حزبِ اختلاف، سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ
حزبِ اختلاف اور شیڈو کابینہ
دارالعوام میں جس جماعت کے ارکان کی تعداد دوسرے نمبر پر ہو، اسے حزبِ اختلاف (the opposition) کہا جاتا ہے۔ اگر یہ جماعت اگلے عام انتخابات جیت جائے تو عام طور پر اس کا رہنما وزیرِ اعظم بنتا ہے۔
حزبِ اختلاف کا کام حکومت کو چوکنا رکھنا ہے۔ اس کا رہنما، یعنی قائدِ حزبِ اختلاف، ہر اس کام پر تنقید کی قیادت کرتا ہے جسے ان کی جماعت کے خیال میں حکومت غلط یا برے طریقے سے کر رہی ہو۔ اس کا ایک اہم موقع وزیرِ اعظم سے سوالات (Prime Minister's Questions) کا وقفہ ہے، جو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دنوں میں ہفتے میں ایک بار ہوتا ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف اپنی جماعت کے سینئر ارکانِ پارلیمنٹ کو "شیڈو وزرا" (shadow ministers) کی ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ یہ سب مل کر شیڈو کابینہ (shadow cabinet) بناتے ہیں، جو حکومت کو چیلنج کرتی ہے اور متبادل پالیسیاں پیش کرتی ہے۔
حزبِ اختلاف کا سرکاری نام Her Majesty's Most Loyal Opposition (ملکہ معظمہ کی سب سے وفادار حزبِ اختلاف) ہے، کیونکہ حکومت کی مخالفت کرنا ملک سے بے وفائی کے برابر نہیں۔ وزیرِ اعظم سے سوالات کا وقفہ اب بدھ کو دوپہر 12 بجے ہوتا ہے۔ پہلے یہ ہفتے میں دو چھوٹی نشستیں ہوتی تھیں؛ ٹونی بلیئر (Tony Blair) نے 1997 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہیں بدھ کی ایک لمبی نشست میں بدل دیا، اور 2003 میں دارالعوام کے اوقات بدلنے پر یہ دوپہر 12 بجے منتقل ہو گئی۔
جماعتی نظام
آپ 18 سال کی عمر سے رکنِ پارلیمنٹ کا انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر امیدوار شاذ و نادر ہی جیتتے ہیں جب تک کہ کسی بڑی جماعت نے انہیں نامزد نہ کیا ہو۔ بڑی جماعتیں لیبر پارٹی (Labour Party)، کنزرویٹو پارٹی (Conservative Party) اور لبرل ڈیموکریٹس (Liberal Democrats) ہیں، اور ان کے علاوہ وہ جماعتیں جو اسکاٹ لینڈ، ویلز یا شمالی آئرلینڈ کے مفادات کی بات کرتی ہیں۔
کچھ ارکانِ پارلیمنٹ آزاد (independents) ہوتے ہیں: وہ کسی بڑی جماعت کا حصہ نہیں ہوتے، اور عموماً کسی ایک مسئلے پر مہم چلاتے ہیں جو ان کے مقامی علاقے کے لیے اہم ہو۔
بڑی جماعتیں ہمیشہ چاہتی ہیں کہ عام لوگ ان کے کام میں شامل ہوں: بحث مباحثے میں حصہ لیں، چندہ دیں، اور قومی اور مقامی انتخابی مہموں میں مدد کریں۔ زیادہ تر حلقوں میں ہر بڑی جماعت کی ایک مقامی شاخ ہوتی ہے، اور ہر جماعت اپنی پالیسیاں طے کرنے کے لیے ہر سال ایک کانفرنس کرتی ہے۔
پریشر گروپ اور لابی گروپ
پریشر اور لابی گروپ (Pressure and lobby groups) ایسی تنظیمیں ہیں جو حکومت کے کاموں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہیں، اور برطانوی سیاست میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ کچھ گروپ معاشرے کے کسی خاص حصے کی نمائندگی کرتے ہیں: مثلاً CBI (کنفیڈریشن آف برٹش انڈسٹری، Confederation of British Industry) برطانوی کاروبار کا نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ دوسرے کسی ایک مقصد کے لیے مہم چلاتے ہیں، جیسے ماحول کے لیے گرین پیس (Greenpeace)، یا انسانی حقوق کے لیے لبرٹی (Liberty)۔
کوئز
How often does Prime Minister's Questions take place while Parliament is sitting?
سوال اردو میں
جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیرِ اعظم سے سوالات (Prime Minister's Questions) کتنی بار ہوتے ہیں؟A: ہر ہفتے
B: ہر روز
C: مہینے میں ایک بار
D: سال میں ایک بار
جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیرِ اعظم سے سوالات (Prime Minister's Questions) ہر ہفتے ہوتے ہیں۔ یہ قائدِ حزبِ اختلاف کے لیے حکومت کی ناکامیوں اور کمزوریوں پر سوال اٹھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ روزانہ نہیں ہوتے، اور مہینے یا سال میں ایک بار سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میں
ان میں سے کون سا بیان درست ہے؟A: شیڈو کابینہ کے ارکان وزیرِ اعظم چنتا ہے۔
B: قائدِ حزبِ اختلاف اپنی جماعت کے سینئر ارکانِ پارلیمنٹ کو شیڈو وزرا کے طور پر چنتا ہے۔
قائدِ حزبِ اختلاف شیڈو کابینہ اپنی جماعت میں سے چنتا ہے۔ وزیرِ اعظم اصل کابینہ مقرر کرتا ہے۔