2010 تا 2020

2010 تا 2020: مخلوط حکومت، ریفرنڈم اور بریگزٹ

کہانی 1 میں سے 1
کڑھائی کے انداز کی تصویر: رات کے آسمان تلے مرمت کے لیے پاڑ میں لپٹے الزبتھ ٹاور اور پارلیمنٹ کی عمارتیں، اور سامنے ایک بیلٹ باکس جس میں ایک بیلٹ پیپر ڈالا جانے والا ہے

لیبر پارٹی کے 13 سالہ دورِ حکومت کا خاتمہ مئی 2010 کے عام انتخابات پر ہوا، جن میں کسی پارٹی کو نشستوں کی اکثریت نہیں ملی۔ برطانیہ میں فروری 1974 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ کنزرویٹو اور لبرل ڈیموکریٹس (Liberal Democrats) نے مل کر مخلوط (coalition) حکومت بنائی۔ کنزرویٹو رہنما ڈیوڈ کیمرون (David Cameron) وزیرِ اعظم بنے، اور لبرل ڈیموکریٹ رہنما نک کلیگ (Nick Clegg) نائب وزیرِ اعظم۔

2015: غیر متوقع اکثریت

7 مئی 2015 کے عام انتخابات سے پہلے تقریباً ہر رائے شماری یہ پیش گوئی کر رہی تھی کہ پھر سے معلق پارلیمنٹ (hung parliament) بنے گی، یعنی کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی۔ اس کے بجائے کنزرویٹو پارٹی نے اتنی نشستیں جیت لیں کہ وہ اکیلے حکومت بنا سکے، جو 1992 کے بعد اس کی پہلی مکمل اکثریت تھی، اور ڈیوڈ کیمرون وزیرِ اعظم رہے۔ ان کے پرانے اتحادی، لبرل ڈیموکریٹس، 57 نشستوں سے گر کر صرف 8 پر آ گئے۔

اس نتیجے نے تقریباً سب کو حیران کر دیا۔ انتخابات کی رات 10 بجے جب بی بی سی (BBC) کا ایگزٹ پول آیا، تو اس میں لبرل ڈیموکریٹس کو صرف تقریباً 10 نشستیں دی گئیں۔ پارٹی کے ایک سابق رہنما پیڈی ایشڈاؤن (Paddy Ashdown) نے براہِ راست ٹیلی وژن پر کہا کہ اگر یہ پول درست نکلا تو وہ سب کے سامنے اپنی ٹوپی کھا لیں گے۔ اصل نتیجہ ان کی پارٹی کے لیے اس سے بھی برا تھا: صرف 8 نشستیں۔

23 جون 2016: یورپی یونین ریفرنڈم

کیمرون نے وعدہ کیا تھا کہ کنزرویٹو حکومت عوام کو فیصلہ کرنے دے گی کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہے یا نہیں۔ یہ ریفرنڈم (referendum، یعنی ایک سوال پر پورے ملک کا ووٹ) 23 جون 2016 کو ہوا۔ کیمرون نے رہنے کے حق میں مہم چلائی، لیکن نتیجہ تھوڑے سے فرق سے دوسری طرف گیا: 51.9 فیصد نے چھوڑنے اور 48.1 فیصد نے رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 72 فیصد سے زیادہ نے ووٹ ڈالا۔ انگلینڈ اور ویلز نے چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے زیادہ تر ووٹر رہنا چاہتے تھے۔ اگلی صبح کیمرون نے اعلان کیا کہ وہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

مے، جانسن اور وہ دن جب برطانیہ نکل گیا

13 جولائی 2016 کو تھریسا مے (Theresa May)، جو اس سے پہلے وزیرِ داخلہ (Home Secretary) تھیں، کیمرون کی جگہ وزیرِ اعظم بنیں۔ وہ مارگریٹ تھیچر کے بعد وزیرِ اعظم بننے والی دوسری خاتون تھیں۔ ان کا کام یورپی یونین کے ساتھ علیحدگی کی شرائط طے کرنا تھا، لیکن 2019 کے شروع میں ارکانِ پارلیمنٹ نے ان کا طے کردہ معاہدہ تین بار مسترد کر دیا، اور اسی سال مئی میں انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ لندن کے سابق میئر بورس جانسن (Boris Johnson) نے 24 جولائی 2019 کو ان کی جگہ لی۔ دسمبر 2019 میں انہوں نے "بریگزٹ مکمل کرو" (Get Brexit Done) کے نعرے کے ساتھ عام انتخابات کرائے اور بڑی اکثریت حاصل کی۔

