1840 کی دہائی تا 1850 کی دہائی
دنیا کا کارخانہ: آزاد تجارت، کرسٹل پیلس اور برونیل
ملکہ وکٹوریہ کے طویل دورِ حکومت، یعنی وکٹورین دور میں، برطانیہ اب بھی ایک بڑی تجارتی قوم تھا۔ حکومت نے آزاد تجارت (free trade) پر زور دینا شروع کیا اور درآمدات پر لگے بہت سے ٹیکس ختم کر دیے۔ اس کی ایک مثال 1846 میں کارن لاز (Corn Laws) کی منسوخی تھی۔ یہ قوانین سستے غیر ملکی اناج کو ملک میں آنے سے روکتے تھے۔ ان اصلاحات کے بعد خام مال کم قیمت پر درآمد کیا جا سکتا تھا، جس سے برطانوی صنعت کو بڑھنے میں مدد ملی۔
1847 میں ایک نئے قانون نے طے کیا کہ عورتیں اور بچے دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کریں گے۔ مزدوروں کی رہائش بہتر ہونے لگی، اور کارخانوں کے حالات بھی۔ آمد و رفت کے ذرائع بھی بہتر ہوئے، اس لیے ملک بھر میں سامان اور لوگوں کو لانا لے جانا آسان ہو گیا۔
انیسویں صدی میں برطانیہ صنعت میں دنیا میں سب سے آگے تھا، اور دنیا کے آدھے سے زیادہ لوہے، کوئلے اور سوتی کپڑے کی پیداوار یہیں ہوتی تھی۔ یہ بیمہ (انشورنس) اور بینکاری جیسی مالیاتی خدمات کا مرکز بھی بن گیا۔
1851 کی عظیم نمائش
1851 میں لندن کے ہائیڈ پارک (Hyde Park) میں کرسٹل پیلس (Crystal Palace) کے اندر عظیم نمائش (Great Exhibition) کا افتتاح ہوا۔ اس میں بہت بڑی بڑی مشینوں سے لے کر ہاتھ سے بنی چیزوں تک سب کچھ دکھایا گیا۔ دنیا کے ہر حصے سے ملکوں نے اس میں حصہ لیا، لیکن نمائش کی زیادہ تر چیزیں برطانیہ میں بنی تھیں۔
برونیل: ریلوے، پلوں اور جہازوں کا انجینئر
ازمبارڈ کنگڈم برونیل (Isambard Kingdom Brunel، 1806 تا 1859) انگلینڈ کے شہر پورٹس متھ (Portsmouth) سے تھا۔ ایک انجینئر کے طور پر اس نے سرنگیں، پل، ریلوے لائنیں اور جہاز بنائے۔ وہ گریٹ ویسٹرن ریلوے (Great Western Railway) کی تعمیر کا نگران تھا، جس کی ٹرینیں لندن کے پیڈنگٹن اسٹیشن (Paddington Station) سے ویلز، ویسٹ مڈلینڈز اور جنوب مغربی انگلینڈ تک جاتی تھیں۔ آپ آج بھی اس کے بنائے ہوئے بہت سے پلوں سے گزر سکتے ہیں، جیسے ایون گھاٹی (Avon Gorge) پر بنا کلفٹن سسپنشن برج (Clifton Suspension Bridge)۔
برونیل کا والد فرانس سے تعلق رکھنے والا ایک انجینئر تھا۔ برونیل نے کلفٹن کے پل کا نقشہ جوانی میں بنایا تھا، لیکن پیسے ختم ہو جانے کی وجہ سے برسوں کام رکا رہا، اور یہ پل 1864 میں جا کر مکمل ہوا، اس کی وفات کے پانچ سال بعد۔ 2002 میں بی بی سی (BBC) نے "100 عظیم ترین برطانوی" (100 Greatest Britons) چننے کے لیے عوامی ووٹنگ کروائی، اور برونیل چرچل (Churchill) کے بعد دوسرے نمبر پر آیا۔
کوئز
In 1847, a new law set a maximum working day for women and children. How long was it?
سوال اردو میں
1847 میں ایک نئے قانون نے عورتوں اور بچوں کے کام کے گھنٹوں کی حد مقرر کی۔ یہ حد کتنی تھی؟1847 کے قانون کے تحت عورتیں اور بچے دن میں زیادہ سے زیادہ 10 گھنٹے کام کر سکتے تھے۔ اس سے پہلے مزدوروں کی حفاظت کا کوئی قانون نہیں تھا، اور بچوں سے اکثر بڑوں جیسا ہی سلوک ہوتا تھا۔
کوئز
Which TWO statements about free trade in the Victorian period are correct?
سوال اردو میں
وکٹورین دور کی آزاد تجارت (free trade) کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟A: کارن لاز 1846 میں سستا غیر ملکی اناج روکنے کے لیے بنائے گئے۔
B: حکومت نے ملک میں آنے والی چیزوں پر لگے بہت سے ٹیکس ختم کر دیے۔
C: آزاد تجارت نے برطانوی صنعت کے لیے خام مال مہنگا کر دیا۔
D: کارن لاز، جو سستے درآمدی اناج کو روکتے تھے، 1846 میں منسوخ کر دیے گئے۔
حکومت نے بہت سے درآمدی ٹیکس ختم کر کے آزاد تجارت کو فروغ دیا۔ 1846 میں کارن لاز (Corn Laws) منسوخ کیے گئے، جو سستے اناج کو ملک میں آنے سے روکتے تھے۔ A بات کو الٹ دیتا ہے: 1846 میں کارن لاز ختم ہوئے، شروع نہیں ہوئے۔ C بھی غلط ہے: سستے درآمدی خام مال سے برطانوی صنعت کو ترقی میں مدد ملی۔
کوئز
Which engineer was responsible for building the Great Western Railway?
سوال اردو میں
گریٹ ویسٹرن ریلوے (Great Western Railway) بنانے کا ذمہ دار کون سا انجینئر تھا؟A: رچرڈ آرک رائٹ
B: جارج اسٹیفنسن
C: ازمبارڈ کنگڈم برونیل
D: سر کرسٹوفر رین
برونیل (Brunel) نے گریٹ ویسٹرن ریلوے بنائی، جو لندن کے پیڈنگٹن اسٹیشن سے جنوب مغربی انگلینڈ، ویسٹ مڈلینڈز اور ویلز تک جاتی تھی۔ جارج اسٹیفنسن (George Stephenson) اور اس کے بیٹے رابرٹ نے بھاپ کے ریل انجن کی راہ ہموار کی؛ آرک رائٹ (Arkwright) نے کتائی کی ملیں بنائیں؛ اور رین (Wren) نے 1666 کی بڑی آگ کے بعد سینٹ پال کیتھیڈرل کا ڈیزائن بنایا۔
کوئز
Where was the Great Exhibition of 1851 held?
سوال اردو میں
1851 کی عظیم نمائش (Great Exhibition) کہاں منعقد ہوئی؟عظیم نمائش کرسٹل پیلس میں ہوئی، جو خاص طور پر اسی کے لیے ہائیڈ پارک میں بنایا گیا تھا۔ ویسٹ منسٹر ایبی (Westminster Abbey) وہ جگہ ہے جہاں بادشاہوں اور ملکاؤں کی تاج پوشی ہوتی ہے، ٹرافالگر اسکوائر میں نیلسن کالم ہے، اور ٹاور آف لندن (Tower of London) قرونِ وسطیٰ کا ایک قلعہ ہے۔