۔
برونیل کا والد فرانس سے تعلق رکھنے والا ایک انجینئر تھا۔ برونیل نے کلفٹن کے پل کا نقشہ جوانی میں بنایا تھا، لیکن پیسے ختم ہو جانے کی وجہ سے برسوں کام رکا رہا، اور یہ پل 1864 میں جا کر مکمل ہوا، اس کی وفات کے پانچ سال بعد۔ 2002 میں بی بی سی (BBC) نے "100 عظیم ترین برطانوی" (100 Greatest Britons) چننے کے لیے عوامی ووٹنگ کروائی، اور برونیل چرچل (Churchill) کے بعد دوسرے نمبر پر آیا۔
برونیل 1857 میں، اپنے دیو ہیکل بھاپ کے جہاز SS Great Eastern کو پانی میں اتارنے والی زنجیروں کے سامنے۔ یہ اب تک کھینچی گئی سب سے مشہور پورٹریٹ تصویروں میں سے ایک ہے۔
تصویر: Robert Howlett، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
کوئز
In 1847, a new law set a maximum working day for women and children. How long was it?
سوال اردو میں1847 میں ایک نئے قانون نے عورتوں اور بچوں کے کام کے گھنٹوں کی حد مقرر کی۔ یہ حد کتنی تھی؟
1847 کے قانون کے تحت عورتیں اور بچے دن میں زیادہ سے زیادہ 10 گھنٹے کام کر سکتے تھے۔ اس سے پہلے مزدوروں کی حفاظت کا کوئی قانون نہیں تھا، اور بچوں سے اکثر بڑوں جیسا ہی سلوک ہوتا تھا۔
کوئز
Which TWO statements about free trade in the Victorian period are correct?
سوال اردو میںوکٹورین دور کی آزاد تجارت (free trade) کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟ A: کارن لاز 1846 میں سستا غیر ملکی اناج روکنے کے لیے بنائے گئے۔ B: حکومت نے ملک میں آنے والی چیزوں پر لگے بہت سے ٹیکس ختم کر دیے۔ C: آزاد تجارت نے برطانوی صنعت کے لیے خام مال مہنگا کر دیا۔ D: کارن لاز، جو سستے درآمدی اناج کو روکتے تھے، 1846 میں منسوخ کر دیے گئے۔
حکومت نے بہت سے درآمدی ٹیکس ختم کر کے آزاد تجارت کو فروغ دیا۔ 1846 میں کارن لاز (Corn Laws) منسوخ کیے گئے، جو سستے اناج کو ملک میں آنے سے روکتے تھے۔ A بات کو الٹ دیتا ہے: 1846 میں کارن لاز ختم ہوئے، شروع نہیں ہوئے۔ C بھی غلط ہے: سستے درآمدی خام مال سے برطانوی صنعت کو ترقی میں مدد ملی۔
کوئز
Which engineer was responsible for building the Great Western Railway?
سوال اردو میںگریٹ ویسٹرن ریلوے (Great Western Railway) بنانے کا ذمہ دار کون سا انجینئر تھا؟ A: رچرڈ آرک رائٹ B: جارج اسٹیفنسن C: ازمبارڈ کنگڈم برونیل D: سر کرسٹوفر رین
برونیل (Brunel) نے گریٹ ویسٹرن ریلوے بنائی، جو لندن کے پیڈنگٹن اسٹیشن سے جنوب مغربی انگلینڈ، ویسٹ مڈلینڈز اور ویلز تک جاتی تھی۔ جارج اسٹیفنسن (George Stephenson) اور اس کے بیٹے رابرٹ نے بھاپ کے ریل انجن کی راہ ہموار کی؛ آرک رائٹ (Arkwright) نے کتائی کی ملیں بنائیں؛ اور رین (Wren) نے 1666 کی بڑی آگ کے بعد سینٹ پال کیتھیڈرل کا ڈیزائن بنایا۔
کوئز
Where was the Great Exhibition of 1851 held?