برطانوی وقت کے مطابق 31 جنوری 2020 کو رات 11 بجے برطانیہ باضابطہ طور پر یورپی یونین سے نکل گیا، شامل ہونے کے 47 سال بعد۔ اس علیحدگی کو بریگزٹ (Brexit) کہا جانے لگا، جو "برٹش ایگزٹ" (British exit) کا مختصر ہے۔ ہماری کہانی بھی یہیں ختم ہوتی ہے۔

یہ لمحہ خاموشی سے گزرا۔ کچھ لوگ چاہتے تھے کہ رات 11 بجے بگ بین (Big Ben) بجے، لیکن الزبتھ ٹاور (Elizabeth Tower) کی مرمت کی وجہ سے گھنٹا خاموش کر دیا گیا تھا، اس لیے یہ خیال چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بجائے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (10 Downing Street) کی دیوار پر الٹی گنتی والی گھڑی دکھائی گئی۔ رائل منٹ (Royal Mint) نے 31 جنوری 2020 کی تاریخ والا 50 پینس کا سکہ بھی جاری کیا، جس پر یہ الفاظ لکھے ہیں: "Peace, prosperity and friendship with all nations" (تمام قوموں کے ساتھ امن، خوشحالی اور دوستی)۔

پتھر کے دور (Stone Age) میں لوگ برطانیہ سے پیدل چل کر یورپ کی سرزمین تک جا سکتے تھے؛ 2020 میں برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا۔ ان دو لمحوں کے درمیان کی طویل تاریخ نے اس ملک کو وہ بنایا ہے جو وہ آج ہے۔

کوئز

In the referendum of 23 June 2016, what share of the vote went to leaving the European Union?

سوال اردو میں23 جون 2016 کے ریفرنڈم میں یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں کتنے فیصد ووٹ پڑے؟

کوئز

Which TWO of the following statements are correct?

سوال اردو میںدرج ذیل میں سے کون سے دو بیانات درست ہیں؟
A: تھریسا مے جولائی 2016 میں، یورپی یونین ریفرنڈم کے چند ہفتے بعد، وزیرِ اعظم بنیں۔
B: بورس جانسن نے 2016 میں ڈیوڈ کیمرون کی جگہ وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا۔
C: برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی 31 جنوری 2020 کو نافذ ہوئی۔
D: 2015 کے عام انتخابات کے نتیجے میں ایک اور مخلوط حکومت بنی۔

