برطانیہ بہت سے پارلیمانی علاقوں میں بٹا ہوا ہے جنہیں حلقے (constituencies) کہتے ہیں۔ ہر حلقہ ایک رکنِ پارلیمنٹ (MP) چنتا ہے، اور یہ سب ارکان مل کر دارالعوام (House of Commons) بناتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں۔ دارالعوام کو زیادہ اہم ایوان سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے ارکان کو عوام جمہوری انتخابات میں چنتے ہیں۔ وزیرِ اعظم اور کابینہ کے تقریباً تمام ارکان دارالعوام ہی میں بیٹھتے ہیں۔ ہر ایم پی ایک حلقے کی دیکھ بھال کرتا ہے، جو ملک کا ایک چھوٹا سا علاقہ ہوتا ہے۔
ایک ایم پی کے کام کے چار حصے ہیں:
حلقے کے تمام لوگوں کی نمائندگی کرنا
نئے قوانین بنانے میں مدد کرنا
حکومت کے کام کی جانچ پڑتال کرنا اور اس پر رائے دینا
اہم قومی مسائل پر بحث کرنا
کوئز
Which TWO of the following are responsibilities of an MP?
سوال اردو میںان میں سے کون سی دو باتیں ایک ایم پی کی ذمہ داریاں ہیں؟ A: اپنے حلقے میں رہنے والے ہر شخص کی نمائندگی کرنا B: عدالتوں میں ججوں کا تقرر کرنا C: حکومت جو کچھ کر رہی ہے اس کی جانچ پڑتال کرنا اور اس پر رائے دینا D: مسلح افواج کی کمان کرنا
ایک ایم پی کے چار کام ہیں: حلقے کے تمام لوگوں کی نمائندگی کرنا (صرف ان کی نہیں جنہوں نے اسے ووٹ دیا)، قوانین بنانے میں مدد کرنا، حکومت پر نظر رکھنا، اور قومی مسائل پر بحث کرنا۔ ججوں کا تقرر کرنا اور مسلح افواج کی کمان کرنا ایم پی کے کام کا حصہ نہیں۔
دارالامراء: وہ ایوان جس کے لیے انتخابات نہیں ہوتے
پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان دارالامراء (House of Lords) ہے۔ اس کے ارکان کو پیئر (peers) کہا جاتا ہے۔ ووٹر انہیں منتخب نہیں کرتے، اور وہ کسی حلقے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ پچھلے تقریباً 50 برسوں میں دارالامراء کے کام اور اس کے ارکان، دونوں میں بہت تبدیلی آئی ہے:
1958 سے پہلےہر پیئر یا تو موروثی پیئر ہوتا تھا (یعنی جسے لقب اپنے خاندان سے ورثے میں ملا ہو)، یا کوئی سینئر جج، یا چرچ آف انگلینڈ (Church of England) کا کوئی بشپ
1958اب وزیرِ اعظم تاحیات پیئر (life peers) نامزد کر سکتا ہے: ان کا لقب صرف ان کی اپنی زندگی تک رہتا ہے اور ان کے بچوں کو منتقل نہیں ہو سکتا
1999موروثی پیئرز کو اب خود بخود نشست نہیں ملتی؛ اس کے بجائے وہ اپنے میں سے تھوڑے سے لوگوں کو ایوان میں بیٹھنے کے لیے چنتے ہیں
تاحیات پیئرز عام طور پر سیاست، کاروبار، قانون یا کسی اور پیشے میں اہم کام کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کا تقرر بادشاہ یا ملکہ وزیرِ اعظم کے مشورے پر کرتے ہیں۔ دوسری بڑی جماعتوں کے رہنما بھی نام تجویز کر سکتے ہیں، اور جو لوگ کسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے، انہیں ایک آزاد تقرری کمیشن (Appointments Commission) نامزد کرتا ہے۔
دارالامراء اپنی سرخ چمڑے کی نشستوں کے لیے مشہور ہے (دارالعوام میں یہ سبز ہیں)۔ سامنے کے سرے پر سنہرا تخت وہ جگہ ہے جہاں بادشاہ یا ملکہ ہر سال پارلیمنٹ کا افتتاح کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں۔
UK Government، Open Government Licence v3، بذریعہ Wikimedia Commons
تو دارالامراء کرتا کیا ہے؟
یہ عام طور پر دارالعوام کے مقابلے میں حکومت سے زیادہ آزاد ہوتا ہے۔
یہ قوانین میں تبدیلیاں تجویز کر سکتا ہے یا نئے قوانین پیش کر سکتا ہے، جن پر پھر ارکانِ پارلیمنٹ بحث کرتے ہیں۔
یہ دارالعوام کے منظور کیے ہوئے قوانین کا باریکی سے جائزہ لیتا ہے تاکہ یقین ہو جائے کہ وہ عملی طور پر کارآمد ہوں گے۔
یہ حکومت پر نظر رکھتا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ عوام کے بہترین مفاد میں کام کر رہی ہے۔
کچھ پیئرز کسی خاص شعبے کے ماہر ہوتے ہیں، اور ان کا علم قوانین بنانے اور جانچنے میں کام آتا ہے۔
اگر دونوں ایوانوں میں اختلاف ہو تو دارالعوام کو دارالامراء کا فیصلہ رد کرنے کا اختیار ہے، اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
کوئز
Since which year has the Prime Minister had the power to nominate life peers?
سوال اردو میںوزیرِ اعظم کو کس سال سے تاحیات پیئر (life peers) نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے؟
تاحیات پیئرز کا سلسلہ 1958 میں شروع ہوا۔ 1999 وہ سال ہے جب موروثی پیئرز کی خود بخود ملنے والی نشستیں ختم ہوئیں؛ 1928 میں مرد اور عورتیں دونوں 21 سال کی عمر میں ووٹ دے سکنے لگے؛ اور 1969 میں ووٹ کی عمر کم ہو کر 18 سال ہوئی۔ یہ چاروں سال آسانی سے گڈمڈ ہو جاتے ہیں، اور اکثر ایک ہی سوال میں آتے ہیں۔