سوال اردو میں1851 کی عظیم نمائش (Great Exhibition) کہاں منعقد ہوئی؟
عظیم نمائش کرسٹل پیلس میں ہوئی، جو خاص طور پر اسی کے لیے ہائیڈ پارک میں بنایا گیا تھا۔ ویسٹ منسٹر ایبی (Westminster Abbey) وہ جگہ ہے جہاں بادشاہوں اور ملکاؤں کی تاج پوشی ہوتی ہے، ٹرافالگر اسکوائر میں نیلسن کالم ہے، اور ٹاور آف لندن (Tower of London) قرونِ وسطیٰ کا ایک قلعہ ہے۔
جنگِ کریمیا اور فلورنس نائٹنگیل
وکٹورین دور میں ملک کے اندر زیادہ تر امن رہا، لیکن برطانیہ نے بیرونِ ملک جنگیں پھر بھی لڑیں۔ 1853 تا 1856 کی جنگِ کریمیا (Crimean War) میں برطانیہ، ترکی اور فرانس نے مل کر روس کے خلاف جنگ لڑی۔ یہ پہلی جنگ تھی جس کی میڈیا نے تفصیل سے خبریں دیں، خبروں اور تصویروں کے ساتھ۔ حالات بہت خراب تھے، اور بہت سے فوجی اپنے زخموں سے نہیں بلکہ ہسپتال میں لگنے والی بیماریوں سے مرے۔
جنگ کے دوران ملکہ وکٹوریہ نے وکٹوریہ کراس (Victoria Cross) متعارف کروایا، ایک تمغہ جو مسلح افواج کے ارکان کو بہادری کے کارناموں پر اعزاز کے طور پر دیا جاتا ہے۔
اس تمغے کی بھی اپنی ایک کہانی ہے۔ روایتی بیان یہ ہے کہ یہ تمغے جنگِ کریمیا میں روس سے چھینی گئی توپوں سے بنائے جاتے ہیں۔ لیکن ایک مؤرخ کی تحقیق سے پتا چلا کہ بیسویں صدی سے دیے جانے والے تمغوں کی دھات دراصل دو چینی توپوں سے آئی تھی۔ اس پر اب بھی بحث جاری ہے۔
فلورنس نائٹنگیل (Florence Nightingale، 1820 تا 1910) کے والدین انگریز تھے لیکن وہ اٹلی میں پیدا ہوئی۔ 31 سال کی عمر میں وہ نرس کی تربیت لینے جرمنی گئی۔ 1854 میں وہ جنگِ کریمیا میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی دیکھ بھال کے لیے ترکی کے ایک فوجی ہسپتال گئی۔ دوسری نرسوں کے ساتھ مل کر اس نے ہسپتال کے حالات بہتر بنائے اور اموات کی شرح کم کی۔ 1860 میں اس نے لندن کے سینٹ تھامس ہسپتال (St Thomas' Hospital) میں نرسوں کی تربیت کا ایک اسکول، نائٹنگیل ٹریننگ اسکول (Nightingale Training School)، قائم کیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اسکول تھا، اور آج بھی موجود ہے۔ اسے اکثر جدید نرسنگ کی بانی سمجھا جاتا ہے۔
نائٹنگیل اٹلی کے شہر فلورنس (Florence) میں پیدا ہوئی اور اسی شہر کے نام پر اس کا نام رکھا گیا۔ وہ رات کو ہاتھ میں چراغ لے کر وارڈوں کا چکر لگاتی تھی، اس لیے اخباروں نے اسے "چراغ والی خاتون" (The Lady with the Lamp) کہنا شروع کر دیا۔ وہ ریاضی میں بھی بہت اچھی تھی: اس نے نیچے والے جیسے چارٹ استعمال کر کے حکومت کو فوج میں صفائی ستھرائی بہتر بنانے پر قائل کیا، اور 1859 میں وہ رائل اسٹیٹسٹیکل سوسائٹی (Royal Statistical Society) کی پہلی خاتون رکن بنی۔
