ایک آئین جو لکھا ہوا نہیں
آئین (constitution) کسی ملک پر حکومت کرنے کے اصولوں کی کتاب ہے۔ اس میں ملک چلانے میں مدد دینے والا ہر ادارہ شامل ہوتا ہے، اور وہ طریقے بھی جن سے ان کی طاقت قابو میں رکھی جاتی ہے۔ اس میں قوانین اور روایات (conventions) بھی شامل ہیں، یعنی ایسے طور طریقے جن پر سب عمل کرتے ہیں حالانکہ وہ قانون میں لکھے ہوئے نہیں ہیں۔
برطانیہ کا آئین کسی ایک دستاویز میں درج نہیں، اس لیے لوگ اسے غیر تحریری آئین (unwritten constitution) کہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ یا فرانس کے برعکس برطانیہ میں کبھی ایسا انقلاب نہیں آیا جس نے حکومت کا پورا نظام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہو۔ اس کے بجائے، اس کے سب سے اہم ادارے سیکڑوں برسوں میں آہستہ آہستہ پروان چڑھے۔
کیا آئین کو ایک جگہ لکھ دینا چاہیے؟ برطانوی لوگ اس پر متفق نہیں۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہیے۔ دوسروں کا خیال ہے کہ غیر تحریری آئین زیادہ لچکدار ہے اور حکومت کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کسی ایک دستاویز کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اصول ہی نہیں۔ برطانیہ کا آئین بہت سے ذرائع میں پھیلا ہوا ہے: 1215 کا میگنا کارٹا (Magna Carta)، 1689 کا بل آف رائٹس (Bill of Rights)، برسوں کے دوران پارلیمنٹ کے منظور کیے ہوئے قوانین، عدالتوں کے فیصلے، اور وہ روایات جن پر سب خاموشی سے عمل کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ اور اسرائیل جیسے ملک، جن کا کوئی ایک تحریری آئین نہیں، دنیا میں بہت کم ہیں۔
وہ ادارے جو ملک کو جوڑے رکھتے ہیں
برطانیہ کے نظامِ حکومت کے کئی حصے ہیں۔ بڑے حصے یہ ہیں:
- بادشاہت (the monarchy)
- پارلیمنٹ (Parliament)، جو دارالامرا (House of Lords) اور دارالعوام (House of Commons) پر مشتمل ہے
- وزیرِ اعظم (Prime Minister)
- کابینہ (the cabinet)
- عدلیہ (the judiciary)، یعنی عدالتیں
- پولیس (the police)
- سول سروس (the civil service)
- مقامی حکومت (local government)
اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی اپنی حکومتیں ہیں جنہیں کچھ اختیارات منتقل کیے گئے ہیں (devolved governments)؛ یہ کچھ معاملات پر اپنے قوانین بنا سکتی ہیں۔