اہم نکات

1942: بیورج رپورٹ (Beveridge Report)پانچ بڑی برائیاں: محتاجی، بیماری، جہالت، گندگی، بے کاری (Want, Disease, Ignorance, Squalor, Idleness)؛ فلاحی ریاست کی بنیاد
1944: بٹلر ایکٹ (Butler Act)آر اے بٹلر (کنزرویٹو) کا تعلیمی ایکٹ: انگلینڈ اور ویلز میں مفت ثانوی تعلیم
1945: ایٹلیلیبر حکومت: فلاحی ریاست؛ ریلوے، کوئلے کی کانیں، گیس، پانی اور بجلی قومی ملکیت میں
1947: آزادیہندوستان، پاکستان اور سیلون (سری لنکا) سمیت نو ممالک
1948: این ایچ ایس (NHS)نائی بیون این ایچ ایس قائم کرتے ہیں؛ اسی سال ویسٹ انڈیز کے لوگوں کو برطانیہ میں کام کی دعوت دی جاتی ہے
ڈلن ٹامس / روالڈ ڈالڈلن ٹامس: ویلز کے شاعر، Under Milk Wood، سوانزی۔ روالڈ ڈال: ویلز میں نارویجن والدین کے ہاں پیدا ہوئے، دوسری عالمی جنگ میں رائل ایئر فورس، Charlie and the Chocolate Factory
ہجرتویسٹ انڈیز میں بس ڈرائیوروں کی بھرتی؛ ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ کمپنیوں نے بھارت اور پاکستان میں بھرتی کی؛ بعد میں بنگلہ دیش سے بھی؛ 1970 کی دہائی کے شروع میں یوگنڈا سے 28,000 ہندوستانی نژاد لوگ
تبدیلی کی ہوا (wind of change)نوآبادیات کے خاتمے پر میکملن کی تقریر؛ 1951 تا 1964 کنزرویٹو اقتدار میں
1960 کی دہائیسوئنگنگ سکسٹیز: بیٹلز، رولنگ اسٹونز؛ طلاق اور اسقاطِ حمل کے قوانین نرم؛ مساوی تنخواہ؛ کونکورڈ
ایجاداتجنگ سے پہلے: ٹی وی، بیئرڈ (1932، لندن سے گلاسگو)؛ ریڈار، واٹسن واٹ (1935)؛ ٹیورنگ مشین؛ انسولین، میکلوڈ؛ جیٹ انجن، وِٹل (فلیمنگ اور پینسلین کی اپنی الگ کہانی ہے)۔ جنگ کے بعد: ریڈیو دوربین، لوول؛ ہوور کرافٹ، کوکریل؛ کونکورڈ اور ہیریئر؛ ڈی این اے، کرک، 1953؛ کیش مشین، گڈفیلو، 1967؛ آئی وی ایف، اولڈہم، 1978؛ ڈولی بھیڑ، 1996؛ ایم آر آئی، مینسفیلڈ؛ ورلڈ وائیڈ ویب، برنرز لی، 1990
1970 کی دہائیخوشحالی کا خاتمہ، ادائیگیوں کے توازن کے مسائل، ہڑتالیں؛ 1972 سے شمالی آئرلینڈ پر براہِ راست حکومت؛ تقریباً 3,000 اموات
میری پیٹرز (Mary Peters)1972 میں اولمپک پینٹاتھلون میں طلائی تمغہ؛ شمالی آئرلینڈ میں کھیلوں اور سیاحت کا فروغ
EEC / یورپی یونینچھ ممالک نے 1957 میں EEC قائم کی؛ 1993 میں یہ یورپی یونین کا حصہ بنی؛ برطانیہ رکن تھا لیکن یورو استعمال نہیں کرتا تھا، اور 31 جنوری 2020 کو نکل گیا
1979: تھیچرپہلی خاتون وزیرِ اعظم، کنزرویٹو؛ نجکاری، یونینوں پر پابندیاں؛ 1982 میں فاک لینڈ کی جنگ
1990: میجرشمالی آئرلینڈ کا امن عمل شروع کرنے میں مدد دی
1997: بلیئرلیبر؛ اسکاٹش پارلیمنٹ اور ویلش اسمبلی؛ 1998 میں گڈ فرائیڈے معاہدہ
شمالی آئرلینڈ اسمبلی1999 میں منتخب، 2002 میں معطل، 2007 میں بحال
2007 / 2010براؤن وزیرِ اعظم بنتے ہیں؛ 2010 میں کنزرویٹو اور لبرل ڈیموکریٹس کی مخلوط حکومت، کیمرون وزیرِ اعظم
2015کنزرویٹو اکثریت؛ کیمرون وزیرِ اعظم رہتے ہیں
2016: ریفرنڈم23 جون: 51.9 فیصد چھوڑنے اور 48.1 فیصد رہنے کے حق میں؛ 13 جولائی کو تھریسا مے وزیرِ اعظم بنتی ہیں
2019 / 202024 جولائی 2019 سے بورس جانسن وزیرِ اعظم؛ 31 جنوری 2020 کو برطانیہ باضابطہ طور پر یورپی یونین سے نکل جاتا ہے

دور کی فہرست: 2000 تا 2020