نائٹنگیل کا "گلاب نما خاکہ" (rose diagram)، جو 1858 میں شائع ہوا۔ ہر ٹکڑا ایک مہینہ ہے۔ نیلا رنگ ان متعدی بیماریوں سے ہونے والی اموات دکھاتا ہے جن سے بچا جا سکتا تھا، اور سرخ رنگ زخموں سے ہونے والی اموات، اس لیے ایک نظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سب سے زیادہ جانیں بیماری نے لیں۔
Florence Nightingale، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: ملکہ وکٹوریہ نے جنگِ کریمیا کے دوران وکٹوریہ کراس متعارف کروایا۔ B: ملکہ وکٹوریہ نے بوئر جنگ کے دوران وکٹوریہ کراس متعارف کروایا۔
وکٹوریہ کراس جنگِ کریمیا (1853 تا 1856) کے دوران متعارف ہوا۔ بوئر جنگ (1899 تا 1902) تو وکٹوریہ کی زندگی کے آخری دنوں میں شروع ہوئی، جب یہ تمغہ تقریباً نصف صدی سے موجود تھا۔
آئرلینڈ: قحط اور ہوم رول
لیکن سلطنت کی دولت کے عروج پر بھی آئرلینڈ کے حالات برطانیہ کے باقی حصوں سے کہیں زیادہ خراب تھے۔ دو تہائی لوگ اب بھی کھیتی باڑی پر گزارا کرتے تھے، اکثر زمین کے بہت چھوٹے ٹکڑوں پر، اور بہت سے لوگوں کی خوراک کا زیادہ تر انحصار آلو پر تھا۔
انیسویں صدی کے وسط میں آلو کی فصل ناکام ہو گئی، اور ایک خوفناک قحط پڑا: آلو کا قحط (potato famine)۔ تقریباً ایک ملین لوگ بیماری اور بھوک سے مر گئے، اور مزید ڈیڑھ ملین لوگ آئرلینڈ چھوڑ گئے۔ کچھ امریکہ گئے اور کچھ انگلینڈ آ گئے۔ 1861 تک لیورپول، لندن، مانچسٹر اور گلاسگو جیسے شہروں میں آئرش لوگوں کی بڑی بڑی آبادیاں بس چکی تھیں۔
ایک فصل اتنا نقصان اس لیے کر سکی کہ آئرلینڈ کے غریب لوگ جو آلو اگاتے تھے وہ تقریباً سب ایک ہی قسم کے تھے۔ جب بلائٹ (blight) نام کی پودوں کی ایک بیماری آئی، تو پورے کے پورے کھیت ایک ساتھ گل سڑ گئے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ قحط کے دوران بھی آئرلینڈ سے خوراک باہر بھیجی جاتی رہی۔ آج تک آئرلینڈ کی آبادی قحط سے پہلے والی سطح پر واپس نہیں پہنچی۔
انیسویں صدی کے دوران آئرلینڈ کی قوم پرست تحریک زور پکڑتی گئی:
کچھ لوگ، جیسے فینینز (Fenians)، چاہتے تھے کہ آئرلینڈ مکمل طور پر آزاد ہو۔
دوسرے، جیسے چارلس اسٹورٹ پارنیل (Charles Stuart Parnell)، ہوم رول (Home Rule) چاہتے تھے: آئرلینڈ برطانیہ کا حصہ رہے لیکن اس کی اپنی پارلیمنٹ ہو۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
In the middle of the 19th century, Ireland suffered a famine because its wheat harvest failed.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: انیسویں صدی کے وسط میں آئرلینڈ میں قحط اس لیے پڑا کہ وہاں گندم کی فصل ناکام ہو گئی۔
