1637 تا 1642
انگلش خانہ جنگی
چارلس اول (Charles I)، وہ بادشاہ جو بادشاہوں کے الٰہی حق (Divine Right of Kings) پر یقین رکھتا تھا، پارلیمنٹ سے زیادہ سے زیادہ ٹکراتا گیا۔ آخری چنگاری ایک دعاؤں کی کتاب بنی۔ چارلس اول چاہتا تھا کہ چرچ آف انگلینڈ (Church of England) کی عبادت میں زیادہ رسمیں ہوں، اس لیے اس نے دعاؤں کی ایک نظرثانی شدہ کتاب (Prayer Book) جاری کی۔ اس نے اسکاٹ لینڈ کے پریسبیٹیرین (Presbyterian) چرچ کو بھی اسے استعمال کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ اسکاٹ لوگ سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے ایک فوج کھڑی کر لی۔
1637 میں جب ایڈنبرا (Edinburgh) کے سینٹ جائلز کیتھیڈرل (St Giles' Cathedral) میں پہلی بار نئی دعاؤں کی کتاب استعمال ہوئی تو عبادت ہنگامے میں بدل گئی۔ مشہور کہانی کے مطابق جینی گیڈس (Jenny Geddes) نام کی بازار میں سودا بیچنے والی ایک عورت کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے اپنا اسٹول (بیٹھنے کی چوکی) پادری پر دے مارا۔ مؤرخین کو یقین نہیں کہ وہ کبھی حقیقت میں موجود بھی تھی، اس لیے یہ غالباً ایک داستان ہے، لیکن کیتھیڈرل میں آج بھی اس کی یاد میں ایک مجسمہ موجود ہے۔
چارلس اول کے پاس اسکاٹس کے خلاف فوج کا خرچ اٹھانے کے لیے پیسہ نہیں تھا، اس لیے 1640 میں اسے پارلیمنٹ بلا کر رقم مانگنی پڑی۔ لیکن اس کے بہت سے ارکان پیوریٹن (Puritans) تھے: یعنی ایسے پروٹسٹنٹ جو چاہتے تھے کہ مذہبی تعلیم اور عبادت سخت اور سادہ ہو۔ انہیں بادشاہ کے مذہبی خیالات پسند نہیں تھے، اور جب اسکاٹ فوج انگلینڈ میں داخل ہو چکی تھی تب بھی پارلیمنٹ نے اسے پیسہ دینے سے انکار کر دیا۔
پھر آئرلینڈ میں بھی بغاوت پھوٹ پڑی، کیونکہ آئرش کیتھولک پیوریٹنز کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ تھے۔ پارلیمنٹ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور انگریز فوج کا کنٹرول مانگ لیا، جس سے بادشاہ کی بہت سی طاقت چھن جاتی۔ چارلس آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ پارلیمنٹ کے پانچ رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے خود دارالعوام میں جا پہنچا، لیکن کسی نے انہیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا اور وہ جا چکے تھے۔
اس دن کے بعد سے آج تک کسی بادشاہ یا ملکہ نے دارالعوام کے اندر قدم نہیں رکھا۔ ہر سال پارلیمنٹ کے سرکاری افتتاح (State Opening of Parliament) کے موقع پر ایک سرکاری عہدے دار، جسے "بلیک راڈ" (Black Rod) کہتے ہیں، بادشاہ یا ملکہ کی طرف سے ارکانِ پارلیمنٹ (MPs) کو بلانے آتا ہے، اور جب وہ دارالعوام کے دروازے تک پہنچتا ہے تو ارکان زور سے دروازہ اس کے سامنے بند کر دیتے ہیں۔ پھر بلیک راڈ کو تین بار دستک دینی پڑتی ہے، تب جا کر اسے اندر آنے دیا جاتا ہے۔ یہ رسم یاد دلاتی ہے کہ دارالعوام بادشاہ یا ملکہ کو زبردستی اندر گھسنے نہیں دے گا۔
1642 میں بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان خانہ جنگی چھڑ گئی۔ ملک دو فریقوں میں بٹ گیا:
بادشاہ کے حامی۔ لمبے گھنگریالے بالوں اور پروں والی ٹوپیوں کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے حامی۔ یہ نام (یعنی "گول سر") ان میں سے کچھ لوگوں کے چھوٹے کٹے ہوئے بالوں کی وجہ سے پڑا۔
کوئز
Which TWO statements about the English Civil War are correct?
سوال اردو میں
انگلش خانہ جنگی کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟A: کیولیئرز وہ لوگ تھے جو بادشاہ کے حامی تھے۔
B: راؤنڈ ہیڈز وہ لوگ تھے جو بادشاہ کے حامی تھے۔
C: یہ جنگ 1745 میں شروع ہوئی جب بونی پرنس چارلی اسکاٹ لینڈ میں اترا۔
D: راؤنڈ ہیڈز وہ لوگ تھے جو پارلیمنٹ کے حامی تھے۔
کیولیئرز بادشاہ کے ساتھ تھے؛ راؤنڈ ہیڈز پارلیمنٹ کے ساتھ۔ جنگ 1642 میں شروع ہوئی۔ C میں دیا گیا سال 1745 بونی پرنس چارلی (Bonnie Prince Charlie) کی قیادت میں ہونے والی جیکبائٹ (Jacobite) بغاوت کا ہے، جو ایک صدی بعد ہوئی۔ یاد رکھنے کا ایک طریقہ: "Cavalier" کا تعلق "cavalry" یعنی گھڑ سوار فوج سے ہے، جیسے وہ نائٹ (سورما) جو بادشاہ کی خدمت کرتے تھے۔