1660 تا 1679
بادشاہت کی بحالی: چارلس دوم کی واپسی
1658 میں لارڈ پروٹیکٹر اولیور کرامویل (Oliver Cromwell) کی موت کے بعد جمہوریہ بغیر رہنما کے رہ گئی۔ مئی 1660 میں پارلیمنٹ نے سزائے موت پانے والے بادشاہ چارلس اول کے بیٹے چارلس دوم سے، جو نیدرلینڈز (Netherlands) میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا، وطن واپس آنے کی درخواست کی۔ وہ انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کا بادشاہ چارلس دوم (Charles II) بنا۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ پھر کبھی "اپنے سفر پر نکلنا" (to go on his travels) نہیں چاہتا، یعنی دوبارہ جلاوطن نہیں ہونا چاہتا۔
چارلس دوم جانتا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی من مانی نہیں کر سکتا؛ کبھی کبھی اسے پارلیمنٹ کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ زیادہ تر معاملات میں پارلیمنٹ نے اس کے کاموں کی حمایت کی۔ چرچ آف انگلینڈ ایک بار پھر سرکاری چرچ بن گیا، اور نہ کیتھولکوں کو اقتدار میں کوئی حصہ دیا گیا، نہ پیوریٹنز کو۔
1665: عظیم طاعون
1665 میں لندن میں ایک خوفناک طاعون (عظیم طاعون، Great Plague) پھیل گیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، اور سب سے زیادہ نقصان غریب ترین علاقوں کا ہوا۔ یہ گلٹی دار طاعون (bubonic plague) تھا، جس کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہ چوہوں پر رہنے والے پسوؤں سے پھیلتا تھا۔ زیادہ تر اندازوں کے مطابق اس سال 70,000 سے 100,000 تک لندن والے مارے گئے، یعنی شہر کا تقریباً ہر پانچواں یا چھٹا شخص۔ جن گھروں میں کسی کو یہ بیماری لگ جاتی انہیں بند کر دیا جاتا، دروازے پر سرخ صلیب بنا دی جاتی اور اس کے ساتھ لکھ دیا جاتا: "Lord have mercy upon us"، یعنی "اے خداوند، ہم پر رحم کر"۔ امیر لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ گئے، اور بادشاہ چارلس دوم کا دربار بھی لندن سے باہر چلا گیا۔
1666: لندن کی بڑی آگ
اگلے سال، 2 ستمبر 1666 کی صبح سویرے، پڈنگ لین (Pudding Lane) میں ایک نانبائی کی دکان سے آگ شروع ہوئی۔ لندن کے زیادہ تر مکان لکڑی کے بنے تھے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے، گرمیوں کا موسم بہت خشک رہا تھا اور تیز ہوا چل رہی تھی، اس لیے آگ چار دن تک بے قابو بھڑکتی رہی۔ اس بڑی آگ (Great Fire) نے سٹی آف لندن کا زیادہ تر حصہ، تقریباً 13,000 مکان، تباہ کر دیا، جن میں بہت سے چرچ اور پرانا سینٹ پال کیتھیڈرل (St Paul's Cathedral) بھی شامل تھے۔
لندن میں رہنے والے ایک سرکاری افسر سیموئل پیپس (Samuel Pepys) نے اپنی ڈائری میں طاعون اور آگ دونوں کا حال لکھا۔ اس نے بیان کیا کہ اس نے اپنے باغ میں ایک گڑھا کھودا اور اس میں اپنی شراب اور ایک پارمیزان پنیر (Parmesan) دفن کر دیا، اس امید پر کہ یہ آگ سے بچ جائیں گے۔ یہ ڈائری کئی سال بعد چھپی، اور لوگ آج بھی اسے پڑھتے ہیں۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ آگ نے بیماری پھیلانے والے چوہوں کو جلا دیا اور یوں طاعون ختم ہو گیا۔ زیادہ تر مؤرخین اس سے متفق نہیں: طاعون آگ سے پہلے ہی کم ہو رہا تھا، اور شہر کی فصیل سے باہر کے غریب علاقے، جہاں طاعون سب سے زیادہ پھیلا تھا، کبھی جلے ہی نہیں۔ دونوں واقعات کا ایک کے بعد ایک ہونا غالباً محض اتفاق تھا۔