غلط (FALSE)۔ ناکام ہونے والی فصل آلو کی تھی۔ آئرلینڈ کے بہت سے لوگوں کی خوراک کا بڑا حصہ آلو تھا، اس لیے جب فصل ناکام ہوئی تو تقریباً ایک ملین لوگ بیماری اور بھوک سے مر گئے، اور تقریباً ڈیڑھ ملین ملک چھوڑ گئے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Supporters of Home Rule, such as Charles Stuart Parnell, wanted Ireland to become completely independent from the UK.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: ہوم رول (Home Rule) کے حامی، جیسے چارلس اسٹورٹ پارنیل، چاہتے تھے کہ آئرلینڈ برطانیہ سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔
ہوم رول کا مطلب تھا برطانیہ کا حصہ رہنا، لیکن آئرلینڈ کی اپنی پارلیمنٹ کے ساتھ۔ مکمل آزادی فینینز چاہتے تھے۔
ووٹ کا حق: چند امیر مردوں سے سب لوگوں تک
صنعتی انقلاب نے شہروں کو لوگوں سے بھر دیا تھا، لیکن ووٹ کون دے سکتا ہے، اس کے قوانین سو سال سے تقریباً ویسے ہی تھے۔ اٹھارویں صدی میں صرف وہی مرد ووٹ دے سکتے تھے جن کے پاس ایک خاص مقدار میں جائیداد ہو، اور عورتیں بالکل ووٹ نہیں دے سکتی تھیں۔ کچھ انتخابی حلقوں پر ایک ہی امیر خاندان کا قبضہ تھا؛ انہیں پاکٹ بوروز (pocket boroughs) کہا جاتا تھا، یعنی "جیبی حلقے"۔ کچھ حلقوں میں تقریباً کوئی ووٹر ہی نہیں تھا؛ یہ روٹن بوروز (rotten boroughs) تھے، یعنی "گلے سڑے حلقے"۔
صنعتی قصبوں کا متوسط طبقہ زیادہ طاقتور ہوتا گیا اور سیاست میں زیادہ حصہ مانگنے لگا۔ 1832 کے ریفارم ایکٹ (Reform Act) نے ووٹ دینے والوں کی تعداد بہت بڑھا دی۔ اس نے پرانے پاکٹ اور روٹن بوروز ختم کر دیے اور قصبوں اور شہروں کو پارلیمنٹ میں زیادہ نشستیں دیں۔ اس کے بعد سیاسی طاقت ہمیشہ کے لیے دیہات سے قصبوں کی طرف منتقل ہو گئی۔ لیکن ووٹ کا حق اب بھی جائیداد کی ملکیت پر منحصر تھا، اس لیے مزدور طبقے کے لوگ اب بھی ووٹ نہیں دے سکتے تھے۔
چارٹسٹ (Chartists) پارلیمنٹ میں درخواستیں لے کر گئے، جن میں مزدور طبقے اور جائیداد نہ رکھنے والے دوسرے لوگوں کے لیے ووٹ کا حق مانگا گیا تھا۔ شروع میں لگا کہ وہ ناکام ہو گئے، لیکن 1867 میں ایک اور ریفارم ایکٹ نے شہروں کو زیادہ نشستیں دیں اور ووٹ کے لیے درکار جائیداد کی حد کم کر دی۔ اس کے باوجود زیادہ تر مرد اب بھی ووٹ نہیں دے سکتے تھے، اور کوئی عورت بھی نہیں۔
جیسے جیسے ووٹروں کی تعداد بڑھی، سیاست دانوں کو احساس ہوا کہ انہیں لوگوں کو قائل کرنا ہوگا، اور سیاسی جماعتیں عام ووٹروں تک پہنچنے کے لیے منظم ہونے لگیں۔ عام حقِ رائے دہی (Universal suffrage)، یعنی ہر بالغ مرد اور عورت کا ووٹ کا حق، اگلی صدی میں جا کر ملا۔
