1689 تا 1695

بل آف رائٹس: آئینی بادشاہت کا آغاز

کہانی 10 میں سے 10

شاندار انقلاب (Glorious Revolution) کے بعد، ولیم سوم اور میری دوم کی تاج پوشی پر حقوق کا ایک اعلامیہ (Declaration of Rights) پڑھ کر سنایا گیا۔ اس نے تصدیق کی کہ بادشاہ اب پارلیمنٹ کی رضامندی کے بغیر نہ ٹیکس لگا سکتا ہے اور نہ عدالتیں چلا سکتا ہے۔ اب سے تاج (یعنی بادشاہت) اور پارلیمنٹ کے درمیان طاقت بالکل مختلف طریقے سے بٹ گئی، اور پھر کبھی پہلے جیسی نہیں ہوئی۔

پھر 1689 کے بل آف رائٹس (Bill of Rights) نے قانون میں لکھ دیا کہ پارلیمنٹ کے کیا حقوق ہیں اور بادشاہ کی طاقت کی حد کہاں تک ہے:

بادشاہ یا ملکہ کون بنے، یہ پارلیمنٹ طے کرتی ہے، اور بادشاہ یا ملکہ کا پروٹسٹنٹ ہونا لازمی ہے
کم از کم ہر 3 سال بعد نئی پارلیمنٹ کا انتخاب لازمی ہے
ہر سال بادشاہ کو فوج اور بحریہ کے خرچ کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینی ہوتی ہے
نتیجہ: بادشاہ کو ایسے وزیروں کی ضرورت پڑی جو دونوں ایوانوں میں اکثریت کے ووٹ حاصل کر سکیں

وِگز اور ٹوریز: پارٹی سیاست کا آغاز

پارلیمنٹ میں دو بڑے گروہ بن گئے: وِگز (Whigs) اور ٹوریز (Tories)۔ یہیں سے پارٹی سیاست شروع ہوئی۔ آج کی کنزرویٹو پارٹی (Conservative Party) کو اب بھی کبھی کبھی ٹوریز کہا جاتا ہے۔

دونوں پارٹیوں کے نام ان کے مخالفین کے دیے ہوئے طنزیہ ناموں کے طور پر شروع ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ "وِگ" (Whig) ایک اسکاٹش لفظ سے آیا ہے جو باغی پریسبیٹیرینز کی توہین کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور "ٹوری" (Tory) ایک آئرش لفظ سے آیا ہے جس کا مطلب ہے قانون سے بھاگا ہوا مجرم یا ڈاکو۔ کافی عرصے تک ان ناموں سے پکارے جانے کے بعد دونوں فریق انہیں فخر سے استعمال کرنے لگے۔

آزاد پریس اور آئینی بادشاہت

1688 کے بعد کے سال آزاد پریس کے لیے بھی بہت اہم تھے، یعنی ایسے اخبارات اور دوسرا چھپا ہوا مواد جن پر حکومت کا کنٹرول نہ ہو۔ 1695 سے کوئی بھی شخص پہلے حکومت سے لائسنس لیے بغیر اخبار شائع کر سکتا تھا، اور اخبارات کی تعداد تیزی سے بڑھی۔

1688 کے بعد کے نئے قوانین آئینی بادشاہت (constitutional monarchy) کا آغاز تھے، یعنی ایسا نظام جس میں بادشاہ یا ملکہ کو پارلیمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر رہ کر حکومت کرنی ہوتی ہے۔ بادشاہ اب بھی بہت اہم تھا، لیکن کوئی ایسی پالیسی یا قدم زبردستی نافذ نہیں کر سکتا تھا جس کی پارلیمنٹ مخالف ہو۔ ولیم سوم کے بعد بادشاہ کے وزیر آہستہ آہستہ بادشاہ سے زیادہ طاقتور ہوتے گئے۔

لیکن یہ ابھی جدید جمہوریت نہیں تھی۔ بہت کم لوگ ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے ووٹ دے سکتے تھے: صرف وہ مرد جن کے پاس ایک خاص مقدار میں جائیداد ہو، اور عورتیں بالکل ووٹ نہیں دے سکتی تھیں۔ کچھ علاقوں میں ایک امیر خاندان طے کرتا تھا کہ کون منتخب ہوگا؛ ان نشستوں کو "پاکٹ بورو" (pocket boroughs)، یعنی "جیب میں پڑے حلقے"، کہا جاتا تھا۔ کچھ دوسری نشستوں پر ووٹ دینے والا تقریباً کوئی تھا ہی نہیں؛ انہیں "روٹن بورو" (rotten boroughs)، یعنی "گلے سڑے حلقے"، کہا جاتا تھا۔

سب سے مشہور روٹن بورو سالزبری (Salisbury) کے قریب اولڈ سیرم (Old Sarum) تھا۔ وہاں تقریباً کوئی نہیں رہتا تھا: بس ایک ویران پہاڑی تھی اور چند زمیندار جن کے پاس ووٹ کا حق تھا۔ پھر بھی یہ حلقہ دو ارکانِ پارلیمنٹ منتخب کرتا رہا، یہاں تک کہ 1832 کے ریفارم ایکٹ (Reform Act) نے اسے ختم کر دیا۔

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? According to the Bill of Rights of 1689, only a Protestant could be king or queen.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: 1689 کے بل آف رائٹس کے مطابق صرف پروٹسٹنٹ ہی بادشاہ یا ملکہ بن سکتا تھا۔

دور کی فہرست: 1600 تا 1700