گھریلو تشدد: جرم ہے، چاہے بند دروازوں کے پیچھے ہو

کہانی 6 میں سے 5
کڑھائی کے انداز کی تصویر: رات کے وقت قطار میں بنے مکانات، درمیان والے گھر میں روشنی جل رہی ہے، اور دروازے کے باہر چمکتی نیلی بتی کے پاس ایک پولیس افسر کھڑا ہے

برطانیہ میں گھر کے اندر تشدد "خاندان کا نجی معاملہ" نہیں ہے۔ یہ ایک سنگین جرم ہے۔

اگر آپ گھریلو تشدد کا شکار ہیں، تو جتنی جلدی مدد لیں، اتنا ہی بہتر ہے۔ کوئی سولیسٹر (solicitor)، یعنی ایک قسم کا وکیل، یا سٹیزنز ایڈوائس (Citizens Advice) آپ کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کے پاس کیا راستے ہیں۔ کچھ علاقوں میں رہنے کے لیے محفوظ جگہیں ہوتی ہیں جنہیں ریفیوج (refuges) یا شیلٹر (shelters) کہتے ہیں۔

ایک مفت فون نمبر بھی ہے: گھریلو تشدد کی قومی مفت ہیلپ لائن (National Domestic Violence Freephone Helpline)، جس کا نمبر 0808 2000 247 ہے۔ یہ دن رات کھلی رہتی ہے، اور اگر بات نہ ہو سکے تو اس کی وائس میل پر پیغام چھوڑا جا سکتا ہے؛ ہیلپ لائن کی اپنی ویب سائٹ بھی ہے۔ ایک اور ذریعہ خیراتی ادارے ویمنز ایڈ (Women's Aid) کی ویب سائٹ ہے۔ اور ہنگامی صورت میں فوراً پولیس کو فون کریں۔ پولیس رہنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ ڈھونڈنے میں بھی آپ کی مدد کر سکتی ہے۔

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? In the UK, a married man who forces his wife to have sex can be charged with rape.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: برطانیہ میں اگر کوئی شادی شدہ مرد اپنی بیوی کو جنسی تعلق پر مجبور کرے تو اس پر ریپ (زنا بالجبر) کا مقدمہ چل سکتا ہے۔

کوئز

Is the statement below TRUE or FALSE? In the UK, violence towards a partner is only a crime if the couple are married.

سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: برطانیہ میں ساتھی پر تشدد صرف اسی صورت میں جرم ہے جب جوڑا شادی شدہ ہو۔

باب کی فہرست: بنیادی حقوق