عورتوں کے حقوق
1870 سے پہلے عورت جو کچھ کماتی یا جس چیز کی مالک ہوتی، شادی ہوتے ہی وہ سب اس کے شوہر کا ہو جاتا تھا۔ 1870 اور 1882 میں بننے والے قوانین نے شادی شدہ عورتوں کو اپنی کمائی اور جائیداد اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی۔ انیسویں صدی کے آخر سے بیسویں صدی کے شروع تک زیادہ سے زیادہ عورتوں نے مزید حقوق کے لیے، اور سب سے بڑھ کر ووٹ کے حق کے لیے، مہم چلائی اور مظاہرے کیے۔ انہیں سفرجیٹس (suffragettes) کہا جانے لگا۔
ان کی سب سے مشہور رہنما ایملین پینکھرسٹ (Emmeline Pankhurst، 1858 تا 1928) تھی، جو مانچسٹر میں پیدا ہوئی۔ 1889 میں اس نے ویمنز فرنچائز لیگ (Women's Franchise League) قائم کی، جس نے یہ مہم چلائی کہ شادی شدہ عورتیں مقامی انتخابات میں ووٹ دے سکیں۔ 1903 میں اس نے WSPU (Women's Social and Political Union) شروع کرنے میں مدد دی، جو پہلا گروہ تھا جس کے ارکان کو سفرجیٹس کہا گیا۔ انہوں نے جان بوجھ کر قانون توڑ کر احتجاج کیا (سول نافرمانی): خود کو لوہے کے جنگلوں سے زنجیروں میں باندھا، کھڑکیاں توڑیں اور عمارتوں کو آگ لگائی۔ بہت سی عورتوں نے، جن میں خود پینکھرسٹ بھی شامل تھی، بھوک ہڑتال کی۔
آخرکار عورتوں کو دو مرحلوں میں ووٹ کا حق ملا۔ 1918 میں 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو ووٹ دینے اور پارلیمنٹ کا انتخاب لڑنے کی اجازت ملی، کچھ حد تک اس شکریے کے طور پر کہ عورتوں نے پہلی عالمی جنگ کے دوران کام کیا تھا۔ 1928 میں عورتوں کو بھی مردوں کی طرح 21 سال کی عمر میں ووٹ کا حق مل گیا؛ یہی وہ سال تھا جب پینکھرسٹ کی وفات ہوئی۔ اگلا باب تفصیل سے دیکھتا ہے کہ یہ تاریخیں پہلی عالمی جنگ سے کیسے جڑی ہیں۔
کوئز
Who was the best-known leader of the suffragettes, the women who campaigned for the right to vote?
سوال اردو میںووٹ کے حق کے لیے مہم چلانے والی عورتوں، یعنی سفرجیٹس (suffragettes)، کی سب سے مشہور رہنما کون تھی؟
ایملین پینکھرسٹ (Emmeline Pankhurst) 1858 میں مانچسٹر میں پیدا ہوئی، اور 1903 میں اس نے WSPU بنانے میں مدد دی، جو پہلا گروہ تھا جس کے ارکان کو سفرجیٹس کہا گیا۔ بوڈیکا (Boudicca) نے رومیوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی، فلورنس نائٹنگیل (Florence Nightingale) کو کریمیا کی جنگ میں نرسنگ کے کام کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے، اور جین آسٹن (Jane Austen) ناول نگار تھیں۔
کوئز
Which TWO statements about the Reform Act of 1832 are correct?
