اختیارات کی منتقلی: ایڈنبرا، کارڈف اور بیلفاسٹ

کہانی 11 میں سے 4

1997 سے مرکزی حکومت نے اپنے کچھ اختیارات ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کو سونپ دیے ہیں۔ اسے اختیارات کی منتقلی (devolution) کہتے ہیں، اور ایسے اختیارات کو منتقل شدہ (devolved) اختیارات کہا جاتا ہے: یوں وہاں کے لوگوں کو ان معاملات میں زیادہ آواز ملتی ہے جن کا ان پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ ویلز اسمبلی (Welsh Assembly) اور اسکاٹش پارلیمنٹ (Scottish Parliament) 1999 سے قائم ہیں۔ شمالی آئرلینڈ میں شمالی آئرلینڈ اسمبلی (Northern Ireland Assembly) ہے، اگرچہ اسے کئی بار معطل کیا جا چکا ہے۔

تو کون سے فیصلے لندن میں ہوتے ہیں، اور کون سے مقامی سطح پر؟

برطانوی حکومتمرکزی برطانوی حکومت کے پاس رہتے ہیں: دفاع، خارجہ امور، امیگریشن، ٹیکس اور سماجی تحفظ (سرکاری وظائف یا بینیفٹس)
منتقل شدہ (Devolved)بہت سی دوسری عوامی خدمات علاقائی حکومتیں (devolved governments) چلاتی ہیں، مثلاً تعلیم

تینوں علاقائی انتظامیہ میں سے ہر ایک کی اپنی سول سروس بھی ہے۔

نقشہ: لندن میں ویسٹ منسٹر محل میں برطانوی پارلیمنٹ، ایڈنبرا میں ہولی رُوڈ کے مقام پر اسکاٹش پارلیمنٹ (129 MSPs)، کارڈف بے میں سینیڈ کی عمارت میں ویلز اسمبلی (60 AMs)، اور بیلفاسٹ میں اسٹورمونٹ کے مقام پر شمالی آئرلینڈ اسمبلی
چاروں قانون ساز ادارے کہاں بیٹھتے ہیں، اور ان کے ارکان کیا کہلاتے ہیں۔ امتحان کے سوالات میں اکثر MP، MSP، AM اور MLA کو گڈمڈ کیا جاتا ہے، اس لیے ہر ایک کو اس کی جگہ سے جوڑ کر یاد رکھیں تو آپ الجھن میں نہیں پڑیں گے۔ شمالی آئرلینڈ اسمبلی کے 108 MLAs ہیں۔

کوئز

Which TWO areas of policy stay under the control of the UK government, and are not devolved?

سوال اردو میںپالیسی کے کون سے دو شعبے برطانوی حکومت کے اختیار میں رہتے ہیں اور علاقائی حکومتوں کو منتقل نہیں کیے گئے؟
A: تعلیم
B: دفاع
C: صحت
D: امیگریشن

باب کی فہرست: پارلیمنٹ اور انتخابات