لندن دوبارہ تعمیر ہوا، اور نئے سینٹ پال کیتھیڈرل کا ڈیزائن مشہور ماہرِ تعمیرات سر کرسٹوفر رین (Sir Christopher Wren) نے بنایا۔
آج بڑی آگ کی یادگار، دی مونومنٹ (the Monument)، 61 میٹر اونچی ہے، جو ٹھیک اتنا ہی ہے جتنا اس کا فاصلہ اس جگہ سے ہے جہاں وہ نانبائی کی دکان تھی۔ رین خود سینٹ پال میں دفن ہے، اور اس کی قبر کے کتبے پر لاطینی میں لکھا ہے: "پڑھنے والے، اگر تم اس کی یادگار ڈھونڈ رہے ہو تو اپنے چاروں طرف دیکھو۔"
ہیبیس کارپس ایکٹ
1679 میں ہیبیس کارپس ایکٹ (Habeas Corpus Act) قانون بنا، اور یہ آج بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہیبیس کارپس (Habeas corpus) ایک لاطینی جملہ ہے جس کا تقریباً مطلب ہے "تمہیں اس شخص کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا"۔ اس ایکٹ نے یقینی بنایا کہ کسی کو بھی قانونی وجہ کے بغیر قید نہیں کیا جا سکتا، اور جیل میں قید ہر شخص کو یہ حق ہے کہ عدالت اس کا مقدمہ سنے۔
یہ قانون بڑی مشکل سے منظور ہوا۔ اس زمانے کے ایک بشپ، گلبرٹ برنیٹ (Gilbert Burnet)، کے مطابق جب دارالامرا میں اس پر ووٹنگ ہوئی تو ووٹ گننے والے ایک لارڈ نے مذاق میں ایک بہت موٹے لارڈ کو دس گن لیا، اور یوں قانون چند "اضافی" ووٹوں سے منظور ہو گیا۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جسے ثابت نہیں کیا جا سکتا، لیکن ریکارڈ سے یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ ووٹنگ میں مقابلہ بہت ہی کانٹے کا تھا۔
کوئز
Which architect designed the new St Paul's Cathedral after the Great Fire of London in 1666?
سوال اردو میں
1666 میں لندن کی بڑی آگ کے بعد نئے سینٹ پال کیتھیڈرل کا ڈیزائن کس ماہرِ تعمیرات نے بنایا؟رین۔ باقی تینوں بھی حقیقی برطانوی ڈیزائنر ہیں: انیگو جونز (Inigo Jones) نے بینکوئٹنگ ہاؤس ڈیزائن کیا، جہاں چارلس اول کو سزائے موت دی گئی؛ لٹینز (Lutyens) نے لندن میں سینوٹاف (Cenotaph) ڈیزائن کیا؛ اور کیپیبلٹی براؤن (Capability Brown) 18ویں صدی کا باغات کا ڈیزائنر تھا۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میں
ان میں سے کون سا بیان درست ہے؟A: 1679 کے ہیبیس کارپس ایکٹ نے ہر بالغ مرد کو ووٹ کا حق دیا۔
B: 1679 کے ہیبیس کارپس ایکٹ کے تحت کسی کو بھی قانونی وجہ کے بغیر جیل میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔
ہیبیس کارپس ایکٹ غیر قانونی قید سے بچنے کے حق اور عدالت میں سماعت کے حق کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کا ووٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس زمانے میں صرف وہی مرد ووٹ دے سکتے تھے جن کے پاس ایک خاص مقدار میں جائیداد ہو؛ تمام بالغ مردوں کو ووٹ کا حق 20ویں صدی میں جا کر ملا۔