سوال اردو میں1832 کے ریفارم ایکٹ (Reform Act) کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟ A: اس نے مزدور طبقے کو ووٹ کا حق دیا۔ B: اس نے پرانے پاکٹ اور روٹن بوروز ختم کر دیے۔ C: اس نے عورتوں کو ووٹ کا حق دیا۔ D: اس نے پارلیمنٹ میں قصبوں اور شہروں کے لیے زیادہ نشستیں بنائیں۔
1832 کے ریفارم ایکٹ نے پاکٹ اور روٹن بوروز ختم کیے اور قصبوں اور شہروں کو زیادہ نشستیں دیں۔ لیکن ووٹ اب بھی جائیداد کی ملکیت پر منحصر تھا، اس لیے مزدور طبقے کے لوگ اب بھی ووٹ نہیں دے سکتے تھے؛ چارٹسٹوں نے بعد میں ٹھیک اسی چیز کے لیے مہم چلائی۔ عورتوں کو ووٹ کا حق ملنا 1918 میں جا کر شروع ہوا۔
سلطنت کا مستقبل: بوئر جنگ اور کپلنگ
برطانوی سلطنت 1920 کی دہائی تک بڑھتی رہی، لیکن انیسویں صدی کے آخر میں ہی لوگ اس بحث میں پڑ گئے تھے کہ اسے آگے کس سمت جانا چاہیے۔ توسیع کے حامیوں کا کہنا تھا کہ سلطنت سے تجارت اور کاروبار بڑھتا ہے۔ دوسروں کا خیال تھا کہ یہ بہت زیادہ پھیل چکی ہے: ہندوستان کی شمال مغربی سرحد (North West Frontier) اور جنوبی افریقہ جیسی جگہوں پر مسلسل لڑائی ہو رہی تھی، جس پر بہت سے وسائل خرچ ہوتے تھے۔ پھر بھی زیادہ تر برطانوی لوگوں کا ماننا تھا کہ سلطنت دنیا میں "بھلائی کی طاقت" (force for good) ہے۔
1899 سے 1902 تک کی بوئر جنگ (Boer War) نے اس بحث کو اور زیادہ سنگین بنا دیا۔ جنوبی افریقہ میں برطانیہ نے بوئرز (Boers) سے جنگ لڑی، جو نیدرلینڈز (ہالینڈ) سے آنے والے آبادکاروں کی اولاد تھے۔ بوئرز نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور جنگ تین سال سے زیادہ چلی۔ بہت سے فوجی لڑائی میں مارے گئے، اور اس سے بھی زیادہ بیماری سے مرے۔ برطانیہ میں کچھ لوگوں کو بوئرز سے ہمدردی ہونے لگی اور وہ سوچنے لگے کہ کیا سلطنت قائم رہ سکے گی۔ جیسے جیسے سلطنت کے مختلف حصے ترقی کرتے گئے، انہیں برطانیہ سے زیادہ آزادی اور خود مختاری بھی ملتی گئی۔
اس ہمدردی کی ایک وجہ کیمپ بھی تھے۔ بوئر جنگ کے دوران برطانوی فوج نے کھیت جلائے اور بوئر عورتوں اور بچوں کو، اور سیاہ فام افریقیوں کو بھی، حراستی کیمپوں (concentration camps) میں رکھا۔ کیمپوں کے حالات بہت خراب تھے، اور وہاں 20,000 سے زیادہ بوئر عورتیں اور بچے مر گئے۔ جب یہ خبر برطانیہ پہنچی تو بہت غصہ پھیلا۔
کپلنگ: ایک ادیب جو سلطنت پر یقین رکھتا تھا
رڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling، 1865 تا 1936) ہندوستان میں پیدا ہوا۔ بعد میں وہ ہندوستان، برطانیہ اور امریکہ میں رہا۔ اس کی کتابوں اور نظموں کی کہانیاں ہندوستان اور برطانیہ میں ہوتی ہیں، اور ان سے اس کا یہ یقین جھلکتا ہے کہ سلطنت دنیا میں بھلائی کر رہی ہے۔ اسے 1907 میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ اس کی Just So Stories اور The Jungle Book آج بھی مقبول ہیں، اور جب برطانوی لوگ اپنی پسندیدہ نظموں کے لیے ووٹ دیتے ہیں تو اس کی نظم If اکثر سب سے اوپر والی نظموں میں آتی ہے۔
انعام ملتے وقت کپلنگ کی عمر صرف 41 سال تھی، اور وہ آج بھی ادب کا نوبیل انعام پانے والا سب سے کم عمر شخص ہے؛ وہ یہ انعام جیتنے والا انگریزی کا پہلا ادیب بھی تھا۔ لیکن اس نے نائٹ کا خطاب (knighthood) لینے سے انکار کر دیا، اور شاہی شاعر (Poet Laureate) بننے سے بھی۔ ڈزنی (Disney) کے کارٹون کا لڑکا موگلی (Mowgli) اور ریچھ بالو (Baloo) دونوں اس کی کتاب The Jungle Book سے آئے ہیں۔
بیسویں صدی کے آغاز پر سلطنت پہلے سے کہیں زیادہ بڑی تھی۔ لیکن چند ہی برسوں میں اسے اب تک کی سب سے کڑی آزمائش کا سامنا کرنا تھا: ایک عالمی جنگ۔
باب کا خلاصہ
1714 جارج اول
ملکہ این کا سب سے قریبی پروٹسٹنٹ رشتہ دار، جرمنی سے
1721 تا 1742 والپول
برطانیہ کا پہلا وزیرِ اعظم
1746 کلوڈن
بونی پرنس چارلی کو جارج دوم کی فوج نے شکست دی؛ اس کے بعد ہائی لینڈ کلیئرنسز ہوئیں
روشن خیالی (Enlightenment)
ایڈم اسمتھ (معاشیات)، ہیوم (فلسفہ)، واٹ (بھاپ)
صنعتی انقلاب (Industrial Revolution)
برطانیہ میں سب سے پہلے صنعت کاری ہوئی؛ بیسیمر طریقہ، نہریں، آرک رائٹ کے کارخانے، بچوں سے مزدوری
1810 دین محمد
لندن میں برطانیہ کا پہلا کری ہاؤس کھولا اور شیمپوئنگ متعارف کروائی
1807 اور 1833
1807: غلاموں کی تجارت پر پابندی؛ 1833: ایمنسیپیشن ایکٹ نے سلطنت میں غلامی ختم کی؛ کویکرز، ولبرفورس
1776 اور 1783
1776: شمالی امریکہ کی 13 نوآبادیوں نے آزادی کا اعلان کیا؛ 1783: برطانیہ نے اسے تسلیم کیا
1805 ٹرافالگر
نیلسن جیتا مگر مارا گیا؛ اس کا کالم ٹرافالگر اسکوائر میں ہے اور HMS Victory پورٹس متھ میں
1815 واٹر لو
"آہنی ڈیوک" ویلنگٹن نے نپولین کو ہرایا اور بعد میں وزیرِ اعظم بنا
1801 یونین فلیگ
سینٹ جارج + سینٹ اینڈریو + سینٹ پیٹرک؛ ویلز کا ڈریگن نہیں
1837 تا 1901 وکٹوریہ
18 سال کی عمر میں ملکہ بنی، تقریباً 64 سال حکومت کی؛ 400 ملین سے زیادہ لوگوں کی سلطنت
1846 اور 1847
1846: کارن لاز منسوخ (آزاد تجارت)؛ 1847: عورتوں اور بچوں کے کام کی حد دن میں 10 گھنٹے
1851 عظیم نمائش
ہائیڈ پارک کے کرسٹل پیلس میں ہوئی
برونیل
پورٹس متھ میں پیدا ہوا؛ گریٹ ویسٹرن ریلوے (پیڈنگٹن اسٹیشن)؛ اس کے بہت سے پل آج بھی استعمال میں ہیں
1853 تا 1856 کریمیا
روس کے خلاف جنگ؛ پہلی جنگ جس کی میڈیا نے بڑے پیمانے پر خبریں دیں؛ وکٹوریہ کراس؛ فلورنس نائٹنگیل
آئرلینڈ کا قحط
1 ملین مرے اور 1.5 ملین ملک چھوڑ گئے؛ فینینز آزادی چاہتے تھے، پارنیل ہوم رول
1832 اور 1867 کی اصلاحات
پاکٹ اور روٹن بوروز ختم؛ چارٹسٹوں نے مزدور طبقے کے ووٹ کے لیے مہم چلائی
سفرجیٹس (Suffragettes)
پینکھرسٹ نے 1903 میں WSPU قائم کرنے میں مدد دی؛ 1918 میں 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو ووٹ کا حق ملا، اور 1928 میں 21 سال کی عمر میں
1899 تا 1902 بوئر جنگ
جنوبی افریقہ میں ڈچ آبادکاروں کی اولاد کے خلاف لڑی گئی؛ کپلنگ کو 1907 میں نوبیل انعام ملا